Prophet Ibraheem علیہ السلام was Only Upon Tawheed – Shaykh Abdul Muhsin Al-Abbaad

خلیل اللہ سیدنا ابرہیم علیہ الصلاۃ والسلام خالص توحید پر قائم تھے

فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ

(محدثِ مدینہ و سابق رئیس، جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: من كنوز القرآن الكريم ص 295-296۔

پیشکش: توحید خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورۃ الزخرف

اللہ تعالی کا فرمان:

﴿وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖٓ اِنَّنِيْ بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ،  اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ فَاِنَّهٗ سَيَهْدِيْنِ، وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ﴾ (الزخرف: 26-28)

(اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بےشک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو، سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بےشک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا، اوروہ اسی (کلمۂ طیبہ) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات کے طور پر چھوڑ گئے، تاکہ وہ رجوع کریں)

اللہ تعالی نے اپنے رسول وخلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی برأت سے متعلق خبر دی ہر اس برابری والے شریک سے جن کی ان کے باپ اور قوم  عبادت کرتے تھے۔اور یہ کہ ان کی عبادت  کسی کے لیے نہیں تھی سوائے  اکیلے اللہ تعالی کے لیے جس نے انہيں پیدا فرمایا اور ہدایت  کی راہ دکھلائی۔ اور یہی لا الہ الا اللہ کا معنی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا یہ فرمان:

﴿اِنَّنِيْ بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ﴾

(بےشک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو)

’’لا الہ‘‘  کے معنی میں ہے۔

اور یہ فرمان:

﴿ اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ فَاِنَّهٗ سَيَهْدِيْنِ﴾

(سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بےشک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا)

’’الا اللہ ‘‘ کے معنی میں ہے۔

چناچہ یہی وہ کلمہ تھا جو سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ پس پھر کسی کو اللہ تعالی نے اس سے تمسک کی توفیق دی، اور کوئی اس کے برخلاف رہا۔

اور اس جیسی آیت اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے تعلق سے سورۃ الشعراء میں فرمایا:

﴿قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ، اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ،  فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ، الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ﴾ (الشعراء: 75-78)

(انہو ں نے کہا : تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو، تم بھی اور تمہارے پہلے باپ دادا بھی، سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے، وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے)

اور سورۃ الممتحنۃ میں فرمایا:

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ﴾ (الممتحنۃ: 4)

(یقیناً تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے ہمیشہ سے ایک اچھا نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بےشک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جن کی تم اللہ تعالی کے سوا عبادت کرتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ)

اور سورۃ العنکبوت میں فرمایا:

﴿وَاِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّــقُوْهُ  ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ، اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا  ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْهُ وَاشْكُرُوْا لَهٗ  ۭ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾ (العنکبوت: 16-17)

(اور ابراہیم کو (بھی یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو، تم اللہ کے سوا چند اوثان (بتوں  وغیرہ) ہی کی تو عبادت کرتے ہو،  اور تم (ان سے متعلق) سراسر جھوٹی کہاوتیں اور باتيں گھڑ تے ہو ۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ تعالی ہی کے پاس رزق تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے)

اور سورۃ الانبیاء میں فرمایا:

﴿قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَـيْــــًٔا وَّلَا يَضُرُّكُمْ، اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾ (الانبیاء: 66-67)

(انہوں نے کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دیتی ہے اور نہ تمہیں نقصان پہنچاتی ہے؟ تف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں)

اور سورۃ الصافات میں فرمایا:

﴿ قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ، وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات: 95-96)

(انہوں  نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو)

سورۃ الزخرف کی اس آیت سے متعلق ہمارے شیخ شیخ محمد امین شنقیطی " کا کلام ان کی تفسیر ’’اضواء البیان‘‘ میں دیکھیں۔