The ruling of a son taking from his father's wealth without his knowledge? – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

بیٹے کا والد کے مال میں سے بنابتائے پیسے اٹھا لینے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاویٰ نور علی الدرب۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: بھائی/ع۔م۔ع۔ سوڈانی مقیم الداودمی سوال پوچھتے ہیں: اگر بیٹے کو کچھ مال کی ضرورت  ہو، اور وہ اپنے والد سے طلب کرے لیکن وہ اس کی طلب کو پورا نہ کرے، پس بیٹا مجبور ہوجائے والد کے مال میں سے پیسے چوری کرنے پر، اس طرح کہ باپکو علم ہی نہ ہو، تو کیا اس صورت میں بیٹے پر کچھ گناہ ہوگا؟

جواب: اس بارے میں تفصیل ہے۔ اگر والد اس کے نفقے اور خرچ میں تقصیر وکوتاہی کرتا ہے جبکہ بیٹا کمزور ہے اور کام نہیں کرسکتا یا عاجز ہے تو پھر بے شک وہ اپنے والد کے مال میں سے لے سکتا ہے، اور اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے، اگرچہ والد کے علم میں یہ بات نہ ہو۔ اسی طرح سے بیوی بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کے علم کے بغیر اتنا لے سکتی ہے جس سے اس کی اور اس کے بچوں کی ضروریات پوری ہوجائيں کیونکہ صحیح بخاری ومسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث ثابت ہےکہ سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے عرض کی:

’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:  خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ‘‘([1])

(یا رسول اللہ! بے شک ابو سفیان ایک شحیح یعنی بخیل آدمی ہے مجھے اتنا بھی نہیں دیتا کہ جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کفایت کرے، الا یہ کہ میں اس کے مال میں سے بغیر اس کے علم کے کچھ اٹھا لوں، کیا ایسا کرنے سے مجھ پر کچھ گناہ ہے؟ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے مال میں سے معروف طریقے سے اتنا اٹھا لیں جو آپ کے اور آپ کے بچوں کے لیے کافی ہو)۔

چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی کہ وہ ان کے مال میں سے معروف طور پر اتنا لے لیں جو انہیں اور ان کی اولاد کو کافی ہو۔ اسی طرح کا معاملہ بیٹے کا ہے اگر وہ کمانے سے قاصر ہے، ابھی پڑھ رہا ہے یا کمزور ہے، اور اس کے پاس کچھ ہے نہیں جس سے وہ گزارا کرسکتے، پس وہ اپنے والد کے مال میں سے اپنے لیے کپڑے یا دوپہر یا رات کا کھانا لے لیتا ہے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یا پھر اس کا والد مالدار وخوشحال ہے جبکہ بیٹے کے پاس کچھ ہے نہیں  مگر اسے شادی کی حاجت ہے، تو وہ اپنے والد کے مال میں سے اتنا لے لے کہ جس سے وہ شادی کرسکے، کیونکہ وہ عاجز ہے جبکہ اس کے والد قادر ہیں، اور ان کے پاس بہت سا مال ہے، تو پھر کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ باپ پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو شادی کرواکر برائی سے بچائے اور پاکدامن رکھے۔ پس یہ واجب ہے والد پر جبکہ وہ اس پر قادر ہو اور بیٹا عاجز ہو۔ البتہ اگر بیٹا خودکفیل وقادر ہو تو پھر اسے اپنے والد کے مال میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے، بلکہ اسے چاہیے خود اپنے مال میں سے لے، اپنے مال میں سے خرچ کرے اور اگر قادر ہو تو اپنے مال میں سے شادی کرے۔

 

سوال: سائل/ ب۔ف۔ق۔ ریاض سے، بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک نوجوان ہیں جسے اللہ تعالی نے ہدایت دے کر احسان فرمایا ہے، پس وہ اللہ تعالی کی حمد بیان کرتا ہے اس نعمت پر اور پوچھتا ہے: میں پہلے اپنے والد صاحب کی تجوری میں سے ان کے جانے بغیر بہت سا مال اٹھاتا رہا ہوں، اور یہ عمل میں مسلسل کرتا رہا ہوں، اور یہ کل اٹھائی گئی رقم اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ میں اپنے والد کو اسے لوٹا بھی نہیں سکتا، اور ڈرتا بھی ہوں کہ اگر میں نے انہیں اس بات کی خبر کردی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہوں گے یا مجھ پر وہ اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے جو وہ کرتے ہيں، فضیلۃ الشیخ اس کا کیا حکم ہے کہ اگر میں ایک بار پھر سے اپنے والد کے پیسوں میں سے اٹھا لوں تاکہ اپنے فلیٹ کا کرایہ دے سکوں جس میں میں تعلیم کی غرض سے رہتا ہوں، کیونکہ میں ایک طالبعلم ہوں، اور جامعہ کی جانب سے ملنے والا وظیفہ میرے تمام حقوق پورے نہیں کرسکتا، یہ بات بھی علم میں رہے کہ میں اگر یہ والد صاحب سے طلب کروں گا تو وہ انکار کردیں گے اور غصہ ہوں گے ، ہمیں افادہ پہنچائيں ، جزاکم اللہ خیرا؟

جواب: آپ کے لیے جائز نہیں کہ اپنے والد کے مال میں سے بغیر ان کے علم کے کچھ اٹھائيں۔ بلکہ آپ پر واجب ہے کہ آپ ان سے مانگ لیں، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک ہے۔ ہاں البتہ اگر حالت یہ ہو کہ آپ ان کے گھر ہی سے کھاتے پیتے ہیں اور وہ اپنے پر نفقہ وخرچ کرنے میں تقصیر وکوتاہی کرتے ہیں تو پھر آپ بقدر حاجت اٹھا سکتے ہیں جیسے اپنے کپڑوں کے لیے اور کھانے کے لیے اگر وہ ان میں تقصیر کرتے ہیں۔

جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہند رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی کہ وہ ان کے مال میں سے معروف طور پر اتنا اٹھا لیا کریں جو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے کافی ہو۔ اگر آپ ان کے زیر کفالت ہیں اور وہ آپ کے خرچے میں کمی کوتاہی کرتے ہيں اور آپ کے پاس اس کمی کو خود سے پورا کرنے کی قدرت بھی نہیں تو پھر معروف طور پر ان کے مال میں سے اپنے حاجات کے لیے جیسے لباس وغیرہ کے لیے اٹھا لیں۔

ہاں جو مال اس سے زائد آپ نے اٹھایا ہے تو آپ پر واجب ہے کہ اسے لوٹائیں اگرچہ والد صاحب کے علم میں لائے بغیر ہی ایسا کرلیں، آپ کو چاہیے کہ ان کا مال لوٹائيں اگرچہ انہیں معلوم نہ چلے۔ اگر آپ ان سے اجازت لیتے ہیں اور وہ آپ سے درگزر کرلیتے ہیں پھر آپ لوٹا دیتے ہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہيں، لیکن اگر آپ کو خدشہ وڈر ہے کہ بتانے پر وہ غصہ ہوں گے تو پھر ان کے مال میں انہيں بغیر بتائے ہی اسے رکھ دیں۔

(فتاوى نور على الدرب > المجلد الثالث والعشرون > كتاب النفقات > حكم أخذ الابن من مال والده دون علمه، سوال 17 کیسٹ 187)

 


[1] أخرجه البخاري فى صحيحه، كتاب النفقة، باب إذا لم ينفق الرجل فللمرأة أن تأخذ بغير علمه ما يكفيها وولدها بالمعروف، برقم 5364، ومسلم فى صحيحه، كتاب الأقضية، باب قضية هند، برقم 1714.