Moderation in Islaam and prohibition of extremism – Shaykh Rabee’ bin Hadee Al-Madkhalee

دین میں اعتدال پسندی اپنانا اور غلووشدت پسندی کی مذمت   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: وسطـيــة الإســلام

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

اے سلفیوں! ہم اللہ تعالی کے لیے جس دین کا اعتقاد رکھتے ہيں وہ توسط (میانہ روی) اور اعتدال کو اپنانا ہے ہر چیز میں خواہ عقائد ہوں، یا عبادات، اخلاق ومناہج سب میں۔ ہم نے غلو کی مختلف شکلوں کے خلاف جنگ کی اور اب تک کررہے ہیں  خواہ وہ عقائد میں ہو یا عبادات یا اشخاص سے متعلق ہو۔ مگر یہ ستم ظریفی اور جھوٹ کی انتہاء ہے کہ ہم پر ہی اس کی تہمت لگادی جائے ایسے لوگوں کی طرف سے جن کا اس جنگ میں کوئی کردار ہی نہيں۔

اسی طرح سے ہم کوتاہی وتقصیر اور تمییع (بے جا نرمی) سے بھی لڑتے رہے ہيں اس کی ہر شکل میں خواہ وہ عقائد میں ہو یا عبادات واخلاق، یا اشخاص وجماعتوں کے متعلق، اور اب تک لڑ رہے ہيں۔  اور یہاں بھی وہی ستم ظریفی اور جھوٹ کی انتہاء ہے کہ ہم پر ہی اس کی بھی تہمت لگادی جاتی ہے۔

ہم ان تمام باتوں کو بروئے کار لاتے ہیں یعنی میانہ روی اور اعتدال کو اپنانا اور اس کی جو متضاد باتیں ہیں ان سے لڑنا۔ اور اس سب میں ہم کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور منہج سلف صالحین کی روشنی میں چلتے ہیں، ہمیشہ اسی کی طرف دعوت دیتے ہيں اور اسی پر تربیت کرتے ہیں۔

جس کسی نے اس منہج کے علاوہ کسی منہج کو ہماری طرف منسوب کیا تو یقیناً اس نے ہم پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے۔

البتہ وسطیت ، میانہ روی واعتدال اسی طرح سے غلو یا تقصیر وبےجا نرمی کا میزان ومعیار کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور منہج سلف صالحین ہے۔ ناکہ اہل اہوا اور ان کے وہ فاسد مناہج جو دنیاوی مصلحتوں سے مربوط ہوتے ہیں۔