Categories and rulings on Muslims regarding good deeds and sins – Shaykh Saaleh bin Sa'ad As-Suhaimee

نیکیوں اور گناہوں کے تعلق سے مسلمانوں کے درجات واحکام   

فضیلۃ الشیخ صالح بن سعد السحیمی حفظہ اللہ

(مدرس مسجد نبوی، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: إتحاف الكرام البررة بشرح نواقض الإسلام العشرة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے اللہ کے بندو ! اسلام کے کچھ نواقص (اس میں کمی کرنے والی باتیں) ہیں اور کچھ نواقض (اسے ختم کردینے والی باتیں) ہیں ۔

 

نواقص : وہ  ان بعض گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے جو  کفر و شرک کی حد تک نہیں پہنچتے  جیسا کہ کوئی واجب ادا کرنے  میں کوتاہی کا شکار ہو ،اسی طرح کسی حرام کام کا مرتکب ہو جائے  لیکن استحلا ل کے بغیر (یعنی اس کو حلال نہیں جانتا ہو)، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہو، جانتا ہو کہ میں گناہ گار ہوں اور اس کا عقیدہ ہو کہ وہ بُرا کام کر رہا ہے، اور نافرمان ہے،  تو یہ نواقص میں سے ہیں جب تک وہ کفر و شرک کی حد تک نہیں پہنچیں۔

 

اور جو نواقص ہیں وہ نواقض کی پیغام رساں و ڈاک ہے، اگر  اس میں سستی کا مظاہرہ کیا یا اس پر جمے رہے اورمصر رہے، اور کوئی شخص اس کا عادی ہو گیا، تو ہوسکتا ہے کہ یہ اسے اس بات پر ابھار لیں گے آخر کار  کہ وہ اس کو حلال جاننے لگے یا پھر دین سے ہی نکل جائے۔ تو  ہمیں اس سے بھی ڈرنا چاہیے اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے کیوں کہ جو معاصی (نافرنیاں وگناہ) ہیں وہ کفر کی پیغاں رساں و ڈاک ہيں جیسا کہ  اہل علم  فرماتے ہیں۔

نواقض:  یہ وہ چیزیں ہیں جو اسلام کو بالکل ختم کر دیتی ہیں۔ اور اہل علم کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان  پر چلتے ہوئے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ:

’’الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً: أَعْلَاهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإيمان‘‘([1])

(ایمان کی ستر سے اوپر کچھ شاخیں ہیں  جس میں سے  سب سے بلندلا الہ الا اللہ ہے اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے، اور شرم و حیاء بھی ایمان کے شعبوں میں سے ہے )۔

 

چنانچہ ایمان قول بھی ہے،عمل بھی ہے اور  عقیدہ و اعتقاد بھی ہے، اورعمل ایمان کا جزء ہے اور عمل ایمان کا رکن ہے ۔ بغیر عمل کے ایمان نہیں، ہاں البتہ ایمان کے اپنے شعبے ، درجات اور مراتب ہیں  جس طرح خود اللہ عزوجل نے مومنوں کے مختلف مرتبے ذکر فرمائے ہیں قرآن کریم میں:

﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ (فاطر/32)

(پھر ہم نے کتاب کا وارث ان بندوں کو  بنایااپنے بندوں میں سے جنہیں ہم نے چن لیا تھا، پھران میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں، بعض درمیانی راہ چلنے والے  ہیں، اور بعض ان میں ایسے ہیں جو نیکیوں  اور خیر میں سبقت لے جانے والے ہیں، اللہ کے اذن وتوفیق سے)۔

 

جو تین مرتبے  یہاں پر  ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے سب سے اعلیٰ مرتبے والے ’’السابقون بالخيرات‘‘ ( نیکیوں اور بھلائیوں میں آگے بڑھ جانے والے) ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہيں جو واجب ادا کرتے ہیں،اور محرمات ( حرام کردہ چیزوں)  کو چھوڑ دیتے ہیں، اور نفلی کاموں سے بھی اپنے اعمال کو آراستہ کرتے ہیں۔  یہ لوگ ہیں وہ اہل احسان ہیں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ‘‘([2])

