Doesn't Shaykh Saaleh Al-Fawzaan (hafidaullaah) hold that misguided individuals and groups should be disparaged and refuted?

کیا شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ گمراہ لوگوں کی جرح ونقد وردکے قائل نہیں؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

وجۂ نشر

بعض حزبیات اور سلفی منہج سے منحرف مناہج کے حاملین اور ان کا دفاع کرنے والے  کچھ عرصے سے شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے بعض فتاویٰ سے یہ باور کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ فی زمانہ جرح وتعدیل کے قائل نہيں اور جو علماء، طلبہ اور داعیان خصوصاً شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ وغیرہ یہ کام کرتے ہيں ان کے اس عمل کو محض غیبت اور چغلی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے بہت سے منہجی فتاویٰ جس میں ان کی حزبیات اور شخصیات کا رد ہوتا ہے نہیں لیتے، مگر چونکہ اہواء پرستی کا شکار ہيں تو اپنے مطلب کے فتاویٰ نشر کرتے ہیں، مگر وہ بھی اپنے غلط مفہوم کے مطابق۔ لہذا ہم یہ ثابت کریں گے شیخ حفظہ اللہ اور دیگر علماء کرام کے کلام سے جس مقصد کے لیے اس قسم کے افراد ایسی باتيں نکالتے ہیں کہ ’’غلطیوں اور غلط مناہج اور شخصیات کا رد نہ کیا جائے‘‘ اس کے تو شیخ الفوزان حفظہ اللہ نہ صرف قائل ہيں بلکہ فاعل ہيں۔لہذا ان حزبیوں کا جو مقصود تھا وہ تو پھر بھی حاصل نہ ہوا!

ان شاء اللہ ہم خود شیخ کے اور دیگر علماء کرام کے کلام سے ان فتاویٰ کی بہترین توجیہ ووضاحت کریں گے جو اس ضمن میں پیش کیے جاتے ہیں، اللہ تعالی ہی سے توفیق اور راست بازی کا سوال ہے۔

فی زمانہ جرح وتعدیل کے بارے میں شیخ حفظہ اللہ کے بعض وہ فتاوی ٰجس سے مخالفین استدلال کرتے ہیں

ان فتاویٰ سے ثابت ہونے والے بعض نکات اور وضاحت

شیخ حفظہ اللہ کا جائز وناجائز تجسس میں فرق کرنا

کیا جرح وتعدیل کا زمانہ ختم ہوچکا ہے؟

 مختلف علماء کرام کا مختصر کلام

کلمۂ حق سے کہیں باطل مراد نہ لے لی جائے، اس وجہ سے بھی علماء کرام فتاویٰ میں احتیاط کرتے ہيں

جس عالم نے کہا جرح وتعدیل اس دور میں ختم ہوچکا ہے، ان کے کلام کی صحیح تشریح ایک عالم کی زبانی

منہج جرح وتعدیل تاقیامت ختم نہيں ہوسکتا!

خود علم الاسناد اور روایت ِحدیث کے ماہرین علماء کا قول اس بارے میں دیکھا جائے

جرح وتعدیل کے بارے میں حزبیوں کا عجیب تضاد!

اگر محض بات ’’جرح ‘‘ کے بجائے ’’نقد ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے ہی کی ہے تو ۔۔ ۔!

شیخ صالح الفوزا نحفظہ اللہ کے کلام کو غلط مفہوم دے کر شیخ ربیع حفظہ اللہ کے خلاف استعمال کرنا

حزبیوں کے لیے ایک اور لمحۂ فکریہ!

شیخ فوزان حفظہ اللہ ہر قسم کے گمراہ داعیان کے رد وتحذیر کے قائل ہیں

ردود اہل علم ومعرفت کی طرف سے ہوں  اور اسے عوام تک میں نشر کرنا ضروری ہے

شیخ حفظہ اللہ حرام اور جائز غیبت میں فرق کرتے ہیں

صحیح سلفی ردود سے بیزاری دکھانے والے جھوٹی پرہیزگاری میں مبتلا ہیں

جرح اور مخالفین پر رد کے مقاصد مشترکہ ہیں

زیادہ مشہور اور عوام میں مقبول شخصیات کی غلطی کا رد  اور بھی زیادہ ضروری ہے

اگر حالات متقاضی ہوں تو نام لے کر بھی رد کیا جاسکتا ہے

کیا منہج سلف کے مخالف  مناہج اور ان کے داعیان سے خبردار کرنا مسلمانوں میں تفرقہ مچانے میں شمار ہوگا؟

