Spreading doubts regarding footnotes and benefits added to the book "Al-Ajwiba-tul-Mufeedah" of Shaykh Saaleh Al-Fawzaan

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی کتاب ’’الاجوبۃ المفیدۃ‘‘ کے حواشی وتعلیقات کے متعلق شکوک پھیلانا   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی منہجی سوال وجواب پر مبنی مایہ ناز کتاب ’’الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة‘‘ جسے شیخ جمال بن فریحان الحارثی حفظہ اللہ نے جمع فرمایا ہے اور ساتھ میں اس پر مفید حواشی اور تعلیقات بھی لکھی ہیں، اس کے بعض فتاویٰ کا ہماری ویب سائٹ پر ترجمہ بھی دستیاب ہے، اور باقی پر بھی کام جاری ہے۔ ان تعلیقات میں بعض مشہور داعیان اور جماعتو ں کا نام لے کر رد بھی ہے جیسے اخوان المسلمین، تبلیغی جماعت اسی طرح سے حسن البنا، سید قطب، مودودی، سلمان العودۃ، ناصر العمر ، یوسف قرضاوی اور عائض القرنی وغیرہ، لہذا بعض لوگوں کی طرف سے یہ شکوک وشبہات پھیلانے شروع کردیے گئے کہ سوال وجواب تو شیخ حفظہ اللہ کے ہيں، لیکن حواشی وغیرہ پر وہ مطلع نہيں نہ ہی وہ اس اسلوب سے راضی ہيں کہ جن داعیوں وغیرہ کا نام لے کر رد کیا گیا ہے۔ اس بارے میں شیخ حفظہ اللہ سے ایک سے زائد مواقع پر پوچھا گیا اور شیخ نے وضاحت فرمائی کہ وہ ان پر مطلع ہی نہيں بلکہ راضی بھی ہيں۔

پہلی مرتبہ:

آپ حفظہ اللہ نے اس کتاب کی تیسری بار طبع ونشر کی اجازت مرحمت فرماتے ہوئے فرمایا:

الحمد الله وبعد: میں شیخ جمال بن فریحان الحارثی کو اس کتاب ’’الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة‘‘ کی دوبارہ سے طباعت کی اجازت دیتا ہوں، جسے انہوں نے میرے ان سوالات کے جوابات سے جمع کیا ہے جو دروس کے درمیان میں طلاب کو دیا کرتا تھا۔ میں نے انہیں ان کی مع ان تعلیقات کے اضافے کے جو ان کے پاس تھیں اور جو زیادہ فوائد انہوں نے اس میں شامل کیے جو سابقہ طباعتوں میں نہيں تھے ، ان سب کے ساتھ طباعت کی اجازت دیتا ہوں۔ اللہ تعالی تمام لوگوں کو حق کی معرفت اور اس پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه۔

کتبہ: صالح بن فوزان بن عبدالله الفوزان في 1423/12/23ھ۔

دوسری مرتبہ (جسے چوتھی مرتبہ کہنا چاہیے کیونکہ تین مرتبہ پہلے بھی اس کی طباعت کے بارے میں شیخ حفظہ اللہ یہی بات فرماچکے ہیں) :

شیخ سے دو کتب کے بارے میں پوچھا گیا جن میں سے یہ بھی تھی۔

میزبان: دوسرا سوال؟

سائل: سماحۃ الشیخ آپ کی دو کتابیں ہيں:

اول: الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة۔

دوم: الفتاوى المهمة في المشاكل الملمة([1])۔

اور ان پر حواشی ہیں اس شخص کے جس نے انہيں جمع کیا ہے۔ کیا یہ دونوں کتابیں واقعی آ پ کی ہیں اور اس پر حواشی کا بھی آپ کو علم ہے، بارک اللہ فیک؟

میزبان سائل سے: آپ کا شکریہ۔

شیخ فوزان: جی میرے بھائی یہ دونوں کتابیں میری ہی ہیں، اور اس کے حواشی پر بھی میں مطلع ہوں اور ان صحیح سمجھتا ہوں۔

 

تیسری مرتبہ(جسے پانچویں بار شمار کیا جائے) :

حال ہی میں  18 جمادی الثانی سن 1438ھ بمطابق17، مارچ 2017ع میں اس کتاب سے متعلق  پوچھا گیا:

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

شیخ: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

سائل: شیخ صالح آپ کا کیا حال ہے؟ امید ہے آپ بخیر ہوں گے؟

شیخ: خیر الحمدللہ۔

سائل: اللہ تعالی آپ کو برکت دے اور آپ کی حفاظت فرمائے۔

شیخ: جی۔

سائل: شیخ بارک اللہ فیک، کیا آپ مجھے سوال پوچھنے کی اجازت دیتے ہيں؟

شیخ: جی۔

سائل: بارک اللہ فیک اللہ تعالی آپ کے لیے اجر لکھ دے۔

شیخ: جی۔

سائل: شیخنا، احسن اللہ الیک، میں نے کتاب ’’الأجوبة المفيدة عن أسئلة المناهج الجديدة‘‘ پڑھی جس میں آپ کے جوابات ہیں، میں نے دیکھا کہ اس کتاب کے حاشیوں میں بعض داعیوں کے اقوال کی طرف اشارہ ہے جیسے سید قطب، مودودی، سلمان العودۃ، ناصر العمر اور عائض القرنی وغیرہ؟

شیخ: (ریکارڈنگ غیر واضح ہے) ۔۔ ۔

سائل: جی حاشیے شیخ جمال (بن فریحان الحارثی) کے ہیں۔

شیخ: جی ہاں۔

سائل: بارک اللہ فیکم بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حاشیے آپ کی کتاب پر تقدیم لکھنے کے بعد کے ہیں(یعنی آپ کو ان کا علم نہیں نہ آ پ ان سے راضی ہیں)، کیا یہ بات صحیح ہے؟

شیخ:نہیں، جب کتاب جمع ہوگئی تو اس پر حاشیےڈالے گئے۔

سائل: تو کیا حاشیے آپ کے معلوم ہوجانے کے بعد کے ہیں؟

شیخ: ہاں بالکل، ان میں آخر ہے کیا؟!

سائل: شیخ دراصل بعض لوگ کہتے ہيں کہ شیخ جمال نے اسے آپ پر پیش کرنے کے بعد ان حاشیوں کا اضافہ کیا ہے؟

شیخ: اس میں آخر مسئلہ کیا ہے۔

سائل: (مسئلہ ان لوگوں کو یہ ہے کہ) اس میں بعض داعیان کا نام لے کر تحذیر وخبردار کیا گیا ہے یا شیخ، تو کیایہ تحذیر درست ہے؟

شیخ: ہاں بالکل صحیح ہے۔

سائل: بارک اللہ فیکم، اللہ تعالی آپ کے لیے اجروثواب لکھ دے یا شیخ۔

شیخ: حياكم الله أهلاً وسهلاً۔

سائل: الله يحفظكم۔

(یہ مکالمہ فضیلۃ الشیخ العلامۃ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کے ساتھ بروز جمعہ الموافق 18 جمادی الثانی سن 1438ھ کا ہے)۔

 


[1] اس کتاب کے بھی بہت سے ترجمہ شدہ فتاوی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)