Allaah's curse and punishment upon those who create mischief and tribulation in the holy city of Madeenah – Various 'Ulamaa

مدینہ نبویہ میں فتنہ فساد مچانے والوں پر وبال اور لعنت

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں ’’كتاب فضائل المدينة‘‘ (کتاب: فضائل مدینہ) کے تحت پہلا باب قائم کرتے ہیں: ’’بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ‘‘ (مدینہ کے حرم کا بیان) اس کے تحت کچھ احادیث لائے ہیں۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، ‏‏‏‏‏‏لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُحْدَثُ فِيهَا حَدَثٌ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ‏‏‏‏‏‏فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘ (حدیث 1867)

(مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک) اس میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے ، نہ کوئی بدعت کی جائے ، اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے)۔

اسی طرح حدیث 1870 میں ہے کہ:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

’’مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ ‏‏‏‏‏‏وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ ‏‏‏‏‏‏حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ‏‏‏‏‏‏وَالْمَلَائِكَةِ ‏‏‏‏‏‏وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ‏‏‏‏‏‏وَلَا عَدْلٌ‘‘

(ہمارے پاس کتاب اللہ اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس صحیفہ کے سوا اور کوئی چیز (شرعی احکام کے بارے میں لکھی ہوئی) نہیں، اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ تعالی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل)۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ ریاض الصالحین کی شرح ج 6 ص 213 میں فرماتے ہیں:

’’مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ آوَى مُحْدِثًا‘‘ یہاں اس سے مراد دو چیزیں ہیں:

1-  بدعت:

جس کسی نے اس میں بدعت ایجاد کی تو  وہ ’’أَحْدَثَ فِيهَا‘‘ کا مصداق ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ:

’’ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ‘‘([1])

(کیونکہ بلاشبہ (دین میں) ہر مُحْدَثَةٍ (نیا کام) بدعت ہے اورہر بدعت گمراہی ہے)۔

پس جس کسی نے اس میں کوئی حدث ایجاد کی یعنی  مدینہ میں اللہ کے دین میں ایسی بدعت ایجاد کی جس کو اللہ تعالی نے مشروع قرار نہیں دیا تو اس پر اللہ تعالی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے یعنی وہ مستحق ہے کہ ہر لعنت کرنے والا اسے لعنت کرے، العیاذ باللہ۔ کیونکہ بلاشبہ یہ مدینہ تو مدینۂ سنت اور مدینۂ نبوت ہے تو پھر کیسے اس میں ہی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بدعت ایجاد ہو۔

2- فتنہ:

یعنی اس میں مسلمانوں کے درمیان کوئی فتنہ برپا کرے  چاہے وہ خون بہنے پر منتج ہو یا اس کے علاوہ عداوت، بغض ونفرت اور تفرقہ بازی اور اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر۔ کیونکہ بے شک جو یہ حدث کرتا ہے اس پر بھی اللہ تعالی کی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے۔

البتہ جو اس میں عام گناہ کرتا ہے، مدینہ نبویہ میں اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ شدید وعید اس پر منطبق نہیں ہوتی۔ البتہ یہ ضرور کہا جائے گا کہ مدینہ میں کوئی گناہ کرنا اس کے علاوہ کسی جگہ میں کرنے سے زیادہ بڑی بات ہے لیکن اس کا مرتکب اس لعنت کا مستحق نہيں ہے۔ بلکہ صرف اور صرف لعنت کا مستحق وہ ہے جو اس میں حدث کرے ان دونوں معنوں کے اعتبار سے یعنی یا بدعت ایجاد کرے یا فتنہ برپا کرے،تو اس پر اللہ تعالی کی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے۔ انتھی کلامہ رحمہ اللہ۔

 اس کے علاوہ بھی امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی کتاب میں یہ باب بھی باندھا ہے: ’’بَابُ إِثْمِ مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ‘‘ (جو شخص مدینہ والوں کو ستانا چاہےیا ان کے خلاف سازش رچائے تو  اس پر کیا وبال پڑے گا) اس کے تحت حدیث  1877 ذکر فرماتے ہیں  کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ‘‘

(اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا یا ان کے خلاف سازش رچائے گا تو وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جایا کرتا ہے)۔

اللہ تعالی مدینہ نبویہ کی ہر بدعت اور شر وفساد اور دشمنان اسلام، اہل بدعت وشرپسندوں سے حفاظت فرمائے۔

 


[1] اسے ابو داود نے اپنی سنن 4607 میں روایت کیا اور شیخ البانی نے صحیح ابی داودمیں اسے صحیح قرار دیا ہے۔