Ruling on making heart shapes and symbols to indicate love – Various 'Ulamaa

محبت کی تعبیر کے لیے دل کےنشان یا شکل بنانے کا حکم

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب:  طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

فتویٰ رقم 20950:

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، وبعد:

علمی تحقیقات وافتاء کی مستقل کمیٹی اس پر مطلع ہوئی جو جناب مفتئ اعظم کو مرکز الدعوۃ والارشاد ، جدہ کے مدیر کے توسط سے  تحریر رقم (319 / 9 / 20 / ج) وتاريخ 14 / 4 / 1420ھ موصول ہوئی۔۔۔

نص سوال یہ ہے کہ الدعوۃ والارشاد، جدہ کے رکن شیخ محمد بن عطیہ الجابری نے یہ سوال بھیجا:

بعض ایسیkey chains پائی جاتی ہيں جو لوگوں میں عام ہورہی ہے کہ جنہیں دل کی شکل میں بنایا گیا ہے جو کہ محبت کی علامت ہے، اور ا س پر لکھا ہے: میں+ پھر وہ دل کی علامت والا نشان یا شکل +پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا ہے، یعنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، اور اس کے پیچھے لکھا ہے: یا حبیبی یا رسول اللہ! اور ایک دوسری چین بھی ہے جو گلے میں لٹکتی ہے اس پر بھی یہی عبارت لکھی ہوئی ہيں۔ اسی طرح سے یہ بات بھی آپ فضیلۃ الشیخ کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ بعض عورتوں میں بھی ایسے ملبوسات عام ہوگئے ہيں جس کی قمیص پر بائیں طرف چھاتی کے اوپروالی جگہ یہی عبارت لکھی ہوتی ہے، ہمارے پاس لوگ آتے ہيں اس کے بارے میں فتویٰ  پوچھنے۔ہم امید کرتے ہیں کہ  اس سوال پر مطلع ہونے پر آپ جو مناسب سمجھیں وہ رہنمائی فرمائيں، اور جو آپ مناسب سمجھیں ہمیں افادہ دیجئے، تاکہ ہم سائلین کو اس کے حکم کےتعلق سے جواب دے سکیں، اور اسے لوگوں کے مابین عام کرسکیں تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوں؟

فتویٰ کمیٹی نے سب کچھ پڑھنے کے بعد یہ جواب دیا کہ مذکورہ دل کی شکل بنانا اور مذکورہ بالا عبارت کو ملبوسات اور میڈلز وغیرہ پر لکھنا سلف امت کا طریقہ نہيں رہا جو کہ بہترین زمانے کے لوگ تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے بعد آنے والوں سے زیادہ شدید محبت اور تعظیم کرتے تھے۔

ساتھ ہی اس میں اہل فسق سے مشابہت بھی ہے کہ جو اس قسم کے نشانات کو کسی دوسرے کے لیے علامت کے بطور استعمال کرتے ہيں اپنی حرام محبت وعشق ظاہر کرنے کے لیے، اور شریعت مطہرہ کی جانب التفات کیے بغیر اس میں فنکاری دکھاتے ہیں۔

اسی طرح سے اس  مذکورہ شکل  سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھی کسی دوسری مخلوق سے محبت کی مانند ہے، حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی اور مغالطہ ہے۔ کیونکہ محبت ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو شرعی طور پرواجب ہے، اور اس کے بغیر ایمان مکمل نہيں ہوتا، جبکہ ان کے علاوہ جو دیگر لوگوں کی محبت ہے وہ کبھی مشروع ہوتی ہے تو کبھی حرام۔

جوکچھ بیان کیا گیا اس کی روشنی میں اس مذکورہ عبارت کو (اس شکل کے ساتھ) یوں لکھنا  اور اس کی خرید وفروخت واستعمال جائز نہيں۔

وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

عضو              عضو              عضو                                  الرئيس

بكر أبو زيد       صالح الفوزان      عبد الله بن غديان          عبد العزيز بن عبد الله بن باز

 (فتاوى اللجنة الدائمة > المجموعة الأولى > المجلد الرابع والعشرون (كتاب الجامع 1) > كتاب الجامع > اللباس والزينة > سلاسل مفاتيح نحتت على هيئة قلب وكتب عليها أنا أحب الرسول)

شیخ ابو فریحان جمال بن فریحان الحارثی حفظہ اللہ سے سوال ہوا:

سوال: آپ  اس دل کی شکل کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو محبت کی تعبیر  کے لیے استعمال ہوتا ہے یا شیخ۔۔۔؟

جواب: جہاں تک محبت کی تعبیر کے لیے دل کی شکل بنانے کا حکم ہے تو کم از کم بھی اس کا حال فاسق لوگوں اور جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتاکی تقلید ہے  اور یہ ان کی عادات میں سے ہے۔

بلکہ میں نے پایا کہ اس کی اصل یورپی کافروں کے مراسم سے ہے۔ لہذا یہ بالکل بھی لائق نہيں کہ حبِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس کے ذریعے تعبیر کی جائے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کہیں اعلیٰ وبالاتر ہیں۔

اس سے خبردار کرنے کے بارے میں سعودی فتویٰ  کمیٹی کا فتویٰ بھی صادر ہوچکا ہے۔

أبو فريحان

1 / 9 / 1435ھ

(التحذير الشامل من الرمز الهابط)