Is a Muslim ruler still considered the Imaam even if he doesn't meet all of its conditions – Various 'Ulamaa

مسلمان حکمران میں اگر امامت کی تمام شرائط نہ بھی پائی جائیں

 پھر بھی امام المسلمین سے وہی مراد ہوگا

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ عبدالسلام بن برجس رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’لو تعذر وجود الورع والعلم فيمن يتصدى للإمامة – بأن يغلب عليها جاهل بالأحكام، أو فاسق – وكان في صرفه عنها إثارة فتنة لا تطاق، حكمنا بانعقاد إمامته. لأنا بين أن نحرك فتنة بالاستبدال، فما يلقي المسلمون فيه – أي: في هذا الاستبدال – من الضرر يزيد على ما يفوتهم من نقصان هذه الشروط التي أثبتت لمزية المصلحة. فلا يهدم أصل المصلحة شغفاً بمزاياها، كالذي يبني قصر ويهدم مصراً. وبين أن نحكم بخلو البلاد عن الإمام، وبفساد الأقضية وذلك محال. ونحن نقضي بنفوذ قضاء أهل البغي في بلادهم لمسيس حاجتهم، فكيف لا نقضي بصحة الإمامة عند الحاجة والضرورة ؟!‘‘([1])

(اگر کسی امامت میں (تقویٰ) ورع وعلم ناپید ہو جیسے دینی احکام سے جاہل شخص یا فاسق شخص اقتدار پر قبضہ جما لے، اور اسے امامت سے ہٹانے میں ناقابل برداشت فتنے  کا اندیشہ ہو تو ہم اس حاکم کی امامت کے منعقد ہوجانے کا فیصلہ دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کا تختہ الٹنے کے نتیجے میں ہونے والے جس فتنے کو ہم ہوا دیں گے یا اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو جو ضرر ہوگا وہ اس سے کہیں زیادہ ہوگا جو امامت کی ان شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں ہورہا ہے، جو شرائط خصوصیت کی حامل یا امتیازی مصلحتوں کے بارے میں ہے۔ (امامت کے تعلق سے جو مصلحتیں حاصل ہوتی ہیں وہ دو اقسام کی ہیں 1- اصل یعنی عمومی وبنیادی  جیسے امن وامان کا قیام اور 2- خصوصی وامتیازی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں جیسے حاکم کا دینی عالم ومجتہد ہونا)۔ ان مصلحت کے تعلق سے جو خصوصی وامتیازی خوبیاں ہیں ان کے حصول کو بنیادی مصلحت حاصل کرنے پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔  اس کی مثال تو اس شخص کی سی ہوجائے گی جو محل بنائے اور ملک کو تباہ کردے!۔یا پھر ہم ملک میں بناحکمران وامام کے رہیں اور عدالتوں ومعاملات میں فساد برپا رہے، تو یہ بھی محال ہے۔اورہم تو شدید حاجت کے تحت باغی لوگوں کا ان کے ملکوں میں حکم چلنے تک کا فیصلہ دیتے ہیں، پھر کیوں ہم ان کی امامت کے صحیح ہونے کو حاجت وضرورت کے تحت نہ مانیں؟!)۔

اسی طرح سے امام شاطبی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ’’الاعتصام‘‘([2]) میں غزالی کا اس جیسا کلام نقل کیا ہے، جب وہ ’’المصالح المرسلۃ‘‘ کی مثال ذکر فرماتے ہیں تو لکھتے ہیں:

’’أما إذا انعقدت الإمامة بالبيعة، أو تولية العهد لمنفك عن رتبة الاجتهاد وقامت له الشوكة، وأذعنت له الرقاب، بأن خلا الزمان عن قرشي مجتهد مستجمع جميع الشروط وجب الاستمرار [على الإمامة المعقودة إن قامت له الشوكة].وإن قدر حضور قرشي مجتهد مستجمع للورع والكفاية وجميع شرائط الإمامة واحتاج المسلمون في خلع الأول إلي تعرض لإثارة فتن، واضطراب الأمور، لم يجز لهم خلعه والاستبدال به، بل تجب عليهم الطاعة له، والحكم بنفوذ ولايته وصحةإمامته…. ‘‘([3])

