Rights of the general public – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

عوام کے حقوق   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: حق الرعية في من يرعاها.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: میں نے کچھ دیر پہلے آپ کا کلام سنا رعیت (عوام) اور راعی (حکمران) کے تعلق سے، سائل کہتا ہے:  معاشرے یا عوام کے اپنے حکمران پر کیا حقوق ہوتے ہيں جن کی رعایت ودیکھ بھال اسے کرنی چاہیے،  شہریوں کے حقوق حکمران پر یا جو اپنے رعایا پر مسئول ہے؟

جواب: حکمران ونگران پر یہ حق ہے کہ وہ عوام سے متعلق اپنے واجبات کی ادائیگی کرے ، اور ان کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے، ان کے مابین عدل وانصاف سے حکم کرے، اور اپنی ولایت کو عدل وانصاف پر قائم رکھے، اور عوام اللہ تعالی کی اطاعت میں جو کام کرتی ہے اقتصاد سے متعلق، تعلیم وصحت سے متعلق اس کی ضمانت وامن انہیں حاصل ہو بلکہ ہر اس چیز میں حاصل ہو جسے بخوبی نبھانا اس کی ذمہ داری ہے، ان کی یوں دیکھ بھال ونگہداشت کرے جیسے اپنی اولاد کی کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی اس سے ان تمام باتوں کا سوال کرنے والا ہے۔تو اسے چاہیے کہ ان کی دیکھ بھال پوری امانت واخلاص سے کرے اور جو ان کے ماتحت ہیں ان کے روزگار اور دیگر ضروری سرگرمیوں کو یقینی بنائے، اور وہ تعاون اور واجب کے قیام کی طرف دعوت دے۔ اور جب سرکاری مسؤلین اس حکمران کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی رعایا کی کس طرح دیکھ بھال کرتا ہے اور اپنے واجب کی ادائیگی میں کوشاں رہتا ہے تو وہ اس کی اس بات میں پیروی کریں گے، اور وہ بھی اس کی دیکھا دیکھی اور نمونہ بناتے ہوئے اپنے واجبات کو بحسن خوبی ادا کریں گے۔ کیونکہ اس کی اصلاح دیگر تمام نگرانوں کی اصلاح ہے۔اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو اس بات کی توفیق دے جسے وہ پسند فرماتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے، اور ان کی مدد فرمائے ان کے دین وبدن میں صحت وسلامتی وعافیت کے ساتھ، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے([1])۔

اور حکمران کا حق اپنی رعایا پر یہ ہے کہ وہ کلمے واتحاد کو مجتمع رکھیں اسے پارہ پارہ نہ ہونے دیں، اس کی سمع وطاعت کریں، امر بالمعروف کریں، اور لوگوں کے دلوں کو اس کے خلاف بغض سے بھرنے سے پرہیز کریں، اور اپنے حکمرانوں کے لیے توفیق وراست بازی کی دعاء کریں، اور ہم ان پر خروج نہ کریں اور نہ ہی کبھی ان لوگوں سے راضی ہوں جو ان پر قدح وطعن کرتے ہيں اور ان کے بارے میں طرح طرح کی باتيں کرتے ہیں، یا ویب سائٹس وغیرہ پر جھوٹے پروپیگنڈے کا بیج بوتے ہيں،  بلکہ ہمیں چاہیے کہ ان کا اور ان کی عزتوں کا دفاع کریں، اور ان کے ساتھ مل کر ہر اس کے خلاف ایک ہاتھ بن کر ڈٹ جائيں جو اللہ تعالی اور اس کے دین سے خروج کرے۔

 


[1] امام عادل کی فضیلت پر کئی ایک احادیث وارد ہوئی ہیں جیسے وہ منابر نور پر ہوں گے، اور بروز قیامت ان خوش نصیبوں میں سے ہوں گے جنہيں اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا، اس کی دعاء قبول ہوتی ہے وغیرہ، اور ظالم اور ناانصاف حکمران کے لیے وعیدیں بھی احادیث میں وارد ہيں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء کہ جو میری امت پر حکمران ہو اور نرمی کرے تو اللہ اس کے ساتھ نرمی فرمانا اور جو سختی کرے تو اس کے ساتھ سختی کا معاملہ فرمانا، اور بہت کم لوگوں پر بھی جو حکمران ہو تو وہ بھی عدل کے ذریعے یا تو نجات پائے گا یا عدل نہ کرنے کی وجہ سے بروز قیامت سزا پائے گا، اور بروز قیامت ہر حکمران، نگران اور سرپرست جوابدہ ہوگا اپنے رعایا اور زیر دست سے متعلق۔ (صحیح مسلم اور دیگر کتب احادیث میں صحیح سند کے ساتھ یہ احادیث مروی ہیں)۔ البتہ اگر حکمران عوام کے حقوق غصب کریں تو ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے کہ ان حکام کے حقوق انہیں دواور اپنے حقوق اللہ تعالی سے طلب کرو(صحیح بخاری 7052 وغیرہ)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)