A person can be Kharijee in spite of having immense knowledge, ‘Ibaadah and asceticism – Imaam Shams-ud-Deen Ad-Dhahabi

عبادت، علم وزہد کے باوجود ایک شخص خارجی ہوسکتا ہے   

أبو عبد الله شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذھبي رحمہ اللہ المتوفی سن 748ھ

ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: “سير أعلام النبلاء” بعض ترامیم، اختصار اور اضافہ جات کے ساتھ ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام محمد بن عثمان الذھبی رحمہ اللہ اپنی تاریخ وسوانح پر لکھی گئی مشہور کتاب ’’سير أعلام النبلاء‘‘  ج 7 ص 362 ط مؤسسة الرسالة، الطبقة السابعة، الحسن بن صالح میں فرماتے ہیں:

ابن صالح بن حی، اور حی کا نام: حَيَّانُ بْنُ شُفَيِّ بْنِ هُنَيِّ بْنِ رَافِعٍ تھا۔ بہت بڑے امام تھے، قدآور شخصیات میں سے ایک، ابو عبداللہ الہمدانی الثوری الکوفی، فقیہ وعابد تھے، امام علی بن صالح کے بھائی تھے۔

پھر امام الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’هُوَ مِنْ أَئِمَّةِ الْإِسْلَامِ، لَوْلَا تَلَبُّسُهُ بِبِدْعَةٍ‘‘

(آپ آئمہ اسلام میں سے ہوتے اگر وہ اس بدعت (حکمران کے خلاف خروج کو جائز سمجھنا) میں ملوث نہ ہوتے)۔

وکیع فرماتے ہیں: ان کی ولادت سن 100ھ میں ہوئی۔

بخاری  فرماتے ہیں کہ ابو نعیم نے فرمایا: الحسن بن صالح کی وفات سن 169ھ میں ہوئی۔

الذہبی  فرماتے ہیں: ان کی عمر 69 برس تھی، یہ اور ان کے بھائی جڑواں تھے۔

یہ اپنے علم وعبادت میں بہت مشہور تھے۔

آئمہ سلف کے دور میں بہت سے آئمہ کے ہم عصر تھے جیسے امام سفیان الثوری رحمہ اللہ وغیرہ، اور احادیث کے راویو ں میں سے تھے۔

بلکہ ابن نعیم فرماتے ہیں کہ مجھ سے الحسن بن صالح نے بھی حدیث بیان کی ہیں اور وہ ورع وقوت میں سفیان الثوری سے کم نہيں تھے۔

(میزان الاعتدال  للذھبی، ج 1 ص 496)

یہاں تک کہ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ جو جرج وتعدیل میں شدت اپنانے میں معروف تھے ان تک نے فرمایا:

’’آپ ثقہ حافظ اور متقن ہیں‘‘۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ نےبھی ثقہ لکھا ہے۔

خشیت اور آہ وبکاء کا یہ عالم تھے کہ  یحیی بن ابی بکیر فرماتے ہیں:

’’ان سے فرمایا  گیا غسل میت بیان کیجئے، تو وہ رونے کی شدت کی وجہ سے صحیح طور پر بیان ہی نہيں کرپائے‘‘۔

ان کے چہرے پر خشیت کے آثار رہتے، ابو سلیمان الدارانی فرماتے ہیں:

’’میں نے کسی کے چہرے پر خوف وخشیت کو اتنا ظاہر نہيں پایا جتنا الحسن بن صالح پر دیکھا‘‘۔

زہد وقناعت پسندی کا یہ حال تھا کہ خود فرماتے ہيں:

’’کبھی کبھار میں صبح کرتا ہوں اس حال میں کہ میرے پاس ایک درہم بھی نہيں ہوتا، تو مجھے لگتا ہے گویا کہ ساری دنیا کی خوشیاں میرے لیے سمٹ آئی ہيں‘‘۔

