Advice to the wife to have patience when her husband marries another – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

شوہر کے دوسری شادی کرنے پر بیوی کو صبر کی نصیحت   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نصيحة للزوجة بالصبرعند زواج زوجها بأخرى (اللقاء الشهري – 2)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: وفقکم اللہ، آپ کیا فرماتے ہیں ان شوہروں کے بارے میں جو اگر دوسری شادی کرلیتے ہیں تو اپنی پہلی بیوی کو کہتے ہیں: تمہیں اختیار ہے، طلاق چاہتی ہو یا پھر اپنے اولاد کے ساتھ رہنا چاہتی ہو، اگر وہ عورت اس کا جواب نہيں دیتی تو کیا اس پر کوئی حرج ہے؟ اور اس کا کیا حال ہوگا اگر وہ بعد میں بھی اسے جواب نہ دے؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ جب کسی عورت پر اس کا شوہر دوسری شادی کرلیتا ہے تو وہ ایسی ایسی حرکتيں کرنے لگتی ہے کہ جو بالکل بھی لائق نہیں، چیخنا چلانا، بائیکاٹ وقطع تعلقی، غیض وغضب اور اپنے شوہر سے طلاق طلب کرنا([1]) یا نئی بیوی کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کرنا([2]) یا اس جیسی دیگر باتیں۔

ایک عورت کو چاہیے کہ اس معاملے کو ذرا اپنے نفس پر ہلکا لے (یعنی کوئی اتنی بڑی قیامت نہيں ٹوٹ پڑی ہے)۔ کیونکہ یہ کام تو خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی صادر ہوا تھا، اور مومنین کے سردار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ اور جو ان کے بعد آئے آج تک ان سب سے یہ صادر ہوا۔ جب اللہ تعالی نے ایک مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ چار بیویوں تک شادی کرسکتا ہے تو خود وہ اللہ تعالی سب سے زیادہ علم وحکمت رکھنے والا اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

عورت کو چاہیے کہ اس معاملے کو اپنے نفس پر (اتنا بھاری نہ لے، سوار نہ کرے بلکہ) ہلکا لے، اور جو کچھ مشقت کا اسے سامنا ہوبھی رہا ہے تو اس پر صبر کرے اور اپنے شوہر سے ایسا کوئی مطالبہ نہ کرے۔

اور میرے خیال سے اگر شوہر کو اپنی پہلی بیوی کچھ نرم اور سازگار لگے تو وہ بھی نرم ہی رہتا ہے، لیکن (مسئلہ یہ ہے کہ) بعض بیویاں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ا ن کا شوہر ان پر دوسری شادی کرلے تو اسے ایسی چیزوں کا پابند بناتی ہيں جو اسے ناپسند ہوتی ہے، اور ایسے چیزوں کا مطالبہ کرتی ہيں جو اسے ناگوار ہوتی ہيں، تب وہ ان سے کہتا ہے کہ: تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو جو کچھ میں نے کیا اس کے باوجود اپنی اولاد کے ساتھ رہو کہ تم گھر کی مالکن ہو، ورنہ اگر تم چاہو کہ طلاق دے دوں تو میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں۔

اگر وہ ایسا کہتا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہيں، کیونکہ یہی حقیقت ہے(جس سے کوئی مفر نہیں)۔  جب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جو کہ امہات المؤمنین میں سے ہيں نے یہ دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں رغبت نہیں رہی  تو انہوں نے انتہائی عقل مندی ودانش مندی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اپنی باری سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو ہبہ کردی، کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا جانتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کردی([3]) اور باقی زندگی اسی طرح بغیر باری کے بسر کی، کیونکہ انہوں نے خود ہی باریوں میں سے اپنا حق ساقط فرمادیا تھا، لیکن وہ ام المؤمنین کے بطور باقی رہیں (اللہ تعالی ان سے راضی ہو)۔

 


[1] جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ‘‘ (سنن ابی داود 2226 اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے) (کوئی بھی عورت جو اپنے شوہر سے طلاق طلب کرے جبکہ اسے اس کی طرف سے کوئی تکلیف نہيں، تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا‘‘ (صحیح بخاری 5152) (کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنی کسی(سوکن) بہن کی طلاق کی شرط اس لیے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[3] صحیح بخاری 5212 وغیرہ۔