(اگر کوئی حاکم وامام رتبۂ اجتہاد تک نہیں پہنچتا مگر بیعت کے ذریعہ یا ولی عہدی کے ذریعہ اس کی امامت منعقد کردی جاتی ہے اور اس کے پاس شوکت وغلبہ ہے کہ جس کے آگے تمام لوگ مطیع ہوجائیں۔ جیسے کسی زمانے میں بالفرض کوئی قریشی، مجتہد اور تمام شروطِ امامت کو جمع کرنے والا موجود نہ ہو تو  اسے ہی برقرار رکھنا واجب ہے(یعنی جو بھی امامت وحکومت قائم ہے اسی کو جاری وساری رکھا جائے اگر اس کے پاس حکومتی شوکت وغلبہ ہو)۔اور اگر مان لیا جائے کہ کوئی قریشی مجتہد آجاتا ہے جس میں (تقویٰ) ورع ، کفایت اور امامت کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں۔ مگر اس پہلے والے کو ہٹانے کے لیے مسلمانوں کو لازم فتنہ وفساداور افراتفری سے گزرنا ہوگا تو پھر ان کے لیے اس پہلے والے کی بیعت توڑنا یا تختہ الٹنا جائز نہیں۔ بلکہ ان پر اس کی اطاعت اور اس کی حکومت وولایت کی صحت کا ماننا واجب ہے۔۔۔)۔

پھر امام غزالی نے بہت بہترین مثال دی کہ امام کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ دلائل کو خود پرکھنےاور تقلید سے آزادی کے لیے مزید علم حاصل کرے (جو کہ ایک  امتیازی خصوصیت ہے)۔

جب یہ بات جان لی گئی تو دیکھیں کہ امامت سے جو ثمرہ مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ متنفر کرنے والی مختلف آراء کی صورت میں جاری فتنوں کو ٹھنڈا کیا جائے(اور امن وامان قائم ہوجائے)۔

اس کے بعد امام غزالی کہتے ہیں:

’’فكيف يستجيز العاقل تحريك الفتنة وتشويش النظام وتفويت أصل المصلحة في الحال، تشوفاً إلي مزيد دقيقة في الفرق بين النظر والتقليد‘‘

(پھر کیسے کوئی عاقل شخص فتنے کو ہوا دے، نظام سلطنت کو درہم برہم کرکے (امن وامان کی ) اصل مصلحت کو ہی فوت کردے (نظر انداز کردے) اور اجتہاد وتقلید کے مابین فرق(یعنی امام خود مجتہد عالم ہو یا مقلد ہو)  کی جو (بنیادی واصل مصلحت سے)  زائد ایک خصوصی وامتیازی مصلحت ہے پر نظر رکھے)۔([4])

امام شاطبی امام غزالی کے اس کلام پر تعلیق فرماتے ہیں کہ:

’’هذا ما قال – يعني : الغزالي -، وهو متجه بحسب النظر المصلحي وهو ملائم لتصرفات الشرع وإن لم يعضده نص على التعيين. وما قرره هو اصل مذهب مالك …‘‘

(امام غزالی نےاگرچہ مصلحت کے پیش نظر یہ فرمایا، (لیکن اس کے باوجود وہ) اس میں شرعی تصرفات کو محلوظ خاطر رکھے ہوئے ہیں ، اگرچہ اس کے تعیین میں ان کےپاس کوئی نص نہیں ہے، لیکن جو کچھ انہوں نے ثابت کیا ہے وہ مذہب امام مالک رحمہ اللہ کے اصولوں میں سے ہے۔۔۔)۔

پھر امام شاطبی رحمہ اللہ نے اس باب میں وارد امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے وہ روایت نقل کی جس کا پہلے ذکر گزر چکا ہے، اور فرمایا: ’’فظاهر هذه الرواية أنه إذا خيف عند خلع غير المستحق وإقامة المستحق أن تقع فتنة وما لا يصلح، فالمصلحة الترك. وروي البخاري عن نافع، قال : لما خلع أهل المدينة يزيد بن معاوية، جمع ابن عمر حشمه وولده، فقال: إني سمعت رسول الله  يقول : (( ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة ))، وإنا قد بايعنا هذا الرجل على بيعة الله ورسوله، وأني لا أعلم أحد منكم خلعه ولا تابع في هذا الأمر إلا كانت الفيصل بيني وبينه‘‘

(اس روایت کا ظاہر مفہوم یہی ہے کہ اگر غیر مستحق حکمران کو ہٹا کر مستحق امام کو لانے کی صورت میں فتنہ وفساد کا خطرہ یا ناقابل ستائش نتائج کا امکان ہو، تو مصلحت اسی بات کی متقاضی ہے کہ اسے ترک کردیا جائے۔ اور امام بخاری نے نافع سے روایت بیان کی، فرمایا: جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اولاد اور اہل وعیال کو جمع کیا اور انہیں گواہ بناتے ہوئے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہر غدار کے لیے بروز قیامت ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی غداری ہے۔ ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت کی ہے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقرر کردہ بیعت کے موافق۔ اور میں تم میں سے کسی کو ناپاؤ کہ وہ اس کی بیعت توڑے یا توڑنے والے کی حمایت کرے،ورنہ  یہی میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کن بات بن جائے گی(یعنی پھر میں اس کا حامی نہیں رہوں گا)([5]