تقویٰ وورع ایسا کہ ایک مرتبہ ایک لونڈی فروخت کررہے تھے تو جو شخص اسے خریدنا چاہتا تھا اس کو یہ تک بتایا کہ ایک بار کبھی اس نے ہمارے پاس خون کی الٹی تھی۔

ایک مرتبہ یہ آیت ان کے سامنے تلاوت ہوئی : ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ﴾ (الانبیاء: 103) (انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی) تو ان کا چہرہ خوف کے مارے کبھی سبز کبھی زرد ہورہا تھا۔

انہی کے بارے میں روایت کی جاتی ہے کہ  جب وہ قبرستان کو دیکھتے تو چیختے اور بیہوش ہوجاتے۔

اسی طرح بازار والوں کو بھی دیکھ کر روتے کہ یہ لوگ اسی چیز میں مگن ہیں اور موت انہيں اچانک آجائے گی۔

جعفر بن محمد بن عبید اللہ بن موسیٰ نے فرمایا، میں نے اپنے دادا سےسنا انہوں نے فرمایا:

میں علی بن صالح پر قرآن پڑھ رہا تھا جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ﴾ (مریم: 84) (پس آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں) تو الحسن گر گیا اور ایسی آوازیں نکالنے لگا جیسے بیل کی آواز ہوتی ہے، تو علی اس کی طرف کھڑے ہوئے، اسے اٹھایا، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، پانی کے چھینٹے ماریں اور اسے ٹیک دے کربٹھایا۔

قرآن مجید پر بہت غوروتدبر کیا کرتے یہاں تک کہ ایک دفعہ وہ قیام اللیل کررہے تھے کہ سورۃ النباء شروع کی اور ان پر غشی طاری ہوگئی، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور وہ سورۃ مکمل نہ کرپائے۔

قیام اللیل کی پابندی کرتے یہاں تک کہ وہ ان کا بھائی اور ان کی والدہ قیام اللیل کو آپس میں تین حصوں میں تقسیم کرلیتے ، جب ان کی والدہ وفات پاگئیں تو اپنے او ربھائی کے درمیان آدھا آدھا کرلیا، اور جب بھائی بھی وفا ت پاگئے تو پوری رات قیام کرنے لگے۔

دنیا سے زہد اور شدت غم اتنا کہ احمد بن یونس فرماتے ہیں:

’’میں ان کے پاس بیس برس بیٹھا، میں نے کبھی انہيں آسما ن کی طرف سر اٹھاتے یا دنیا کا ذکر کرتے نہيں پایا‘‘۔

ابو زرعہ الرزای تک فرماتے ہیں کہ:

’’ان کی شخصیت میں اتقان، فقہ، عبادت وزہد سب جمع تھا‘‘۔

اس سب کے باوجود سلف صالحین نے ان کو بدعتی قرار دیا، بعض نے روایات تک لینا ترک کردی، اس شدت سے کہ احمد بن یونس فرماتے ہیں:

’’اگر الحسن بن صالح پیدا ہی نہ ہوتا تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا!‘‘۔

آخر ان کا ایسا کون سا قصور تھا جس کی وجہ سے آئمہ سلف نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا اور آجکل جو موازنات کا منہج اپنایا جاتا ہے اسے بروئے کار نہیں لائے کہ اس کی نیکیاں، علم، عبادت و تقویٰ پر بھی نظر کرتے؟! اور ان کے غلط منہج ونظریہ کے شدت کے ساتھ رد کو یہ کہہ کر نہیں نظرانداز کیا کہ ہم شخصیات پر کلام اور ان کو مسخ نہيں کرتے وغیرہ۔

اس کا جرم یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کے ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کی بس رائے رکھتا تھا، نہ خود باقاعدہ خروج کیا، نہ ہی اپنے قول کو نشر کرتا تھا، نہ لوگوں کو خروج پر ابھارتا تھا، بس یہ رائے رکھتا تھا۔

محمد بن غیلان روایت کرتے ہیں ابو نعیم سے فرمایا: الحسن بن صالح کا الثوری کے سامنے ذکر ہوا تو فرمایا:

