Ruling regarding women’s Nushooz? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

عورت کے نشوز کا کیا حکم ہے؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: فتوی نور علی الدرب: ما حكم نشوز المرأة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: عورت کے نشوز کیا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس سے ہجر (بستر جدا کرنا) فائدہ نہ دے تو کیا اس سے مفارقت ہی اختیار کرلی جائے؟

جواب: عورت کے نشوز سے مراد ہے اپنے شوہر پر سرکشی اختیار کرنا، اس کے مقابلے میں غرور اختیار کرنا۔ اور یہ عربی میں ’’نَشَزَ الأرض‘‘سے ہے یعنی ابھری ہوئی زمین۔ اگر وہ مغرور ہوکر شوہر پر سرکشی اختیار کرلے اپنے اخلاق وادب میں، اور اس کے حکموں کی نافرمانی کرنے لگ جائے تو یقیناً اسے کہا جائے گا کہ’’نَشَزَتْ‘‘ (یعنی نشوز اختیار کرلیا سرکشی وغرور)، اسی طرح سے شوہر کا جو حق اس پر بنتا ہے وہ بیوی اسے اس سے روکے تو یہ بھی ’’النُشُوز‘‘ہے۔

اس کا حکم وعلاج یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ ﴾ (النساء: 34)

(اور جن عورتوں کے نشوز کا تمہیں ڈر ہو تو انہیں وعظ ونصیحت کرو)

یہ وہ پہلی چیز ہے یعنی وعظ ونصیحت کے ساتھ علاج کیا جائے۔

﴿وَاهْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾ (النساء: 34)

(اور بستروں میں ان سے الگ ہوجاؤ)

یہ دوسری حالت ہے کہ ان سے بستروں میں الگ ہوجاؤ۔ اس کی مراد کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کے ساتھ نہ سوئے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کے ساتھ سو تو جائے لیکن بے رخی کرے۔

﴿وَاضْرِبُوْھُنَّ ﴾ (النساء: 34)

(اور انہیں مارو)

آخری علاج: ایسی مار جو ’’غير المبرح‘‘ ہویعنی جو ہڈی پسلی توڑ کر زخمی نہ کرے، مقصود ایسی ’’غير المبرح‘‘ مار ہے۔ شوہر بیوی کو تب مارے جب وہ نشوز اختیار کرلے، اور جو حق اس کا بیوی پر بنتا ہے اسے ادا کرنے سے انکاری ہوجائے، تو اسے چاہیے کہ ان اقدام پر چلتے ہوئے اس کا علاج کرے: وعظ ونصیحت، بستر میں جدائی، اور آخری چیز مارنا لیکن ضروری ہے کہ وہ مار’’غير المبرح‘‘ ہو، نہ ہڈی پسلی توڑے اور نہ ہی جلد پھٹے، بس اس سے تادیب کا مقصد حاصل ہوجائے۔

aurat_nushooz_hukm