A lesson regarding criticizing the rulers in the story of Mu'awiyyah and Al-Miswar (radiAllaaho anhuma) – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

حکومت پر تنقید کرنے کے تعلق سے سیدنا معاویہ اور المسور بن مخرمہرضی اللہ عنہما  کے مابین ایک سبق آموز واقعہ   

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ  المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: من كتاب الأمر بلزوم جماعة المسلمين وإمامهم وعدم مفارقتهم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے المصنف میں اور امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے تاریخ بغداد میں یہ روایت ذکر فرمائی کہ:

فرماتے ہیں مجھے امام عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا  المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَرضی اللہ عنہ  نے انہیں خبر دی کہ وہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس وفد لے گئے تو انہوں نے ان کی جو ضرورت تھی پوری کردی پھر انہیں اپنے پاس بلابھیجا اور تنہائی میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

اے مسور آپ کا یہ آئمہ (حکمرانوں) پر طعن کرنا کیا فعل ہے؟

سیدنا المسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے چھوڑیں بس جو انہيں (وفد کو) دیا ہے اس بارے میں ہم بھلائی کریں۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! ہم ضرور آپ کے ہی بارے میں خاص بات کریں گے، اور جو آپ میرے بارے میں عیب جوئی  کرتے ہیں۔

سیدنا المسوررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پس میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی عیب جوئی ان کے بارے میں کرتا تھا مگر بیان کردی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گناہ سے تو کوئی پاک نہيں۔ اے مسور کیا آپ نے عوام کے لیے جو میری اصلاحات ہیں انہيں بھی کبھی گنا۔ کیونکہ ایک نیکی دس کے برابر ہوتی ہے، یا پھر بس گناہ ہی گنے اور نیکیاں چھوڑ دیں؟!

سیدنا المسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہيں اللہ کی قسم! ہم ذکر نہیں کرتے تھے مگر صرف یہی گناہ جو ہم دیکھتے تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ تعالی کے لیے ہر گناہ جو ہم سے سرزد ہوتا ہے اس کا اقرار کرتے ہیں۔ تو کیا اے مسور آپ کا کوئی ایسا گناہ ہے خاص آپ کے ساتھ جس کے بارے میں آپ ڈرتے ہیں کہ وہ آپ کو ہلاک کردے گا اگر اللہ تعالی نے اسے معاف نہ کیا؟

سیدنا المسوررضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر کیا وجہ ہے آپ مجھ سے زیادہ اپنے آپ کو مغفرت کی امید کا حق دار سمجھتے ہیں؟

اللہ تعالی کی قسم! میں آپ سے زیادہ اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن  اللہ کی قسم! مجھے کبھی بھی دو باتوں میں سے ایک کا اختیار نہیں دیا جاتا  یعنی الله اور اس کے غیر کے درمیان  مگر میں صرف الله کو چنتا ہوں اس  کے علاوہ پر۔ اور ہم تو اس دین پر ہیں جس میں الله تعالی عمل کو قبول فرماتا ہے،  اور جس میں نیکیوں کا بدلہ دیا جاتا ہے ، اور گناہوں کا بھی بدلہ دیا جاتا ہے الا یہ کہ جس سے وہ (اللہ) درگزر فرمائے۔  میں تو ہر نیکی  جو میں نے کی اس کے بدلے میں یہی امید رکھتا ہوں کہ الله مجھے کئی گنا اجر عطاء فرمائے گا۔ میں اللہ تعالی کی جانب سے ان عظیم امور کا بیڑا اٹھاتا ہوں جنہیں نہ میں شمار کرسکتا ہوں نہ ہی آپ جیسے مسلمانوں کی اقامت ِنماز، جہاد فی سبیل الله اور الله تعالی کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرنا، اور کئی ایسے امور جنہیں اگر میں گنوانا شروع کروں تو آپ اس کا احاطہ نہیں کر پائیں گے۔ پس اس بارے میں ذرا غور و فکر کیجئے۔

سیدنا المسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں یہ جان گیا کہ بلاشبہ سیدنا معاویہ t نے جو کچھ ذکر کیا اس کے ذریعے سے وہ مجھ پر گفتگو میں غالب آگئے ہیں۔

 