’’یہ شخص امت محمدیہ پر تلوار کی رائے رکھتا ہے‘‘ (یعنی حکام پر خروج کی)۔

یوسف بن اسباط  نے فرمایا:

’’الحسن تلوار کی رائے رکھتا تھا‘‘۔

اس کے خشوع تک سے وہ دھوکہ نہیں کھاتے تھے اسی لیے ابو سعید الاشج فرماتے ہيں میں نے ابن ادریس سے سنا  کہ ان کے سامنے الحسن بن صالح کی بیہوشی کا ذکر کیا گیا تو وہ فرمانے لگے:

’’امام سفیان کی صرف مسکراہٹ ہی ہمیں الحسن کی اس بیہوشی سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔

ابن نعیم فرماتے ہيں جمعہ کے روز جب مسجد کے دروازے سے الثوری داخل ہوئے تو حسن بن صالح کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، اس پر انہوں نے بے ساختہ فرمایا:

’’اللہ کی پناہ! اس منافقانہ خشوع سے‘‘۔

پس اپنے جوتے اٹھائے اور دوسرے ستون کے پاس چلے گئے۔

الذہبی فرماتے ہیں کہ :

’’وہ جمعہ تک نہيں پڑھتا تھا، ظالم آئمہ وحکام کے پیچھے وہ جمعہ پڑھنے کا قائل نہیں تھا‘‘۔

امام سفیان الثوری فرماتے ہيں کہ :

’’الحسن بن صالح نے جو کچھ علم میں سے سماع کیا اور اس کو سمجھا بھی، اس کے باوجود وہ جمعہ ترک کرتا تھا!‘‘۔

 پھر یہ کہہ کر وہ کھڑے ہوئے اور چل دیے۔

اسی طرح ابن ادریس فرماتے ہیں:

’’میرا ابن حی سے کیا تعلق؟! وہ تو جمعہ وجہاد تک نہیں مانتا (یعنی ظالم حکام کے ساتھ مل کر)‘‘۔

جب حفص بن غیاث نے فرمایا کہ یہ لوگ تلوار کی رائے رکھتے ہیں، یعنی ابن حی اور اس کے ساتھی۔ اس پر بشر بن الحارث فرماتے ہیں:

مجھے اپنے زمانے والوں میں سے کوئی دکھاؤ جو تلوار کی رائے نہ رکھتا ہو، سب ہی رکھتے ہیں سوائے بہت قلیل علماء کے، اور وہ ان کے پیچھے نماز کے بھی قائل نہيں۔ پھر آپ نے فرمایا:

’’امام زائدہ ابن قدامہ رحمہ اللہ  مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو ابن حی اور اس کے ساتھیوں سے تحذیر (خبردار) کرتے تھے‘‘۔

فرماتے ہیں وہ سب تلوار کی رائے رکھتے تھے۔

ابو صالح الفراء فرماتے ہیں: میں نے یوسف بن اسباط کو وکیع  سے مروی کوئی چیز فتنوں سے متعلق ذکر کی، تو انہوں نے فرمایا:

یہ اپنے استاد کی ہی طرح ہے یعنی الحسن بن حی کے، میں نے یوسف سے فرمایا: کیا تم نہيں ڈرتے کہ یہ غیبت ہوسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں، اے احمق؟! میں ان کے لیے ان کے ماں باپ سے بڑھ کر بہتر ہوں کہ میں لوگوں کو منع کرتا ہوں کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوں جو انہوں نے بدعات ایجاد کیں  تو ان سب کے بوجھ ان کے سر ہوجائيں گے۔۔۔جو ان کے لیے زیادہ نقصان کی بات ہے۔

عبداللہ بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں، ابو معمر فرماتے ہيں کہ:

’’ ہم وکیع کے پاس تھے پس جب کبھی وہ حسن بن صالح کی حدیث بیان کرتے ہم اپنے ہاتھوں کو روک دیتے اور نہيں لکھتے، انہوں نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تم لوگ حسن کی حدیث نہيں لکھتے؟ تو ان کو میرے بھائی نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ تلوار کی رائے رکھتے ہیں، تو امام وکیع خاموش ہوگئے‘‘۔

