Have we understood Tawheed?! – Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

کیا ہم  توحید کو سمجھ چکے ہیں!!   

فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

(وزیر مذہبی امور، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح کشف الشبھات

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کا یہ فرمانا:

’’کسی جاہل کے اس قول کی معرفت سے کہ: (ہم تو توحید کو سمجھ چکے ہیں) ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ سب سےبڑی جہالت اور شیطان کی چال ہے‘‘۔

شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ قول کہ ’’ہم تو توحید سمجھ چکے ہیں‘‘ امام الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے بعض تلامذہ نے کہا، یہ بات ان کے ایک درس میں انہوں نے کی۔

کیونکہ جب انہو ں نے کتاب التوحید پڑھا کر اور اس کے مسائل سمجھا کر ختم فرمایا تو چاہا کہ اسے واپس سے شاید تیسری یا چوتھی بار شروع کردیا جائے۔

جس پر ان کے شاگردوں نے عرض کی: یا شیخ! ہم اب کوئی دوسری کتاب پڑھنا چاہتے ہیں جیسے فقہ یا حدیث کی کتاب۔

شیخ نے جواب میں فرمایا: کیوں؟

تو شاگردوں نے جواب دیا: دراصل ہم توحید کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں، اسی لئے ہم کوئی دوسرا علم چاہتے ہیں۔

 شیخ نےفرمایا: مجھے کچھ مہلت دو،  میں اس مسئلے پر ذرا غور کرکے بتاؤ گا۔

کچھ دنوں بعد شیخ درس کے لئے تشریف لائے اور شاگردوں نے دیکھا کہ شیخ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔

 انہوں نے کہا: شیخ کے چہرے کو کیا ہوا؟!

شیخ نے فرمایا: مجھے ایسی بات پہنچی ہے جس نے میرے چہرے کو بگاڑا ہے۔

انہوں نے پوچھا: آخر وہ کیا بات ہے؟

تو شیخ نے فرمایا کہ : مجھے کسی نے یہ خبر دی کہ درعیہ میں فلاں گھر کے مکینوں نے ایک مرغا اپنے گھر کی دہلیز پر اس میں داخل ہونے سے پہلے ذبح کیا ہے،  یعنی وہ اس گھر میں شفٹ ہونا چاہتے تھے تو اس کے دروازے کے پاس ایک مرغا ذبح کیا اور اس کا خون اس کی چوکھٹ پر بہایا،  اور میں ایک شخص کو اس بات کی تصدیق کروانے کے لئے بھیج چکا ہوں، پھر اس بارے میں جو اقدام ہم پر واجب ہوگا ہم وہ کریں گے۔

دوسرے دن جب شیخ تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا: یا شیخ! اس کا کیا معاملہ ہوا جو آپ نے بتایا تھا۔۔۔؟

فرمایا: (تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ) اس نے وہاں جاکر کچھ اور ہی بات پائی۔

انہو ں نے پوچھا: اس نے کیا پایا؟

آپ نے ان سے فرمایا: اس نے پایا کہ گھر والوں نے ایسا نہيں کیا (یعنی غیراللہ کے لئے کوئی  جانور ذبح نہیں کیا تھا)، بلکہ وہاں کوئی شخص تھا جس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی تھی۔

اس بات پر ان کے شاگردوں کو شدید دھچکا لگا اور سب بے ساختہ پکار اٹھے: نعوذ باللہ! اس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی!! نعوذ باللہ! اس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی!!۔۔۔

