To believe that Heaven and Hell exist at present and the ruling regarding the one who rejects it – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

یہ ایمان لانا کہ بے شک جنت اور جہنم پیدا کردی گئی ہيں اور اس شخص کا حکم جو ان کا انکار کرے

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح اصول السنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ "اصول السنۃ" میں فرماتے ہیں:

’’جنت اور جہنم اللہ تعالی کی دو مخلوق ہیں جو پیدا کردی گئی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت آئی ہے:

’’دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا ‘‘([1])

(میں جنت میں داخل ہوا اور ایک محل دیکھا)۔

اور فرمایا:

’’رَأَيْتُ الْكَوْثَرَ‘‘([2])

(اور نہر کوثر دیکھی)۔

’’اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا . . . كذا‘‘

(میں جنت پر مطلع ہوا تو میں نے ان کی اکثریت کو۔۔۔ایسا ایسا پایا)۔

اور :

’’اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ . . . كذاوكذا‘‘([3])

(میں جہنم پر مطلع ہوا اور ۔۔ایسا ایسا دیکھا)۔

 جو یہ گمان کرتا ہے کہ یہ دونوں (جنت وجہنم) ابھی تخلیق نہیں کی گئی ہیں، تو وہ قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلانے والا ہے، میں اسے جنت وجہنم پر ایمان رکھنے والا شمار نہیں کرتا‘‘۔

اس پر شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کی شرح جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

 


[1] رواه أحمد فى مسنده (3/179و191و263)، ورواه الضياء المقدسي فى المختارة برقم (2069-2076) وصححه من حديث أنس بن مالك رضی اللہ عنہ۔

 

[2] اس سیاق کے ساتھ ابو یعلیٰ نے اپنی مسند 5/462 برقم (3186) روایت کی، اور اس کے الفاظ ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ  کا اللہ تعالی کے اس فرمان ﴿ اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ (الکوثر: 1) (بے شک ہم نے آپ کو الکوثر عطاء فرمائی) کے تعلق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’رَأَيْتُ الْكَوْثَرَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكُمُ اللَّهُ‘‘

(میں نے الکوثر کو دیکھا جو کہ جنت میں ایک نہر ہے، اس میں خولدار موتیوں کے ڈیرے لگے ہوئے ہیں یا کھوکھلے موتیوں سے تیارکردہ گنبد سے بنے ہوئے ہيں، میں نے کہا: اے جبرئیل! یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہی وہ الکوثر ہے جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطاء فرمائی ہے)۔

ورواه أحمد (3/164،247) والترمذي برقم (3359) نحوه. وقال الترمذي: حسن صحيح. وأصله فى البخاري، كتاب الرقاق – باب فى الحوض، الحديث برقم (6581)]

 

[3] رواه البخاري، كتاب الرقاق – باب فضل الفقر، حديث رقم (6449) من رواية عمران بن حصين وإبن عباس رضی اللہ عنہما، ومسلم، كتاب الرقاق – باب أكثر أهل الجنة الفقراء، وأكثر أهل النار النساء، حديث رقم (2737) من حديث إبن عباس رضی اللہ عنہما.