ابو اسامہ فرماتے ہیں:

’’میں حسن بن صالح کے پاس آیا تو اس کے ساتھی لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔۔۔ کہنے لگے! میں نے فرمایا، کیا ہوا ہے، کیا میں کافر ہوچکا ہوں؟! انہوں نے فرمایا: نہیں، لیکن یہ آپ سے مالک بن مغول اور زائدہ کی صحبت اختیار کرنے کا انتقام لے رہے ہيں۔ میں نے فرمایا: کیا تم بھی یہی فرماتے ہو؟ میں کبھی بھی تمہارے پاس نہیں بیٹھوں گا‘‘۔

زائدہ فرماتے تھے کہ:

 ’’وہ ایک زمانے سے اپنی غلط رائے پر ہٹ دہرمی کے ساتھ چمٹا ہوا ہے‘‘۔

بلکہ خلف بن تمیم فرماتے ہیں:

زائدہ تو ا س شخص کو توبہ کرواتے جو حسن بن صالح کے پاس سے آیا ہو۔

اور جن محدثین نے ان سے حدیث روایت کرنا تک چھوڑ دی تھی ان کے نام بھی ’’سیر اعلام ‘‘ میں ان کے ترجمے (سوانح) میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

الخریبی فرماتے ہیں کہ :

’’اصحاب الحدیث نے جو کچھ اس کی مذمت کی ہے اس نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، اس کی کوئی وقعت نہ رہی‘‘۔

اور فرماتے کہ :

’’وہ اپنی رائے پر گھمنڈ کرتا اور خود پسندی کا شکار تھا، اور ایسا شخص تو احمق ہی ہوتا ہے‘‘۔

زبانی خروج تو کجاوہ زبان کے متعلق کہتا جیسا کہ ابو نعیم نے روایت کیا کہ میں نے الحسن بن صالح کو فرماتے سنا:

’’میں نے ورع کو کھوجا تو زبان سے کم کسی چیز میں اسے نہيں پایا‘‘۔

ابو نعیم فرماتے ہیں:

’’میں نے آٹھ سو محدثین سے لکھا ہے لیکن الحسن بن صالح سے افضل کسی کو نہيں پایا ہے‘‘۔

وکیع فرماتے ہیں: حسن بن صالح میرے نزدیک امام ہیں۔ تو ان سے فرمایا گیا: وہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ترحم (رحم کے کلمات ادا) نہيں کرتے،  تو انہوں نے جواب میں فرمایا: تو کیا تم الحجاج پر ترحم کرتے ہو؟

الذہبی اس پر لکھتے ہیں کہ:

’’اللہ تعالی اس مثال میں برکت نہ دے۔ ان کی مراد یہ ہے کہ ترحم کو ترک کرنا گویا کہ سکوت ہے اور ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہيں کیا جاسکتا۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں جو شہید امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جیسے پر ترحم کرنے سے سکوت اختیار کرے تو یقیناً اس میں تشیع کے کچھ اثرات پائے جاتے ہیں۔ اور جو ان کے بغض اور تنقیص شان میں باقاعدہ کلام کرے تو وہ کٹر شیعہ ہے جس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، اور اگر اس کی مذمت شیخین (سیدنا ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما) تک پہنچ جاتی ہے تو وہ رافضی خبیث ہے، اسی طرح سے جو امام علی رضی اللہ عنہ کی مذمت کرنے کے درپے ہو تو وہ ناصبی ہے جس کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے، اور اگر وہ ان کی تکفیر کرتا ہے تو پھر وہ خارجی مارق ہے، بلکہ ہمارا راستہ ومنہج یہ ہے کہ ہم تمام صحابہ کے لیے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ مشاجرات ان کے مابین ہوئے اس پر کلام سے اپنے آپ کو روک رکھتے ہيں‘‘۔

اسی طرح ایک روایت کے مطابق ان کے بھائی کی موت کے وقت جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے آکر خبر دی کہ آپ لوگ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر انعام ہوا!