(تم اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو تمہیں دیکھ رہا ہے )۔

 

دوسرا مرتبہ: ’’المقتصدون‘‘ جو صرف اقتصار  کرتے ہیں واجبات  کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب پر۔ لیکن ان کا درجہ جو پہلے ذکر کیے گئے ہیں ان سے کم ہے۔ البتہ یہ جو دونوں گروہ ہیں یہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوں گے۔ اگر چہ جو پہلا گروہ ہے وہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں اعلیٰ درجے پر ہے۔

 

تیسرا گروہ : ’’الظالمون لأنفسهم‘‘ یہ وہ مومنین ہیں جو  بعض معاصی اور گناہوں میں مبتلا ہیں، مگر ایسے گناہ جو کفر و شرک سے کمتر ہیں۔  تو یہ جو تیسرے درجے کے مومنین ہیں  ان کے بارے میں چار احکام مرتب ہوتے ہیں، ضروری ہے کہ ہم انہيں اچھی طرح سے جان لیں اور سمجھ لیں:

 

1۔بلاشبہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہیں جس طرح سے خوارج  وکلاب النار  یہ تصور کرتے ہیں۔

 

2۔ انہیں ایمان کا  جو نام  ہے کلی طور پر نہیں دیا جاتا اور نہ ہی مطلق ایمان کو ان سے سلب کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام امام  ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

’’لا يسلبون مطلق الإيمان ولا يوصفون بالإيمان المطلق‘‘

( نہ مطلق ایمان  کو ان سے سلب کیا (چھینا)جاتا ہے اور نہ ہی  ایمانِ مطلق سے انہيں موصوف کیا جاتا  ہے)۔

 

یعنی ایمان کا جو نام ہے ان سے مکمل طریقے سے نہیں چھین لیا جاتا کہ  ان پر کفر کا حکم لگا دیا جائے جس طرح خوارج کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی عقیدہ نہیں رکھا جاتا کہ وہ کامل ایمان والے ہیں جس طریقے سے مرجئہ (گمراہ فرقہ)  اس بارے میں عقیدہ رکھتا ہے۔  چنانچہ مطلق ایمان ان سے سلب نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ایمانِ مطلق سے انہیں موصوف کیا جاتا ہےیہی عقیدہ وسط ہے (یعنی اعتدال اورمیانہ روی پر مبنی عقیدہ ہے )۔  ایسے لوگوں کو کہا جائے گا: ’’مؤمنون عصاة‘‘ (گنہگار مومنین)، یا انہیں کہا جائے گا’’مؤمن فاسق‘‘ (فاسق مومن)، یا یہ کہا جائے گا ’’مؤمن بإيمانه فاسق بكبيرته‘‘  (اپنے ایمان کی وجہ سے مومن  ہیں اور اپنے کبیرہ گناہ  کی وجہ سے  فاسق ہیں)،  یا پھر یہ کہا جائے گا   ’’مؤمن ناقص الإيمان‘‘ ( مومن ہیں ناقص ایمان والے )۔ چنانچہ یہ أهل النواقص ہیں أهل النواقضنہیں ہیں  ۔

 

3۔ تیسرا حکم ان پر جو مرتب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ان میں سے جو گناہوں پر  ہی مر گیا وہ مومنین جو ’’الظالمون لأنفسهم‘‘ (اپنے نفس پر ظلم کرنے والے)  ہیں ، ان میں سے جو نافرمانی وگناہوں میں ہی مر گیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت  کے تحت ہے،اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے بخش دے اپنے فضل سے اور اگر چاہے تو عذاب دے اپنے عدل سے۔جیسا کہ اللہ جل و علا   کا فرمان  گرامی ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ﴾ (النساء/48)

(بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی  کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا یا کم تر جو گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے)۔

 

4۔ چوتھا حکم ان کے تعلق سے یہ ہے کہ اگر انہیں عذاب دیا بھی گیا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور عدل کے تحت تو وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں نہیں پڑے رہیں گے، بلکہ گناہوں سے پاک ہونے کے بعد اور اپنی سزا پا لینے کے بعد اس میں سے نکل آئیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو جہنم کی آگ سے بالکل محفوظ رکھے۔

