The dangers of mockery of the religion – Shaykh Saaleh bin Sa'ad As-Suhaimee

استہزاء بالدین کی خطرناکی   

فضیلۃ الشیخ صالح بن سعد السحیمی حفظہ اللہ

(مدرس مسجد نبوی، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: إتحاف الكرام البررة بشرح نواقض الإسلام العشرة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(وہ شخص بھی دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ) جو دین ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اللہ کے ثواب([1]) یا اس کے عقاب کااستہزاء کرے(مذاق اڑائے)، اس کی دلیل یہ فرمان الہی ہے:

﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ، لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾  (التوبۃ: 65-66)

(کہہ دیں کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟ بہانے مت بناؤ، یقیناً تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا)۔

 

اس کی شرح کرتے ہوئے شیخ صالح السحیمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ مسئلہ بہت ہی زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ ہمارے درمیان ایسے بہت سے لوگ رہتے ہیں جو اس پر عمل پیرا ہیں یعنی ’’الاستهزاء بالدين‘‘ دین کا مذاق اڑاتے ہیں، یا مسلمانوں کا ان کے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے، یا پھر سنت پر چلنے کی وجہ سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں، یا جو علماء ہیں امت کے ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ بہت خطرناک معاملہ ہے بلکہ یہ کفر ہے اگر کسی کا استہزاء مذاق اس کے دین کی  ہی وجہ سے اڑایا جائے تو یہ کفر ہے۔ اگر کسی شخص کا مذاق اڑایا جائے اور وہ یہ جانتا ہےاس کو یہ علم بھی دیا گیا ہے  جو  مذاق اڑا رہا ہے اور اس کو تنبیہ کی گئی اس کو نصیحت دی گئی پھر بھی وہ اس میں لگا رہتا ہے اور ’’الاستهزاء بالدين‘‘  کرتا ہے، اور اہل دین کا مذاق اڑاتا ہے،  یا سنت نبویہ کا مذاق اڑاتا ہے، یا جو سنت پر عمل کرتے ہیں ان کا، یا جو سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں تو پھر ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایسے شخص کا جو اس قسم کا  استہزاء اور مذاق کرتا ہے   اس سے بھی کم درجے کی بات کی تھی تو اس کو کافر قرار دیا ہے  ان آیات میں۔ حالانکہ وہ اس قسم کی بات تھی جو عام طور پر زبانوں  پر آ جاتی ہے لوگوں کے،  اس کے باوجود اتنی سخت ان کے لیے وعید  ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ غزوۂ تبوک میں ایک شخص نے   یہ کہہ دیا تھا کہ:

’’مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قُرَّائِنَا هَؤُلاءِ، أَرْغَبَ بُطُونًا، وَلا أَكْذَبَ ألسنًا، وَلا أَجْبَنَ عِنْدَ اللِّقَاءِ‘‘ (تفسیر الطبری)

( ہم نے اپنے ان  قاری  لوگوں  جیسے بڑے پیٹ والے، اور جھوٹی زبان والے، اور لڑائی کے وقت بزدلی دکھانے والے نہیں دیکھے)۔

 

اس کی مراد اس سے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے  تو سورۃ التوبہ کی یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کا  بھانڈا پھوڑ دیا ،جس طرح منافقین کا اللہ  سبحانہ و تعالیٰ نے راز فاش کر دیا  اور ان کو رسوا کیا ، اور صحیح بات یہ ہے کہ وہ شخص منافق نہیں تھا بلکہ اس کلمہ کی وجہ سے کافر ہوا تھا کیوں کہ اگر وہ پہلے ہی منافق ہوتا تو اس کا کفر تو ظاہر ہے منافق کا لیکن جس بات پر محقق علمائے کرام ہیں  وہ یہ ہے کہ وہ پہلے منافق نہیں تھا لیکن اس بات کی وجہ سے وہ کافر ہوا اور بعض روایات میں ہے اس نے  بعد میں  ان تمام چیزوں سے توبہ کر لی تھی لیکن شروع میں یہ کچھ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے  اس کا  بھانڈا پھوڑ دیا  اپنے اس قول سے کہ:

﴿وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾ (التوبۃ: 65)

(اگر آپ اس سے پوچھیں جو  یہ بات انہوں نے کہی ہے تو وہ کہیں گے کہ یقیناً ہم تو محض کھیل کود میں اور دل لگی کے لیے ٹائم پاس کرنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے تھے (تو اللہ تعالیٰ نےہی  جواب دیا) کہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی آیات اور اس کا رسول ہی رہ گئے ہیں تمہارے مذاق اڑانے کے لیے! اب تم عذر  لنگ  مت تراشو، یقیناً تم کافر ہو چکے ہواپنے  ایمان کے بعد )۔

 

حالانکہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام بھی پکڑی ہوئی تھی اور یہی کہتا جا رہا تھا  کہ: ’’إنما كنا نخوض ونلعب‘‘ (ہم تو محض ہنسی کھیل میں یہ بات کر رہے تھے) ’’ونقصِّرُ الطريق‘‘ (راستہ کاٹنے کے لیے) ٹائم پاس کے لیے ایسی بات کر رہے تھے جس طرح لوگ کرتے ہیں ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بار بار یہی آیت پڑھتے جاتے تھے:

﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ،لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾ (التوبۃ: 65-66)۔

 

