Stance regarding different Jamaat, groups and parties – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

حزبیات وجماعتوں سے متعلق مؤقف   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کا انٹرویو نیوز پیپر مکہ 4 فروری، 2014 ص26۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: مسلمانوں کی صفوں میں پائی جانے والے جماعتیں اور حزبیات کے متعلق ایک مسلمان کا کیامؤقف ہونا چاہیے؟ اور جماعتوں کے لیے حزبیت میں مبتلا لوگوں کے لیے آپ کیا نصیحت کرنا پسند فرمائیں گے؟

جواب: ایسی مختلف جماعتوں اور حزبیات کا وجود بہت بڑا خطرہ ہےجو مسلمانوں کے صف واحد میں تفرقہ ڈالیں، ان کی وحدت کو پارہ پارہ کریں، آپس میں کئی پرچموں کو وجود دیں اور آپس میں جنگ وجدل وتنازع کو ہوا دیں۔ یہ امر باعث قلق ہے اور اس کے مسلمانوں ، ان کی وحدت صف اور اجتماع کلمہ پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

امت کے سلف صالحین صحابہ کرام، تابعین عظام اور جنہوں نے بطور احسن ان کی منہج، فہم، عمل اور سلوک میں پیروی کی وہ اس دین کے لیے کام کرنے اور اس کی خدمت کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے، اسی طرح سے صحیح عقیدے کو نشر کرنے اور بدعات ومنکرات کے خلاف جنگ کرنے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے، مگر یہ سب مسلمانوں کے حکمران کے تحت اجتماع کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔ اس کی معروف میں اطاعت کرتے اور بڑے مسائل اور عام قضیوں کے لیے راسخ فی العلم علماء کرام سے رجوع کرتے، امت کے اعلیٰ تر مصالح اور وسیع تر مفاد کے لیے کوشاں رہتے،  اس کی اثاثوں کی حفاظت کرتے، پارٹی بازی و منفرد وانوکھی رائے اپنانے کو مسترد کرتے تھے، تمام تر امور میں میانہ روی واعتدال کو اپناتے، ہمیشہ اس بات کے حریص رہتے کہ کس طرح خون خرابے ، ظلم وعدوان ، حزبیت وفساد فی الارض سے بچا جائے۔ کیونکہ اسلام دین واحد ہے، جس کا عقیدہ بھی واحد ہےاور منہج بھی واضح ہے۔ تمام لوگوں کو چاہیے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جمع ہوجائیں۔