Rejecting the explanation of Ibn Abbaas (radiAllaaho anhuma) regarding the Ayat of Tehkeem – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

آیت تحکیم کی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رد کرنا

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح اصول السنۃ۔

پیشکش: میراث الانبیاء ڈاٹ نیٹ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آیتِ تحکیم یعنی ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾ (سورۃ المائدۃ: 44) (اور جو کوئی اللہ تعالی کے نازل کردہ  کے مطابق حکم نہیں کرتا تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں) کی تفسیر  کو رد کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ یہ آیت اپنے اطلاق پر ہی باقی رہے گی اس کی تخصیص کرنا جائز نہيں، اور جو اللہ تعالی کے نازل کردہ کے علاوہ حکم کرتا ہے تو وہ مطلقاً  کافر ہے، کیا ایسا شخص خوارج میں شمار ہوگا؟

جواب: بلاشبہ یہ خوارج کا مسلک ہے۔ جو کوئی آئمہ تفسیر کی مخالفت کرے جن میں سرفہرست سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور آئمہ حدیث وسنت کی، اور آئمہ عقیدہ ومنہج کی اس قسم کے خطرناک ونازک مسائل میں مخالفت کرے ، حالانکہ یہ عظیم اصول ہیں، تو بلاشبہ اس نے اہل سنت والجماعت کے طریقے اور منہج کے علاوہ منہج اختیار کیا ہے اور راسخین فی العلم علماء کرام کے منہج کے علاوہ منہج اختیار کیا ہے۔

پس ان لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حضور توبہ کریں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو تُرْجُمَانُ القرآن اور اس امت کے حَبْر(بڑے عالم) ہیں۔کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک ان کے اس درجے کو  اور دین میں ان کی امامت وفقاہت کو تسلیم کرتے تھے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے دین میں فقہ کی دعاء فرمائی تھی۔ اور آپ کے ہی نہج پر معتبر آئمہ اسلام چلتے رہے ہیں، البتہ خوارج نے اس آیت وغیرہ کی تفسیر میں ان کی مخالفت کی ہے۔

اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ اہل بدعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت کرتے ہوں، بلکہ وہ تو کتاب وسنت تک کی مخالفت کرتے ہيں۔ جی ہاں، اور میں ذکر کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کی یہ صفت بیان فرمائی کہ:

’’حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ‘‘([1])

(کمسن وکم عقل)۔

سمجھ گئے آپ میری بات۔

جو کوئی آج اس قسم کی تفسیر کرتے ہیں یہ یہی حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ لوگ ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ الْأَحْلَامِ‘‘([2])

(میری امت کی ہلاکت  چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی)۔

آج یہ چیختے پھرتے ہیں نوجوان، نوجوان! بیداری وانقلاب وغیرہ، امت کو ہلاک کرکے رکھ دیا ہےانہيں بھنورکی نذر کردیا ہے عقائد کی بھول بھلیاں، اور احکام کی، خون اور مال کے بارے میں، امت کا دینی اور دنیاوی اعتبار سے بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

میرے خیال سے بعض لوگ اس حدیث کو بنی امیہ پر فٹ کرتے ہيں لیکن میرے نزدیک یہ حدیث خوارج کی صفت بیان کرنے والی حدیث کے ہم آہنگ ہےکہ وہ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ہوں گے۔ اور اگرچہ یہ حدیث قریش کے بعض نوجوان کے متعلق ہی کیوں نہ ہو پھر بھی دوسرے اس سے بچے ہوئے نہیں ہیں کیونکہ بے شک یہ حدیث جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا خوارج کی صفت بیان کرنے والی حدیث کے ہم آہنگ ہےکہ وہ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ہیں۔ عقلی اعتبار سے یہ بالکل بیوقوف ہیں اور ان کی بیوقوفی ہی میں سے ہے کہ یہ صحابہ کرام کی تفسیر اور ان کی فقہ اور علماء امت وآئمہ اہل سنت کی فقہ کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ان خوارج کے لیے یہ ایک راستہ کھول کردیتے ہیں بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ خود ان خوارج کے راستے پر ہی گامزن ہیں جن کی صفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ہوں گے۔ یہ جو الغويلم اور الغُلَيِّم ہیں اس کا اطلاق ناقص العقل والدین پر بھی ہوتا ہے اور یہ ان کی بالکل کھلی وصریح صفت ہے۔

پس ہم اللہ تعالی سے دعاء کرتے ہیں کہ وہ امت کو ان کے شر سے عافیت میں رکھے۔ ان کے نزدیک تو علماء جاسوس اور ایجنٹ ہيں اور آخر تک جو وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں۔۔۔اور لوگوں کو علماء کرام سے متنفر کرتے ہیں اور انہیں ان حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ سے  اور خوارج وروافض کے آئمہ بدعت وضلات سے جوڑتے ہيں۔

 


[1] صحیح بخاری 3611۔

[2] صحیح بخاری 7058 الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ۔