لہذا ہمیں اس بات سے احتیاط کرنی چاہیے اور ڈرنا چاہیے یہ بہت خطرناک معاملہ ہے ، بعض لوگ مسلمانوں کا کبھی کبھار مذاق اڑاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ دین پر عمل کرتے ہیں  یا دین کی  کسی چیز پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اور نہیں چھوڑتے ، کبھی ان کی داڑھی کی وجہ سے، یا ان کے مسواک کی وجہ، یا کپڑے ٹخنے سے اوپر رکھنے کی وجہ سے، سنت کی پیروی کرنے کی وجہ سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں اگر اس کے مذاق اڑانے سے مقصود یہ دینی شعائر ہیں جس پر وہ عمل پیرا ہے اس وجہ سے وہ  محض اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے ۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے ایسے لوگوں کو جو اس قسم کے  کلمات زبان سے لاپرواہی  سے نکال دیتے ہیں ،اور اس بارے میں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اور اس میں کوئی احتیاط نہیں برتتے انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے ۔

 

پھر ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اس امت کے علماء اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو یہ کہتے ہیں کہ وہ علماء صرف حیض و نفاس کے علماء ہیں اور حکمرانوں کے علماء ہیں اور سلاطین  کے، یا انہیں کچھ بھی نہیں معلوم  سوائے جو شلوار کے اندر ہے بس اس سے باہر نہیں نکلتے،  یا پھر بالکل سادہ لوح قسم کے یہ علماء ہیں، اور وہ  احکام سوائے فلاں فلاں کے احکام  کے کوئی اور بات نہیں جانتے۔ چنانچہ اکثر لوگ جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں مختلف حزبی گروہوں اور تنظیوں میں سے وہ دین اور اس کے اہل کا مذاق اڑاتے ہیں۔

  اور موجودہ دور کے معاصر قلم کاروں رائٹروں  میں سے لوگوں نے جب یہ حدیث سنی کہ:

’’ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ‘‘ (صحیح مسلم 2853)

( قیامت کے دن کافر کی جو داڑھ ہےیا جونوکیلے دانت ہوتے ہیں وہ اُحد پہاڑ کے برابر ہوں گے اور اس کی جو جلد کی موٹائی ہے وہ تین رات کی مسافت کے برابر ہو گی )۔

 

تو وہ پھر بھی  احادیث  پر استہزاء مذاق  کرتے ہیں  جب کہ حدیث صحیح ہے تو اس نے ایک خطرناک کلمہ کہا جسے بیان کرنے والے کا دل کانپ اٹھے اور اس شخص کا کیا حال ہو گا جس نے یہ کہا ہے یا سنا ہے براہ راست تو اس شخص نے یہ بُری بات کی کہ جب اس کے دانت کا یہ حال ہے تو اس کا جو آلہ تناسل ہے اس کا حجم اور اس کی لمبائی  کتنی ہو گی نعوذ باللہ!  اور اسی طریقے سے بعض لکھنے والے جو یہ کہلاتے ہیں کہ ہم اسلامی رائٹر ہیں اور  اسلامی قلمکار ہیں وہ بھی بہت ساری سنتوں کا  اس طریقے سے مذاق اڑاتے ہیں۔ اور ان ہی میں سے ایک نے اپنی کتاب’’فقه البدوي‘‘ میں یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو یہ فرمان ہے، حالانکہ صحیح حدیث ہے صحیح بخاری  وغیرہ میں  موجود ہے کہ:

’’لَنْ يُفْلَحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً‘‘ (صحیح بخاری 4425)

(وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو اپنی حکومت اور فیصلے عورت کے ہاتھ میں دے دے )۔

 

تو اس نے اس بات کو گویا کہ غلط بتاتے ہوئے یہ کہا کہ پھر  حالانکہ ہم یہ دیکھتے ہیں(وہ کہہ رہا ہے) کہ اندراگاندھی تھی یا گولڈ میئرتھی  اسی طرح مارگریٹ تھیچر تھی اور اس کے ساتھ ملکہ بلقیس کو بھی جوڑ لیا اس نے اور اس قسم کی باتیں کرنے لگا ۔ ہم اس کو یہی کہیں گے جس طرح عربی میں شعر ہے کہ جس کی رہنمائی کوا کرتا ہو تو وہ اسے وہیں پر لے جا کر چھوڑے گا جہاں پر کتوں کی گلی سڑی لاشیں وغیرہ پڑی ہوں ،گند ہو، جہاں پر تعفن ہو ۔ تو جس کی رہنمائی ایسے ہو وہ اس کو وہیں پر پہنچا کر دم لے گا ۔ آخر وہ شخص کیا بتانا چاہتا ہے  کیا یہ عورتیں کامیاب تھیں؟ اور کون سی کامیابی ان کو حاصل ہوئی جس کو شرعی طور پر کامیابی کہا جاتا ہے؟ یہاں تک کہ جو ملکہ بلقیس رحمہا اللہ تھی وہ اسلام لے کر آ گئی تھیں ۔لیکن اسلام سے پہلے کیا وہ فلاح یاب تھیں  اور کامیاب تھیں؟اور جب وہ اسلام لائیں تو انہوں نے وہ مملکت اور وہ بادشاہت ان کی حکمرانی  چھوڑ دی تھی ۔ چنانچہ بعض لوگ ہر اس شخص کا  مذاق اڑاتے ہیں جو سنت کی تطبیق کرتا ہے اس پر عمل کرتا ہے،  ایسے شخص پر اگر حجت تمام ہو جائے اور اس پر مصر رہے تو وہ اپنی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے العیاذ باللہ۔

 


[1] لفظ ’’أو ثواب الله‘‘ (یا اللہ کے ثواب)  اس طبع میں سے ہے جو کہ ام القری نے شائع کی جس میں اس لفظ کی وضاحت ہے جو کہ دیگر طبعات میں وارد ہے یعنی ’’أو ثوابه‘‘ (یا اس کے ثواب)۔