اس واقعہ کی نشاندہی کرنے کے بعد شیخ صالح آل الشیخ (جو خود بھی شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کے پڑپوتوں میں سے ہیں) فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے یہ واقعہ اس لئے بیان فرمایا تھا کہ کسی جاہل کا یہ کہنا کہ: ’’ہم توحید کو سمجھ چکے ہیں‘‘ بہت بڑی جہالت اور شیطان کی بڑی چالوں میں سے ایک ہے۔ کیونکہ انہو ں نے( ماں کے ساتھ بدکاری کے)  کبیرہ گناہ کو شرک سے بڑھ کر گراں تصور کیا ، جبکہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا جو کہ انسان کو اسلام سے ہی خارج کردیتا ہے اسے ان کے دلوں نے  اتنا برا نہ جانا۔ ان کے دلوں نے اس صورت کو کہ دروازے کی چوکھٹ پر خون بہایا جائے اس میں شفٹ ہونے سے پہلے کو کیوں اس قدر منکر نہ جانا؟ کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ ایسا جنات کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ان کے شر کو رفع دفع کرنے یا پھر نظر لگانے والوں کے شر سے بچنے کے لیے(یعنی کوئی انوکھی بات نہیں!)، حالانکہ یہ ذبح کے ذریعے غیراللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے اور یہ بلاشبہ اللہ تعالی کے حق میں شرک اکبر ہے۔

پس انہو ں کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ کو تو اتنا بڑا اور عظیم جانا لیکن اللہ تعالی کے ساتھ شرک اکبر کو یوں عظیم اور بڑا نہ جانا۔ جیسا کہ  یہی حالت آج بھی ہے کہ آپ بعض جاہلوں کو دیکھتے ہيں کہ جب  وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوتے دیکھتے ہیں تو شدید غیض وغصب میں آجاتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے ہیں غرض بےچین ہوجاتے ہیں، مگر جب وہ شرکِ اکبر کا سنتے ہیں تو یہ بات ان میں کسی حرکت کا باعث نہيں بنتی۔ یعنی آپ انہيں پائيں گے  جب وہ کچھ اخلاق سے متعلق منکرات  کا سنتے ہيں یا پھر زنا یا وسائل زنا کے متعلق بعض ممالک میں یا عورتو ں کی بےپردگی یا بعض فسق وفجور وظلم یا اس جیسی باتیں (رشوت وسود وکرپشن وقتل وغارت وغیرہ) تو اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بے چین ہوجاتے ہیں اور باتیں سنانا شروع کردیتے ہیں۔لیکن شرک اکبر  کے بارے میں کہ وہ مزار وقبہ دیکھ رہا ہے جس کے نیچے اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت کی جاتی ہے، یا لوگوں کو شرک کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے جیسے غیراللہ کے لئے ذبح (اور نذرونیازوغیرہ )، یا کسی میگزین یا کتاب میں اسے پڑھتا ہے تو اس کا دل اللہ کے سب سے عظیم حق کے لیے حرکت نہیں کرتا۔

یہ اس کی جہالت وگمراہی کی دلیل ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اپنی ذات کی مصلحت کو ہی نہيں سمجھتا، کیونکہ بے شک یہ جاہل اگر توحید کو نہیں سمجھتا اور اس کا دل اللہ کے اس حق کے لیے کہ اس اکیلے کی غیروں سے سوا عبادت ہوغیض وغضب کا شکار نہیں ہوتا تو کچھ شک نہیں کہ ایسا شخص شر پر ہے۔اگر وہ اپنے نفس میں پاتا ہے کہ وہ کسی منکر کو دیکھ کر شدید غیض وغضب کا شکار ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی کے ساتھ کیا جانے والا شرک اکبر اس کے سکون قلب میں جنبش کا باعث نہیں ہوتا تو وہ یہ جان لے کہ اس نے توحید کو سمجھا ہی نہيں ہے اور نہ اللہ تعالی کی کماحقہ تعظیم کی ہے۔

پس یہ جو کہتے ہيں کہ ’’ہم توحید سمجھ چکے ہيں‘‘ جاہل ہيں اور شیطان اپنی سب سے بڑی چالوں کے ساتھ ان پر داخل ہوچکا ہے، جیسا کہ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا، اللہ تعالی انہيں جزائے خیر عطاء فرمائے۔