Does Shaykh Al-Fawzaan (hafidaullaah) not support the scholars of Madeenah in their Manhaj of refuting?

کیا شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ مشایخ ِمدینہ کے منہج ِرد کی تائید نہیں فرماتے؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة س 101.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ہم امید کرتے ہيں کہ آپ ہمارے لیے مدینہ کے علماء کے تعلق سےاپنے قول کی وضاحت فرمائیں ، یعنی ان (علماء) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو سلفی کہلاتے ہیں، کیا وہ جو کررہے ہيں اس میں صواب راہ پر ہیں، ہمارے لیے اس مسئلے میں حق کی وضاحت فرمائيں؟

جواب: مدینہ کے علماء ([1])کے بارے میں میں خیر کے سوا کچھ نہيں جانتا۔اور ان کا ارادہ محض نصیحت وخیرخواہی کی غرض سے لوگوں کے سامنے بعض مؤلفین یا بعض اشخاص کی ان غلطیوں کا ذکر ہوتا ہے جس میں وہ واقع ہوئے۔ وہ کسی پر جھوٹ نہيں بولتے، بلکہ وہ تو صرف انہی کا کلام باقاعدہ تصدیق شدہ منصوص ذکر کرتے ہيں فلاں صفحہ، فلاں جزء اور فلاں سطر پر، آپ جاکر اس حوالے کو چیک کرسکتے ہيں۔ اگر وہ جھوٹ بولتے ہيں اس میں تو ہمارے سامنے آپ اس کو ثابت کریں جزاکم اللہ خیراً، ہم تو کبھی بھی جھوٹ سے راضی نہیں ہوتے۔ آپ جائیں ان کتابوں کی طرف مراجع کریں جن پر انہوں نے تنقید کی ہے، میرے سامنے ایک بھی نقل لے کر آئیں کہ جس میں انہوں نے جھوٹ بہتان لگایا ہو یا کوئی تقصیر کی ہو تو پھر میں بھی اس میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔

لیکن یہ چاہنا کہ لوگوں سے کہیں: بس چپ ہوجاؤ، باطل کو یونہی چھوڑ دو، اس پر رد نہ کرو، وضاحت وبیان نہ کرو، تو یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہ تو کتمانِ حق ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی تو فرماتے ہیں:

﴿وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ﴾ (آل عمران: 187)

(اور جب اللہ تعالی نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے)

اور فرمایا:

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ﴾ (البقرۃ: 159)

(بےشک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے نازل فرمایا  ہے، اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے، یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان پر اللہ تعالی لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں)

ہم غلطیاں دیکھیں اور چپ بیٹھے رہیں، اور لوگوں کو یونہی سرگرداں چھوڑ دیں؟ نہيں، ایسا کبھی بھی جائز نہيں ہوسکتا۔ بلکہ واجب ہے کہ باطل سے حق کو علیحدہ کرکے بیان کیا جائے، خواہ جو راضی ہو سو ہو، ناراض ہو سو ہو۔

 


[1] اس سے مقصود یہ تمام مشایخ ہیں: شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ، ربیع بن ہادی المدخلی، عبید الجابری، علی الفقہی، صالح السحیمی اور محمد بن ہادی حفظہم اللہ، جن کا اللہ تعالی کے بعد بہت بڑا احسان ہے کہ وہ سبب بنے بہت سے طلاب علم کو فرقہ اخوان المسلمین کے بارے میں بصیرت دینے کا، اور ان کے بڑوں پر یہاں وہاں رد کرنے کا۔ (الحارثی)