کیا حزبیت کے خلاف خبردار کرنا ضروری ہے؟

کیا بدعتیوں اور حزبیوں سے خبردار کرنے میں کوئی حرج ہے؟

منہج موازنات کا رد

بہت سے حزبی بھی سلفیت کے جھوٹے دعویدار ہوسکتے ہیں

اہل بدعت اور گمراہوں کی کیسٹیں سننا یا کتب پڑھنا جائز نہيں

حزبی کتابوں اور جماعتوں کی غلطیوں کا رد کرنا داعیان کی عزت اچھالنا شمار نہیں ہوگا

اور شیخ حفظہ اللہ کی کتاب میں مشہور داعیان کا نام لے کر رد ہے

شیخ خود محدثین کا راویوں پر نام لے کر جرح کرنے کو دلیل بناتے ہيں کہ مخالفین کا رد کرنا چاہیے، اور یہ شخصیات سے ذاتی دشمنی نہيں بلکہ دین کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے

مخالف مناہج اور ان کے داعیان سے تحذیر امت میں تفرقے کا نہيں بلکہ کلمے کے جمع ہونے کا سبب ہے

جو کوئی سلفی  منہج کے اصول کی مخالفت کرتے ہيں اور اپنی جماعتوں کے بڑوں اور بانیوں کی تعریف وحمایت کرتے ہيں وہ انہی میں سے ہیں نصیحت قبول نہ کرنےکی صورت میں ان کا بائیکاٹ کیا جائے

معتبر اور غیر معتبر علماء میں عقیدہ ومنہج کے اعتبار سے فرق وامتیاز کرنا

علماء کا کسی جماعت پر رد کردینے پر ان کے حامیان کا یہ کہنا کہ ہم نے یہ باتیں ان میں نہيں دیکھیں!

ایسے مدرس کا رد جو سید قطب کی کتب پڑھنے کا کہتا ہے اور اس پر رد کرنے والوں کو برا کہتا ہے

یوسف قرضاوی وغیرہ کا نام لے کر رد، یہ حجت کے ان سے نفع بھی ہوا ہے ان کے رد میں مانع نہیں

محمد عبدہ مصری کا رد

عقیدہ ومنہج میں گمراہ لوگوں کا ان کی بھلائیوں کے ساتھ بلاموازنہ رد کرنا

اہل بدعت اور گمراہ مناہج والوں سے اور ان کی کتب وکیسٹوں سے دور رہا جائے اور ایسوں کے پاس نہ پڑھا جائے

بیان میں تاثیر ہونے کے باوجود گمراہ مناہج والوں سے اجتناب کیا جائے

علماء کی بھی غلطی پر اسے باہمی چشمک قرار دے کر خاموش رہنا جائز نہيں

کس  قسم کے ردود کی شیخ حوصلہ شکنی کرتے ہيں اور کس قسم کے ردود کی حمایت کرتے ہیں

اہل باطل کا رد کرتے رہنے سے دل سخت نہیں ہوتے بلکہ ان کا رد نہ کرنے سے دل سخت ہوجاتے ہیں!

افکار اور صاحب افکار دونوں کا رد مطلوب ہے

اہل باطل کا رد نہ کرنا مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی دھوکہ بازی ہے

عوامی جذبات کا خیال رکھنے کے بہانے غلطی اور باطل کا رد نہیں چھوڑا جاسکتا

اپنی پسندیدہ شخصیات کے رد ہونے سے راضی نہ ہونا ایک معیوب منہج ہے

ضرورت کے تحت نام لے کر رد کرنے کی تائید فرمانا

منحرف داعیان کا رد ان کی عزت اچھالنا یا شخصیت کو مسخ کرنا وتجریح نہیں بلکہ امت کی خیرخواہی ہے

یہ باطل فکر ہےکہ تمام افکار وفرقوں کا احترام کیا جائے کسی کا رد نہ ہو

شخصیات اور جماعتوں کی غلطیوں کا رد کرنے سے فتنہ نہیں ہوتا بلکہ رد نہ کرنے سے ہوتا ہے

بدعات جس کے پاس ہوں گی اس کا رد ہوگا، اگرچہ وہ کافروں کو ہی کیوں نہ دعوت دیتا ہو

اہل اہواء کا رد کرنے کو وقت کا ضیاع کہنے والا شخص خود ایک ضیاع ہے!

بلکہ شیخ جن علماء کے بارے میں کلام کرنے سے منع کرتے ہیں وہ وہی ہیں جنہیں حزبی لوگ شیخ حفظہ اللہ کے رد کا مصداق باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں!

کیا شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ مشایخ ِمدینہ کے منہج ِرد کی تائید نہیں فرماتے؟

شیخ حفظہ اللہ مشہور گمراہ داعیان کے نام لے کر رد کی تائید فرماتے ہیں

آپ کسی داعی کی غلطیاں جمع کرکے ان پررد کرنے کے منہج کو اگر حق بیان کرنا اور باطل سے تحذیر مقصود ہو سراہتے ہيں

علمی ردود کے فوائد اور ترک کرنے کے نقصانات

تفصیل جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