Explanation of the foudations of Sunnah Imaam Ahmed bin Hanbal (rahimaullaah) – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

⁠⁠شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ فرماتےہیں:
بلاشبہ وہ اسلامی عقیدہ جسے لے کر تمام رسالتیں آئیں  اس کی اسلام میں بڑی عظیم منزلت ہے، کیوں کہ یہ ہی اسلام کی اصل وبنیاد ہے ، اور یہی وہ کسوٹی ومعیار ہے جو صحیح دین اور فاسد دین  کے درمیان فرق  کرتا ہے۔
 اسی وجہ سے  علماء اسلام (علماء اہل السنۃ والجماعۃ ) نے اس کا خاص اہتمام فرمایاہے کہ وہ اس عقیدے کو بیان کرتے ہیں، اس کی شرح ووضاحت کرتے ہیں، اس کی جانب دعوت دیتے ہیں، اس کا دفاع کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں تالیفات بھی لکھتے ہیں ۔ اور عقیدے کے باب میں چھوٹی بڑی ہر قسم کی کتابیں  اور تالیفات لکھی گئی ہیں اور ان ہی مؤلفات میں سے ’’السنۃ‘‘کے نام سے جو کتابیں ہوتی ہیں  وہ بھی سرفہرست ہیں۔
کیوں کہ یہ جلیل القدر علماء جانتے تھے کہ عقیدے کی کیا قدر ومنزلت  اور شان  ہے، اور یہ کہ اس میں  سے کسی چیز میں ، یااصول میں سے  کسی اصل میں جو گمراہ  ومنحرف ہوتو وہ کفر سے لے کر بدعات وگمراہی تک کے بہت بڑے خطرے میں ہے۔
طلاب العلم پر واجب ہے کہ وہ اس عقیدے کے پڑھنے کا اہتمام کریں ،اور ان اصول کا جن پر یہ عقیدہ قائم ہے ۔
اور جو مختصر رسائل عقیدے کے بیان میں لکھے گئے ہیں ان ہی میں سے یہ امام اہل السنۃ والجماعۃ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی کتاب ’’اصول السنۃ‘ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائيں کہ خود امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ان لازمی سنتوں (عقائد) میں سے جن میں سے کسی ایک خصلت کو بھی کوئی اس طور پر ترک کرے کہ نہ تو اسے قبول کرےاور نہ ہی اس پر ایمان رکھے تو وہ ان (اہل سنت والجماعت) میں سے نہیں‘‘۔
اس کے بعد آپ عقیدۂ اہل سنت والجماعت ذکر کرتے ہيں کہ اس کے مطابق اعتقاد نہ رکھنے والا اہل سنت والجماعت میں سے نہيں ہوسکتا اگرچہ وہ اس کا دعویٰ ہی کرتا رہے۔