Claiming the refutation of the innovators as forbidden backbiting – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اہل اہواء کے رد کو حرام غیبت سے تعبیر کرنا   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: المنتقی من فتویٰ الشیخ صالح الفوزان، ج 1، فتویٰ 239۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: بعض نوجوانوں میں ایک جھوٹی بناوٹی ورع وپرہیزگاری پھیل گئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب وہ طلاب العلم یا علماء کرام میں سے کسی ناصح وخیرخواہ کو سنتے ہیں کہ وہ بدعت اور اہل بدعت اور ان کے مناہج سے تحذیر کرتے ہیں، اور جس چیز پر وہ ہيں ان کی حقیقت آشکارا کرتے ہیں، اور ان پر رد کرتے ہیں، یہ سب وہ دین کے دفاع کے لیے کرتے ہیں، اور اس لیے کہ ان حق وباطل میں تلبیس کرنے والوں اور امت کے صفوں میں گھس بیٹھوں کا پردہ چاک کریں، پس وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تو حرام غیبت ہے، آپ کا اس مسئلے کے بارے میں کیا فرمانا ہے؟

جواب: قاعدہ یہی ہے کہ ایسا کرنا غلطی اور انحراف پر تنبیہ ہے اور لوگوں کے لیے اس کی تشخیص کرنا ہے۔ اور اگر معاملہ اس بات کا تقاضہ کرے کہ ان اشخاص کے نام لیے جائيں تو نام بھی لیے جاسکتے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے کوئی دھوکے کا شکار نہ ہو۔ خصوصاً وہ اشخاص جن کے یہاں فکری، مسلکی ومنہجی انحراف پایا جاتا ہے  اور وہ لوگوں میں مشہور ہوں، اور لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوں، تو پھر کوئی حرج نہيں کہ ان کے نام بھی لیے جائيں اور ان سے تحذیر وخبردار کیاجائے۔

خود علماء کرام نے جرح وتعدیل کے علم میں تحقیق اور کھوج کی، پس انہوں نے راویان کو ذکر فرمایا اور ان کے بارے میں جو کچھ نقد وقدح تھیں وہ بھی بیان کیں، ان کی شخصیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ امت کی نصیحت وخیرخواہی چاہتے ہوئے کہ وہ کہیں ان سے وہ چیزیں نہ لے لیں جو ان کے دین میں بگاڑ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا سبب ہوں۔

لہذا سب سے پہلے قاعدہ یہ ہے کہ غلطی پر تنبیہ کی جائے، اور اگر اس کےنام لینے سے نقصان کا اندیشہ ہو، یا نام لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوتو اس کا نام نہ لیا جائےلیکن اگر حال اس بات کا تقاضہ کرتا ہو کہ اس کا واضح نام لیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں تو پھر (یوں نام لے کر رد وتحذیر) دراصل خیرخواہی ہے اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول ، آئمہ مسلمین اور ان کی عوام کے لیے، خصوصاً اگر اس شخص کی لوگوں کے اندر سرگرمیاں ہوں، اور وہ اس کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوں([1])، اس کی کیسٹوں اور کتابوں کو اعتماد کے ساتھ لیتے اور مانتے ہوں، لازم ہے کہ ان کے خلاف بیان اور لوگوں کو ان سے تحذیر کی جائے۔ کیونکہ ان پر سکوت اختیار کرنے میں لوگوں پر ضرر ہے، ضروری ہے کہ ان کا پردہ چاک کیا جائے۔ یہ تجریح وجذبات کی تشفی کے لیے نہيں بلکہ صرف اللہ تعالی، اس کے کی کتاب، اس کے رسول، آئمہ مسلمین اور ان کی عوام کے ساتھ خیرخواہی چاہنے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔

 


[1] بہت سے لوگوں میں یہ قاعدہ بالکل الٹ ہے کہ بلکہ جو منحرف شخص بہت مشہور ہو اور لوگوں کو حسن ظن ہو تو اس کا رد نہ کیا جائے، اور شیخ جو سبب نام لے کر رد کا بیان فرمارہے ہیں، ان کے نزدیک وہی سبب نام لے کر رد نہ کرنے کا ہے! (توحید خالص ڈاٹ کام)