Naseeha to those who become lazy in practising Deen after accepting the Salafi Manhaj – Shaykh Ahmed bin Yahyaa An-Najmee

ان لوگوں کو نصیحت جو سلفی بننے کے بعد سستی کا شکار ہوجاتے ہیں

فضیلۃ الشیخ احمد بن یحیی النجمی رحمہ اللہ المتوفی سن 1429ھ

(سابق مفتی جنوبی سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فضیلۃ الشیخ بعض نوجوان کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ جب وہ اخوان المسلمین اور بعض تحریک چلانے والوں سے متاثر تھے تو عبادت ، دعوت، قرأت قرآن، راہ الہی میں مال خرچ کرنا اور دیگر اطاعتوں  میں بہت چست اور سرگرم ہوا کرتے تھےلیکن جب ان پر حق بات واضح ہوئی اور وہ اللہ کے فضل سے پھر آپ کی اور شیخ زید بن محمد المدخلی رحمہما اللہ  کی توجیہات ورہنمائی سے سلفی منہج کو جان گئےتوحق بات کو جان لینے کے بعد وہ عبادت اور دعوت کے معاملے میں کافی ٹھنڈے پڑ گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض فرض نمازوں تک میں تاخیر کا شکار ہونے لگے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کے لیے آپ کیا نصیحت ورہنمائی فرما‏ئیں گے۔ جزاکم اللہ خیراً؟

 

جواب: سبحان اللہ العظیم! یہ لوگ کیوں ٹھنڈے پڑگئے۔ اور یہ کیسے دعوت کے میدان میں ٹھنڈے پڑسکتے ہیں جبکہ یہ سلفی منہج سے متاثر ہوئے اور اس کی جانب متوجہ ہوئے حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ جو سنت پر ہوتا ہے تو جو عمل بھی وہ کرتا ہے اس کی فضیلت بہت بڑی ہوتی ہے اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو۔ ان پر واجب ہے کہ وہ دعوت الی اللہ میں بقدر استطاعت جدوجہد کریں اسی طرح سے عبادت میں بھی محنت کریں۔

 

لیکن یاد رہے کہ دعوت بصیرت کے ساتھ ہوتی ہے۔ لہذا تمام باتوں سے پہلے جو چیز واجب ہے کہ وہ علمی حلقات میں حاضر ہوں تاکہ تعلیم اور دین میں فقاہت حاصل کریں۔ پھر جو وہ اچھی طرح سے سمجھ کر ہضم کرجائیں اس کی طرف دعوت دیں۔ لیکن اگر بناعلم کے دعوت ہو تو یہ حزبیوں کا طریقہ ہےجو کہ بس فضائل اعمال کا اہتمام کرتے ہیں جیسے پیر وجمعرات کے روزے اور ذکرواذکار کی پابندی ودیگر فضائل اعمال وغیرہ کی دعوت۔ لیکن وہ شرک کو نظر انداز کردیتے ہیں اور کسی پر شرک کے بارے میں انکار نہیں کرتے اگرچہ وہ شرک اکبر ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ اس بارے میں تساہل برتتے ہیں اور توحید کے معاملے کو بہت ہلکا لیتے ہیں۔ بدعت کے ذریعے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور خودساختہ قواعد وضع کرتے ہیں جیسے ان کا یہ قاعدہ: ’’نتعاون فيما اتفقنا عليه ويعذر بعضنا بعضاً فيما اختلفنا فيه‘‘ (ہم اس چیز میں ایک دوسرے سے تعاون کریں جس میں ہمارا اتفاق ہے، اور جس میں اختلاف ہے اس میں ہم ایک دوسرے کو معذور سمجھیں) اور اس کے علاوہ اور بہت سے قواعد جیسے حضر کی حالت میں بھی بیعت وامارت(یعنی سفر کے علاوہ بھی جماعت کا امیر بنانا)، قیام خلافت کی دعوت اور اس کے علاوہ دیگر حرکتیں جو وہ شریعت مخالف کرتے ہیں۔

 

اگر اللہ تعالی نے ان تمام بدعات سے چھٹکارا دے کر آپ کو راحت میں رکھا ہے تو اس پر اس کی حمد بیان کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔ اور اس کے شکر ادا کرنے میں سے یہ بھی ہے کہ اب صحیح راہ کی طرف پیش قدمی کرتے رہیں یعنی اپنے علاقے یا بستی کی مسجد میں خواہ صرف جمعہ کے دن یا جمعرات کی رات ہی کیوں نہ ہو ، جائیں اور علم حاصل کریں۔ اور نصیحت کریں جتنا بھی  اللہ تعالی نے آپ کے لیے آسان کیا۔ اگرچہ صرف یہ ہی کیوں نہ کہیں کہ میرے ساتھ بیٹھو اور مجھے سورۂ فاتحہ سناؤ اور میں آپ کے ساتھ پڑھوں یا مجھے تشہد سناؤ اور میں آپ کے ساتھ پڑھوں۔ اسی طرح سے دیگر اشیاء جن کی معرفت حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا لازم ہے سیکھیں۔ جس انسان کو اللہ تعالی نے ہدایت بھی دی اس کے لیے ہرگز بھی جائز نہیں کہ وہ اس سستی کا شکار ہو۔

 

لیکن یہ بات بھی مدنظر رہے کہ جو کچھ آپ نے سوال میں بیان کیا ہوسکتا ہے یہ حزبیوں کے پھیلائے ہوئے جھوٹے دعوے والزامات ہوں جس سے ان کا مقصد سلفی منہج والوں سے لوگوں کو متنفر کرنا ہو اور تاکہ لوگوں سے وہ کہہ سکیں کہ دیکھو حق تو ہمارے ہی منہج میں محصور ہے جس نے بھی اسے چھوڑا ان کی طرح گمراہ ہوگیا۔ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ ایسے طالبعلموں پر جنہوں نے ان کا منہج چھوڑا تہمت لگا رہے تھے کہ وہ لواطت کرنے لگے ہیں؟ (العیاذ باللہ)۔