The present Muslim rulers are intended by the Hadeeths regarding obeying the Imaam – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

جس امام کی اطاعت کا احادیث میں حکم ہے وہ یہی موجودہ حکمران ہیں

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

وہ آئمہ یا خلیفہ جن کی اطاعت کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا ہے وہ یہی موجودہ ومعروف حکمران ہیں کہ جن کے پاس حکومت واختیارات ہیں لیکن جو معدوم ہو یا اس کو اصلاً ہی کسی چیز پر  اختیار یا اقتدار نہ ہو تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ولاۃ امور (حکمرانوں) کی اطاعت والے حکم میں داخل نہیں ہیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمر بطاعة الأئمة الموجودين المعلومين، الذين لهم سلطان يقدرون به على سياسة الناس، لا بطاعة معدوم ولا مجهول ولا من ليس له سلطان ولا قدرة على شيء أصلاً‘‘([1])

(بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آئمہ کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے جو موجود ومعروف ہیں کہ جن کے پاس اقتدار ہے کہ جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں کے سیاسی امور کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ ناکہ معدوم ومجہول کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے، اور نہ ہی ان کی کہ جن کا کسی چیز پر اصلاً ہی کوئی اختیار واقتدار نہیں)۔

اس  کی دلیل یہ ہے کہ شریعت نے جو امامت کے مقاصد بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں: لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرنا، شعائر اللہ کا اظہار کرنا اوراقامت حدود وغیرہ کہ جن کو کوئی معدوم جو موجود ہی نہ ہو یا مجہول جسے کوئی جانتا ہی نہ ہو ادا نہیں کرسکتا۔ بلکہ یہ باتیں تووہی کرسکتا ہے جو موجود ہواور تمام مسلمانوں خواہ علماء ہوں یا عوام، نوجوان ہوں یا بوڑھے، مرد ہوں یا عورتوں میں معروف ہو۔ ایسا امام وحاکم کہ جسے مقاصد امامت کے نفاذ کی قدرت حاصل ہو۔ جب کسی مظلوم کو اس کا حق لوٹانے کا حکم دے تو لوٹا دیا جائے، جب کسی حد کو نافذ کرنے کا حکم دے تو وہ نافذ کردی جائے، جب وہ رعایا پر کوئی تعزیری حکم جاری کرے تو وہ جاری کردیا جائے اور اس جیسے دیگر مظاہر جو سلطنت، ولایت وحکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ تو یہ وہ امام ہے کہ جس کے ہاتھوں اللہ تعالی مسلمانوں کے مصالح جاری کرواتا ہے۔ پس راستے محفوظ ہوجاتے ہیں، مسلمانوں کا کلمہ اس پر جمع ہوجاتا ہے یعنی یکجہتی ہوجاتی ہے،  اور اسلامی سلطنت کی بنیادوں کی حفاظت ہوتی ہے۔

جو کوئی بھی اپنے آپ کو ایسے ولی امر (حاکم/خلیفہ) جس کے پاس عوام کے سیاسی امور چلانے کی قدرت واختیارات ہوتے ہیں کے مرتبے پر خود سے فائز کرلیتا ہے۔ اور پھر لوگوں کی جماعت کو اپنی سمع واطاعت کی طرف بلاتا ہے یا وہ جماعت اس کی ایسی بیعت کرتی ہے کہ جو اس کی سمع واطاعت کو واجب کرے، یا پھر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ حقوق کو ان کے اہل تک پہنچانے کے لیے اس  سے فیصلے کروائیں (جیسے نجی عدالت وقضاء وبیت المال کا نظام)۔ خواہ یہ کام کسی بھی نام کے تحت کیا جائے، حالانکہ اس ملک میں حاکم وقت قائم وظاہر موجود ہو تو ایسا شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول e کی اور شریعت کے مقتضیٰ کی مخالفت کرنے والا ہے،  اور جماعت سے خارج ہونے والا (خارجی) ہے۔

اس کی اطاعت واجب نہیں بلکہ حرام ہے۔ جائز نہیں کہ اس کی طرف معاملات لے کر جائیں یا اس کا حکم نافذ ہو۔ جو کوئی بھی ایسوں کی تائید ومدد کرتا ہے چاہے مالی طور پر ہو یا صرف ایک کلمہ یا اس سے بھی کم کہنے کے طور پر ہو تو اس نے اسلام کے انہدام اور مسلمانوں کے خون خرابے میں اعانت کی، اور زمین میں فساد برپا کیا اوریقیناً  اللہ تعالی فسادیوں کو پسند نہیں فرماتا۔

 


[1] منھاج السنۃ النبویۃ: (1/115) ط۔ رشاد سالم۔