Is establishing a Deeni Jamia'at Bida'ah? – Shaykh Muqbil bin Hadee Al-Wada'ee

کیا دینی جمعیات کا قیام بدعت ہے؟   

فضیلۃ الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1422ھ

(محدث دیارِ یمن)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ: الغارة الشديدة على الجمعية الجديدة 10 صفر، 1420ھ کی رات کی ریکارڈنگ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: اگر کوئی کہنے والا کہے کہ دعوت کے لیے جمعیت بنانے کی ضرورت اور تقاضہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود تھا اور کوئی ایسا مانع بھی نہيں تھا جو اس راہ میں رکاوٹ ہو۔ لہذا اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بنانا بدعات میں سے ہے، کیا یہ قول صحیح ہے؟

جواب از شیخ مقبل بن ہادی الوادعی ":

الحمد لله وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه ومن والاه ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد .

جو سوال پوچھا گیا ہے وہ بہت اچھا سوال ہے۔ اسی لیے ہم قدیم زمانے سے یہ کہتے چلے آئے ہیں ان جمعیات کو ترک کرنا ان کے وجود سے بہتر ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہم سے زیادہ مال کے محتاج تھے انہیں ہم سے شدید تر اس کی حاجت تھی اس کے باوجود انہوں نے یہ جمعیت نہیں بنائی۔ اسی لیے اس کا ترک کرنا اس کے وجود میں آنے سے بہتر ہے۔اور سب سے بہترین طریقہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے۔

یہ جمعیات تو حزبیت کا سبب ہے انہیں چھوڑ دو۔ ایسی حزبیت کہ: ’’جو ہمارے ساتھ ہے ہم اس کی مدد کریں گے جو ہمارے ساتھ نہیں ہم اس کی مدد نہیں کریں گے‘‘۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ صحیحین میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہ فرمایا:

’’مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى‘‘([1])

(مسلمانوں کی مثال آپس میں محبت، شفقت اور ہمدردی میں ایسی ہے جیسے ایک جسم ہوں کہ اگر اس میں سے کسی ایک عضوء میں تکلیف ہو تو سارا بدن بخار وبے خوابی میں مبتلا رہتا ہے)۔

صحیحین میں ہی سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا‘‘([2])

(ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے کہ جس کی ایک اینٹ دوسری کو تقویت پہنچاتی ہے)۔

بعض غافل لوگ کہتے ہيں یہ مقبل جماعتوں اور جمعیت میں فرق نہیں کرتا۔ یہ جمعیات تو لازم ہیں کہ اجتماعی امور اور ملکی قوانین کی پابند ہوں اور وہ عمل جو حکومت سے متعلق ہو اس کی برکت بہت کم ہوتی ہے اگر بالکل ہی بے برکت نہ بھی کہیں۔  بلکہ حکومتوں کواسلام سے متعلق بالکل بے جان قسم کا عمل پسند ہے جبکہ جو عمل ترقی اور دنیا وغیرہ سے متعلق ہو تو ان کے کان کھڑے ہوجاتےہیں۔

اور ہم ان جمعیتوں کو چھوڑ دینے کی نصیحت کریں گے کہ جو فقراء کاحق ضائع کرنے کا سبب بنتی ہيں۔ کوئی فقیر ہے اس بیچارے کو جیساکہ کہا جاتا ہے کچھ بھی نہ ملے جبکہ اس کے نام پر ساری دنیا سے پیسہ بٹورا جائے، جبکہ اس میں سے اس فقیر کے ہاتھوں میں کچھ بھی نہ پہنچے۔ جس بات پر توجہ دینی چاہیے وہ یہ کہ ہم تاجر حضرات کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ خود سے اپنی زکوٰۃ محتاجوں کو دیا کریں ان جمعیات کو نہيں کہ جو بہت سے اسلامی ممالک میں حزبیت کا سبب بن چکی ہیں۔ واللہ المستعان۔

 


[1] صحیح بخاری 6011، صحیح مسلم 2587۔

[2] صحیح بخاری 481، صحیح مسلم 2586۔