The times at which to perform the morning and evening supplications – Various ‘Ulamaa

صبح وشام کے اذکار کے اوقات

مختلف علماء کرام

مصدر: مختلف مصادر۔

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

پہلی فصل:  دن کے دونوں اطراف کے اذکار کے بارے میں۔ اور یہ وقت ہے صبح سے لے کر طلوع آفتاب تک، اور عصر سے لے کر غروب آفتاب تک۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا، وَّسَبِّحُــوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا﴾  (الاحزاب: 41-42)

(اے ایمان والو! اللہ کا ذکر کرو، بہت زیادہ ذکر، اور اس کی تسبیح کرو، پہلے پہر اور پچھلے پہر)

اور الجوہری فرماتے ہیں: ’’الأصيل‘‘ عصر کے بعد سے مغرب تک کے وقت کو کہتے ہیں۔ اور اس کی جمع  أُصل، آصال اور آصائل ہے۔  

اوراللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ﴾ (غافر: 55)

(اور دن کے پچھلے اور پہلے پہر اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں)

’’الإبكار‘‘ دن کے پہلے پہر کو کہتےہیں۔اور ’’العشي‘‘  اس کے آخری پہر کو۔

اور فرمان باری تعالی ہے:

﴿ وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ﴾ (ق: 39)

(اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں)

اور یہ تفسیر احادیث میں بھی وارد ہے جیسا کہ احادیث میں یوں آتا ہے کہ جس نے صبح اور مساء کو یہ کہا۔۔۔اس سے مراد ہے طلوع آفتاب سے قبل اور غروب آفتاب سے قبل۔ چناچہ بلاشبہ ان اذکار کا محل ووقت صبح (صادق) کے بعد اور عصر کے بعد ہے۔

(الوابل الصیب ص 127)

سوال: کیا المساء (شام ) کے اذکار عصر کی نماز کے بعد ہوتے ہيں یا غروب آفتاب کے بعد یعنی نماز مغرب کے بعد؟

جواب از فتوی کمیٹی، سعودی عرب:

المساء (شام) کے اذکار سورج کے زوال سے شروع ہوکر اس کے غروب ہونے تک ہوتے ہیں اور رات کے ابتدائی حصے میں۔ جبکہ صبح کے اذکار طلوع فجر سے لے کر زوال آفتاب تک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا  ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّهَارِ﴾

(طہ: 130)

(اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر یں اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کیجئے اور دن کے کناروں میں بھی)

اور فرمایا:

﴿وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ﴾ (الاعراف: 205)

(اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور خوف سے اور بلند آواز کے بغیر الفاظ سے صبح و شام یاد کریں اور غافلوں میں سے نہ ہوں)

’’الآصال‘‘ جمع ہے ’’أصيل‘‘ کی جو کہ عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت ہے۔

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

﴿فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَو وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ﴾

(الروم: 17-18)

(پس اللہ کی تسبیح کیا کرو، جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو(اس وقت بھی اس کی تسبیح بیان کرو))

وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم .

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

رکن                رکن                  نائب صدر                         صدر

بكر أبو زيد       صالح الفوزان      عبد العزيز آل الشيخ       عبد العزيز بن عبد الله بن باز

(فتاوى اللجنة الدائمة> المجموعة الأولى > المجلد الرابع والعشرون (كتاب الجامع 1) > كتاب الجامع > الأدعية والأذكار > وقت أذكار المساء، س 2 فتوی رقم 20078)

سوال: کیا جو اذکار احادیث میں وارد ہیں یعنی صبح وشام کے اذکار یہ نماز سے پہلے ہیں یا بعدمیں؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

اس میں وسعت ہےاگر وہ غروب آفتاب سے پہلے کرلیتا ہے عصر میں تو اچھی بات ہے، اور اگر غروب آفتاب کے بعد بھی کرتا ہے تو کوئی حرج نہيں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَو وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ﴾

(الروم: 17-18)

(پس اللہ کی تسبیح کیا کرو، جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو(اس وقت بھی اس کی تسبیح بیان کرو))

اور فرمایا:

﴿ وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ﴾  (ق: 39)

(اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں)

مقصود یہ ہےکہ تسبیح (سبحان اللہ) تہلیل (لا الہ الا اللہ) اور تمام شرعی اذکار دن کے آخری حصے میں ہوتے ہیں یا پھر یہ شام والے اذکار رات میں ہوتے ہیں، اور صبح کے اذکار دن کے شروع میں ہوتے ہیں صبح سے پہلے یا صبح کی نماز کےبعد یا طلوع آفتاب کے بعد یہ سب اوقات ہیں اور اس میں وسعت ہے الحمدللہ۔

(فتاوی نور علی الدرب 11426)

سوال: شام کے اذکار کا کیا وقت ہے؟ اور اس کا افضل وقت کونسا ہے؟ اور اگر کوئی بھول جائے تو کیا اسے بعد میں قضا ادا کرے؟

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمینرحمہ اللہ :

’’المساء‘‘ کا وقت واسع ہے جو نماز عصر کے بعد سے عشاء کی نماز تک رہتا ہے۔ اور برابر ہے چاہے اس وقت کے اول میں ذکر کرے یا آخر میں، سوائے اس ذکر کے جس کا رات کے ساتھ مخصوص ہونا ذکر ہوا ہے جیسے آیۃ الکرسی کے بارے میں جس نے اسے رات میں پڑھا۔ لہذا جو رات کے ساتھ مقید ہے اسے رات میں پڑھیں۔ اور جو دن کے ساتھ مقیدہے اسے دن میں پڑھیں۔ البتہ اگر آپ بھول جائیں اورا ن کی قضا ادا کریں  تو امید ہے کہ اس پر اجر ملے گا۔

(فتاوى فضيلة الشيخ ابن عثيمين لمجلة الدعوة العدد 1741 7/2/1421هـ ص/36)

سوال: صبح وشام کے اذکار کا تحدید کے ساتھ وقت کیا ہے؟

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ:

صبح کے اذکار کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے جبکہ ’’المساء‘‘ (جس کا ترجمہ ہم شام کرتے ہيں) کے اذکار سورج کے زوال کے بعد یعنی ظہر کے وقت شروع ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سے سب اذکار کے اوقات ہیں، ان میں سے کسی بھی وقت پڑھ لے یعنی زوال کے بعد سے  چاہےظہر کے بعد، عصر کے بعد یا مغرب کے بعد یہ سب ’’مساء‘‘ ہے۔ اگر ’’مساء‘‘ کے اوقات میں سے کسی بھی وقت پڑھ لے تو اس نے وقت پر اذکار پڑھے۔ اسی طرح سے صبح کے اذکار ہیں جب فجر طلوع ہوجائے تو اس کی مرضی ہے فوراً طلوع فجر کے بعد پڑھ لے، یا فجر کی نماز کے بعدیا سورج بلند ہونے کے بعد یہاں تک کہ سورج بالکل آسمان کے درمیان اور بیچ میں آجائے، یہ سب اذکار کے اوقات ہیں یعنی صبح کے اذکار۔

(فتاوی نور علی الدرب 15872)

subah_sham_azkaar_waqt