امام عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  اس کے بعد کبھی بھی سیدنا المسور رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہیں تذکرہ نہيں سنا مگر یہ کہ وہ ان کے لیے بخشش کی دعاء فرماتے([1])۔

 

اگر آپ اس پیارے قصے پر غور کریں گے تو اس سے کئی ایک فوائد اخذ ہو سکتے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

 

1- بلاشبہ سیدنا المسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ایک غلطی میں مبتلا ہوئے کہ جب انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امامت پر طعن کیا، مگر انہوں نے اپنی اس غلطی سے فوراً رجوع کیا جب ان کے سامنے حق بات واضح کردی گئی۔

 

2- بلاشبہ حکمران بھی انسان ہوتے ہیں ان سے بھی اسی طرح گناہ سرزد ہوتے ہیں جیسے دوسروں سے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتے ہيں تو بے شک اللہ تعالی غفورورحیم ہے۔ کوئی بھی معصوم نہيں مگر جسے اللہ بچائے رکھے۔

 

3- حکمران اصلاح وبہتری کے وہ وہ کام کررہے ہوتے ہیں جو ان کے علاوہ ان لوگوں کے کاموں سے بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں جو افتاء، یا دعوت یا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا یا اس جیسے دیگر کام کررہے ہوتے ہیں (یعنی علماء وداعیان سے بھی بڑھ کر)۔ پس ان میں سے جو عادل (حاکم) ہوگا  اس  کا اجر ان سب کے اجر سے زیادہ ہوگا۔ اس بات پر نص امام ابن عبدالسلام رحمہ اللہ نے القواعد میں ذکر فرمائی۔ اسی لیے جب امام ابو عبداللہ التستری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

’’کون سے لوگ بہتر ہیں؟ فرمایا: سلطان (حکمران)۔ اور التستری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: وہ کالی لکڑیاں جو ان کے دروازوں پر لٹکی ہوتی ہیں وہ مسلمانوں کے لیے ستر قاضیوں تک سے بہتر ہيں جو مسجد میں قضا کا کام کرتے ہیں‘‘۔

 

4- بلاشبہ حکمران ایسے بڑے بڑے امور کا بیڑا اٹھاتے ہیں جو امت کے مصالح اور ان کے امور کو چلانے سے متعلق ہوتے ہیں۔ جبکہ عوام عام طور پر ان کاموں کی جسامت وعظمت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے۔ ان کے کھٹن ترین ہونے کا اندازہ صرف اور صرف حکمرانوں کو ہی ہوسکتاہے۔

 

اس کے علاوہ سلف سے بہت سے آثار آئے ہیں حکمرانوں کو برا بھلا کہنے سے منع کرنے اور خبردار کرنے کے تعلق سے، جنہیں آپ میری کتاب ’’معاملة الحكام في ضوء الكتاب والسنة‘‘([2])  میں دیکھ سکتے ہیں۔

 

اور اللہ تعالی کی یہ سنت چلتی آئی ہے کہ جو بھی حکمرانوں کو برا بھلا کہتا ہے پھر وہ ان کی خیر سے محروم ہی رہتا ہے۔ جیسا کہ امام ابو اسحاق السبیعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’مَا سَبَّ قَوْمٌ أَمِيرَهُمْ إِلا حُرِمُوا خَيْرَهُ‘‘([3])

(کوئی بھی قوم اپنے امیر کو برا بھلا نہیں کہتی مگر وہ اس کی خیر سے محروم کردی جاتی ہے)۔

 

اسی طرح سے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے  ’’مناقب معروف الكرخي وأخباره‘‘  میں اپنی سند سے ابن حکمان کے طریق سے بیان فرمایا کہ بے شک معروف  الکرخی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’مَنْ لَعَنَ إِمَامَهُ حُرِمَ عَدْلُهُ‘‘

(جو اپنے امام پر لعنت کرتا ہے تو ا س کے عدل سےمحروم رہتا ہے)۔

 


[1] تاریخ بغداد للخطیب البغدادی ج 1 ص 577۔

[2] اس کتاب کا یہ حصہ ہماری ویب سائٹ پر ترجمہ شدہ دستیاب ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[3] أخرجه أبو عمرو الداني في كتاب الفتن وابن عبد البر في التمهيد.