امام ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وقد قال ابن الخياط أن بيعة عبد الله لزيد كانت كرها، وأين يزيد من ابن عمر؟ ولكن رأى بدينه وعلمه التسليم لأمر الله، والفرار من التعرض لفتنة فيها من ذهاب الأموال والأنفس ما لا يفي بخلع يزيد، لو تحقق أن الأمر يعود في نصابه، فكيف ولا يعلم ذلك ؟ قال: وهذا أصل عظيم فتفهموه والزموه، ترشدوا – إن شاء الله ‘‘

(ابن الخیاط نے فرمایا: بے شک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یزید بن معاویہ کی بیعت کرنا اکراہ کی حالت میں تھا، ورنہ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درجے کے سامنے یزید کی کیا حیثیت؟ لیکن انہوں نے اپنی دینی بصیرت وعلم سے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے ہی میں بہتری سمجھی اور اس فتنے وفساد سے فرار کی پیش نظر کہ جس میں بہت سا مالی وجانی نقصان ہوتا یزید کی بیعت نبھانے ہی میں بہتری سمجھی، یہ تو اس صورت میں کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ معاملات اس فساد کو برپا کرنے کے بعد قابو میں آجائیں گے، مگر اس صورت میں کیا کہنا کہ جب ان کا قابو میں آنا معلوم ہی نہ ہو؟ (یعنی اس صورت میں تو اور زیادہ پرہیز کرنا چاہیے)۔فرمایا: یہ عظیم اصول ہے، جسے سمجھو اور اس کا التزام کرو، ان شاء اللہ رشد وہدایت پاجاؤ گے)۔

الاعتصام از امام شاطبی کا کلام ختم ہوا([6])۔

(معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ)

سوال: احسن اللہ الیکم، کیا امامت کی جو شرائط فقہاء کرام نے ذکر کی ہیں جیسے علم، عدل اور اس عہدے کے لیے کفایت کرنے والی شرائط وغیرہ، کیا یہ شرائط کمال کے لیے ہیں یا امامت کی بنیادی صحت کے لیے (یعنی اس کے بغیر وہ مسلمانوں کا امیر ہی نہيں کہلا سکتا) جزاکم اللہ خیراً؟

جواب از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ:

یہ شرائط تو حسب امکان ہیں ناکہ لازم ہے کہ سوفیصد یہ شرائط اس میں پائی جائیں، لیکن حسب امکان جتنا بہتر سے بہتر ہوسکے۔

سوال: بعض ایسے لوگ بھی ہيں جو کہتے ہیں کہ اس زمانے کے حکمرانوں میں ولایت (جماعۃ الام کے امیر) کی شرائط ہی پوری نہيں ہوتی، اسی لیے وہ ان لوگوں کے بارے میں قدرے سستی ورواداری کا مظاہرہ کرتے ہيں جو ان حکمرانوں پر علانیہ نکیر کرتے ہيں، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ:

یہ صحیح نہيں ہے! جو کوئی بھی مسلمانوں کا ولی امر بن جائے، اور وہ مسلمان ہے تو پھر بلاشبہ اللہ تعالی کی معصیت کے سوا اس کی اطاعت واجب ہے، اور اس کے تعلق سے وہی کچھ واجب ہوگا جو ولاۃ امور (آئمہ مسلمین) کے تعلق سے واجب ہوتا ہے۔

سوال: سماحۃ الشیخ ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو خلیجی ممالک کی عوام کو اپنے حکومتوں کے خلاف خروج پر اکساتے ہیں اور اس کا جواز اس چیز کو بناتے ہيں کہ ا ن (حکام) میں سے بعض میں ولایت کی شرائط پوری نہیں ہوتیں؟

جواب از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ:

 یہ شخص فتنے کی طرف اور فتنے وفساد کی آگ بڑھکانے کی طرف دعوت دیتا ہے، داعئ شر اور داعئ ضلالت وگمراہی ہے۔ اس کی طرف بالکل بھی التفات وتوجہ نہ کی جائے نہ ہی اس کی بات سنی جائے۔

(الإعلام بكيفية تنصيب الإمام في الإسلام)

سوال: کیا یہ قول صحیح ہے کہ مسلمانوں کا حکمران امام وہ ہوتا ہے جس پر تمام دنیا کے مشرق ومغرب کے مسلمان جمع ہوں؟