بہرحال امام الذہبی یہ نقل کرکے فرماتے ہیں:

’’الحسن اپنے زمانے کے حکمرانوں کے خلاف ان کے ظلم وجور کی وجہ سے خروج کی رائے رکھتا تھا، لیکن کبھی لڑا نہيں، اسی طرح سے فاسق کے پیچھے جمعہ کا بھی قائل نہيں تھا‘‘۔

عبداللہ بن داود الخریبی فرماتے ہیں:

’’الحسن بن صالح جمعہ ترک کرتا تھا، تو فلاں آیا اور رات سے صبح تک ان سے مناظرہ کیا، مگر الحسن اسی مؤقف پر گیا کہ ان کے ساتھ جمعہ ترک کرنا ہے اور ان پر خروج جائز ہے۔ اور یہ بات الحسن بن صالح کے بارے میں مشہور ہے، بس اللہ تعالی نے اس کے دین وعبادت کی وجہ سے شاید اسے اس بات سے محفوظ رکھا کہ پکڑا جائے اور قتل کردیا جائے‘‘۔

لیکن آئمہ سلف کی شدید جرح سے وہ محفوظ نہ رہا۔ لہذا کسی کا محدث ہونا، وسیع علم رکھنا، تقوی زہد وعبادت میں ممتاز ہونا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے کہ وہ خارجی تکفیری ذہنیت نہيں رکھ سکتا، یا لازما وہ سلفی عقیدہ ومنہج رکھتا ہوگا، بلکہ یہ زندہ مثال یہاں بیان ہوئی کہ کس طرح اس کے صرف حکام کے خلاف تلوار کی رائے رکھنے کی بنا پر اس پر شدید جرح سلف نے فرمائی۔ اس کی علم میں امامت کے باوجود یہ فرمادیا: امام الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’هُوَ مِنْ أَئِمَّةِ الْإِسْلَامِ، لَوْلَا تَلَبُّسُهُ بِبِدْعَةٍ‘‘

(آپ آئمہ اسلام میں سے ہوتے اگر وہ اس بدعت (حکمران کے خلاف خروج کو جائز سمجھنا) میں ملوث نہ ہوتے)۔

 اور یہ بات خود خوارج سے متعلق احادیث سے بھی ثابت ہے کہ ان کا زہد وتقویٰ اور عبادت بہت زیادہ ہوگی لیکن ان کے اس عقدی ومنہجی بگاڑ کی وجہ سے ان کی سخت ترین تردید احادیث میں موجود ہے اور قتل کردینے کا حکم اور اس کے فضائل بیان ہوئے ہيں۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:

’’سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘([1])

(آخری زمانے میں ایسی قوم ظاہر ہوگی جو کم سن وکم عقل ہوں گے۔  سب سے بہترین کلام  سےبات کریں گے (یعنی قرآن وحدیث کی)۔ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر ہدف (شکار) سے نکل جاتا ہے۔ اگر تم انہیں پاؤ تو قتل کردو کیونکہ بلاشبہ ان کے قتل کرنے پر اللہ تعالی کے یہاں بروزقیامت اجر ہے اس شخص کے لیے جو انہیں قتل کرے)۔

اور جب ذوالخویصرہ التمیمی خارجی نے نبی رحمت صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت اس کی گردن اڑانے سے روکتے ہوئے یہی صفات بیان فرمائيں کہ:

’’دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ‘‘([2])

(اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کی ایسے ساتھی ہوا کریں گے کہ جن کی نماز کے سامنے تم اپنی نمازوں کو ہیچ تصور کروں گے ، اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو کم تر محسوس کروگے۔ وہ (باکثرت) قرآن تلاوت تو کیا کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار ہوجاتا ہے)۔


[1] صحیح مسلم 1066۔

[2] صحیح بخاری 3610، صحیح مسلم 1065۔

ibaadah_ilm_zuhd_bawajod_kharijee