 

اس بناء پر ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ جو ایمان کے مسائل ہیں  ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کے ترک کرنے چھوڑنے سے انسان ایمان سے خارج ہوجاتا ہے ایسا شخص ایمان کو بالکلیہ  ترک کرنے والا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو شہادتین  ’’اَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشَھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبدُہُ وَ رَسُولُہُ‘‘ کا ہی حق ادا نہیں کرتا، جو نہ زبان سے اس کا قرار کرتا ہے  اور نہ اس کے حقوق کی ادائیگی، یعنی اگر وہ شہادتین کو زبان سے کہہ بھی دیتا ہے   لیکن کچھ ایسی چیزوں کا مرتکب ہوتا ہے جو اس کے بالکن نقیض (منافی) ہیں۔ اور یہ ایسی بات ہے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے  کوئی نزاع یا اختلاف نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ﴾ (محمد/19)

(اس بات کا علم حاصل کریں اوراچھی طرح جان لیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اپنے گناہ کے لیے بخشش طلب کریں)

 

یا جیسے جان بوجھ کر سستی سے نماز چھوڑتا ہے تو علماء کے دو قول میں سے صحیح تر قول کے مطابق (وہ بھی کافر ہے)، جبکہ نماز کواس کا انکار کرتے ہوئے چھوڑنے والا علمائے اسلام کے اجماع  کے مطابق کافر ہے۔ جبکہ سستی کاہلی سے نماز کو چھوڑنا بھی اہل علم کے دو اقوال میں سے صحیح تر قول کے مطابق کفر ہے، کیونکہ تارک نماز کے کفر پر مطلق دلائل بڑے واضح ہیں مثلاً یہ حدیث:

’’الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ‘‘([3])

(ہم میں اور ان میں  جو عہد  ہے وہ نماز کا ہے جس نے اسے ہی  چھوڑ دیا تو تحقیق اس نے کفر کیا)۔

 

مگر اس کے باوجود ہم ان علماء کی توہین نہیں کرتے نہ ہی ان کو کم تر سمجھتے ہیں   کہ جو اس رائے کے علاوہ دوسری رائے رکھتے ہیں (یعنی جو سستی سے نماز چھوڑتا ہے تو اس کو کافر نہیں کہتے اس کو کفر اصغر میں مبتلا کہتے ہیں کہ وہ کفر اکبر میں مبتلا نہیں ہے  اور دین سے خارج نہیں ہےاگر اس کے وجوب کا منکر نہيں ہے) کیونکہ  عام نصوص پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے اجتہاد  نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود  دلائل کی روشنی میں قول راجح  یہی ہے کہ  بے شک نماز کا تارک  (چھوڑنے والا ) اگر چہ سستی سے ہی کیوں نہ ہو،مسلمان نہیں ہے۔

 

 اس کے علاوہ بعض ایسے اعمال ہیں جن کو چھوڑنے سے واجب ایمان میں کمی آتی ہے ، یعنی ایمان کامل کا حق ادا نہیں کیا۔ اس قسم کے شخص کو یہ کہا جائے گا کہ’’مؤمن ناقص الإيمان‘‘ (مومن ہے لیکن ناقص ایمان  والا ہے)، یا یہ کہا جائے گا کہ ’’مؤمن بإيمانه فاسق بكبيرته‘‘ (اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے )۔  یہ وہ لوگ ہیں جو بعض منکرات کا ارتکاب کرتے ہیں ساتھ میں اپنے گناہ کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ہم گناہ گار ہیں، سوائے نماز کے کیوں کہ اس کے جس قسم کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں  راجح قول کے مطابق اس کا معاملہ الگ ہے۔

 

تیسری قسم کے وہ اعمال ہیں جن کے ترک سے مستحب ایمان میں کمی آتی ہے جیسےراستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا۔ پس ایمان کے شعبوں والی حدیث ان تینوں امور پر دلالت کرتی ہے۔

 


[1] صحیح مسلم 37۔

[2] صحیح بخاری 50، صحیح مسلم 11۔

[3] قال الشيخ الألباني : (صحيح) انظر حديث رقم: 4143 في صحيح الجامع.