جواب از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ:

 یہ کلام تو خوارج کا ہے۔ امام یا حکمران وہ ہے جس کی اہل حل وعقد بیعت کریں، اور اس کی اطاعت باقی لوگوں پر بھی لازم ہے۔ یہ لازم نہیں کہ مشرق ومغرب سے ہر زن ومرد اس کی بیعت کرے۔ امامت یا حکومت کے قیام کا یہ اسلامی منہج نہیں([7])۔

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ  س 20)

 


[1] احیاء علوم الدین، الزبیدی کی شرح کے ساتھ (2/233)۔

 

 

 

 

[2] 3/44 میں نے غزالی کی کتاب ’’فضائح الباطنیۃ‘‘ میں بھی یہی الفاظ پائے ہیں (119-120)۔

 

 

 

 

[3] بریکٹ کے درمیان کے الفاظ ’’فضائح الباطنیۃ‘‘ کے ہیں 120۔

 

 

 

 

[4] کاش کہ ہمارے وہ بھائی جو حکمرانوں میں امامت کی بعض شرائط کے مفقود ہونے کی وجہ سے لوگوں میں تشویش مچاتے ہیں اس سنجیدہ علمی کلام پر غور وفکر کریں، اور دیکھیں جو تعلیق امام شاطبی رحمہ اللہ جیسے مجتہد عالم نے اس کی تائید ونصرت میں کی ہے۔ (شیخ عبدالسلام بن برجس رحمہ اللہ)

اسی طرح شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض حالات میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ حکام شرعی فیصلوں کو برحق اور واجب الاتباع سمجھتے ہیں مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اسے نافذ کرنے سے عاجز ہیں، حالانکہ وہ غیرشرعی فیصلے پر کسی قسم کا یقین نہیں رکھتے لیکن لاچار انہیں نافذ کرنا پڑتا ہے۔ ان کی نیت پر فوراً حملہ کرنا دانشمندی نہیں۔ اگرچہ وہ شرعی حکم نافذ نہیں کرسکتے لیکن مسلمانوں کو بہت سا فائدہ پہنچا سکتے اور ان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ ان کی مخالفت کرکے انہیں ہٹانے سے دوسرے زیادہ (بڑے) نقصانات کا اندیشہ ہے ۔۔۔ (بدیع التفاسیر (سندھی) جلد7 تفسیر سورۂ مائدہ ایڈیشن جنوری 1998)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

 

[5] صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب: اذا قال عند قوم شیئا، ثم خرج فقال بخلافہ: (13/68)۔

 

 

 

 

[6] (3/46-47)۔ اسی طرح کا کلام ابن العربی نے ’’العواصم من القواصم‘‘ ص 334 میں کیا ہے، دیکھیں اس مبحث کے لیے ’’العواصم والقواصم فی الذب عن سنۃ ابی القاسم‘‘ لابن الوزیر، ط ۔ مؤسسۃ الرسالۃ: (8/172)، انہوں نے اس مسئلہ کی کچھ مثالیں بیان فرمائی ہیں جیسے: ’’عورت کا بغیر ولی کے نکاح کا جواز اگر اس کا ولی گمشدہ ہو، یا اس کی رہائش انتہائی دور ہو، یا اس کا بقید حیات ہونا معلوم نہ ہو، اس صورت میں بہت سے علماء کرام نے شرعی عقد نکاح کی شرط یعنی ولی کی رضاء مندی کو ترک کردیا ہے صرف ایک عورت کی مصلحت کی خاطراور ایک گمشدہ عورت کے ضرر کے پیش نظر، پھر کیسے ایک پوری مسلم قوم کی مصلحت اور ان کے ضرر کے خوف کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے بلکہ وہ تو بالاولیٰ اس کی حقدار ہے؟‘‘  اور آخر تک جو مثالیں انہوں نے بیان فرمائی ہیں۔

 

 

 

 

[7] اور اسی بات کو اپنا اوڑھنا بچھونا وہی لوگ بنائے رکھتے ہیں جو خوارج کے منہج سے یا ان گمراہ کن پاگل پنے کی دعوتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو اپنی بہت سے کیسٹوں کے ذریعہ جنہیں خفیہ طور آڈیٹوریم ہالز، کھیتوں یا مشکوک مقامات وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے پھیلاتے ہيں۔ یا پھر انٹرنیٹ ویب سائٹس کے ذریعے کہ جو اہل گمراہی وضلالت کے پھلنے پھولنے کا نہایت زرخیز ذریعہ بن چکا ہے۔ (الحارثی)