Suicide attacks are Haraam (Unlawful) – Various ‘Ulamaa

خودکش و فدائی حملے حرام ہیں   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز   رحمہ اللہ

(سابق مفتئ اعظم سعودی عرب)

سوال: اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو یہودیوں کو قتل کرنے کے لئے اپنے آپ پر بارود باندھ کر حملہ آور ہو؟

جواب: ہم جس نظریہ کے قائل ہیں اور کئی بار متنبہ بھی کرچکے ہیں کا اس طرح کی کاروائی کرنا جائز نہیں کیونکہ ایسا شخص اپنے آپ کو خود قتل کرنے والا ہے جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ﴾ (النساء: 29)

(اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں قتل نہ کرو)

اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘([1])

(جس کسی نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا تو بروز قیامت اسے اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا)۔

اسے چاہیے کہ ان یہودیوں کو راہ ہدایت پر لانے کی کوشش کرتا رہے اور اگر جہاد مشروع ہوجائے تو مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرے پھر اگر وہ شہید ہوجائے تو الحمدللہ۔ رہا سوال کہ اپنے آپ کو بارود باندھ کرکافروں میں کود پڑنا جس کے نتیجے میں وہ ان کے ساتھ ساتھ اپنے اپ کو بھی قتل کردے تو یہ غلط اور ناجائز ہے۔ ہاں البتہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرے جہاں وہ مشروع ہے۔ اور باقی رہا معاملہ فلسطینی نوجوانوں کی کاروائیوں کا تو ایسا کرنا غلط ہے، صحیح نہیں۔ ان پر جو چیز واجب ہے وہ یہ کہ اللہ تعالی کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان کاروائیوں کے بجائے تعلیم، تبلیغ ونصیحت کو بروئے کار لائیں۔

(کیسٹ ’’فتاوی العلماء في الجھاد‘‘سے لیا گیا)

الشیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمہ اللہ

(سابق رکن کبارعلماء کمیٹی، سعودی عرب)

سوال: فضیلۃ الشیخ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے آپ کے علم میں ہوگا کہ بدھ کے روز جو واقعہ رونما ہوا جس میں بیس سے زائد یہود مجاہدین کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے اور مزید پچاس کے قریب زخمی بھی ہوئے، جب ایک مجاہد اپنے جسم پر بمب باندھ کر ان کی ایک محفل میں گھس گیا اور اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیا۔ اس مجاہد نے مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر ایسا کیا:

1- وہ یہ جانتا تھا کہ اگر وہ آج نہیں تو کل ضرور مارا جائے گا کیونکہ یہود نوجوانان اسلام کو باقاعدہ منظم طور پر قتل کرتے ہیں۔

2- ان مجاہدین نے مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کو قتل کرنے کے انتقام کے طور پر ان یہودیوں کے خلاف یہ کاروائی کی۔

3- وہ یہ جانتے ہیں کہ یہود ونصاری فلسطین میں بیدار ہونے والی روح جہاد کو دبانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس کا یہ عمل خودکشی تصور کیا جائیگا یا جہاد، اور ایسی حالت میں آپ کیا نصیحت فرمائیں گے؟ کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ عمل حرام ہے لیکن امید ہے کہ شاید ہماری یہ بات ہمارے ان بھائیوں تک پہنچ جائے، وفقک اللہ؟

جواب: اس نوجوان نے جو دھماکہ خیز لباس پہنا تھا تو وہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو قتل کرتا ہے اور بلاشبہ وہ خود اپنے آپ کو قتل کرنے کا سبب بنا، ایسا کرنا ناجائز ہے الا یہ کہ اس سے اسلام کو کوئی عظیم ترین فائدہ پہنچنے کی امید ہو، نہ کہ محض لوگوں میں سے چند ایسے افراد کو مار دیا جائے جو نہ ان کے بڑے سرغناں ہیں اور نہ ہی کوئی اہم لیڈران۔ پس اگر اسلام کو کوئی عظیم منفعت متوقع ہوتو ایسا کرنا جائز ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہے اور بطور دلیل صحیح حدیث میں وارد اس مؤمن غلام کا قصہ بیان کیا ہے جس کی قوم کا بادشاہ کافرو مشرک تھا۔ پس اس بادشاہ نے اس غلام کو قتل کرنا چاہا تو کئی ایک طریقے سے کوشش کرنے کے باوجود وہ اسے قتل کرنے میں ناکام رہا، ہر دفعہ اللہ تعالی کسی نہ کسی طریقے سے اس غلام کو بچا لیتا تھا جس پر وہ بادشاہ بہت حیران تھا۔ پھر آخرکار خود اس لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے مارنا ہی چاہتا ہے تو ایسا کر کہ پوری قوم کو ایک وقت میں جمع کر اور:

’’بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ هَذَا الْغُلَامِ‘‘

(اس غلام کے رب  اللہ کے نام سے)

کہہ کر مجھ پر تیر چلا حالانکہ وہ اس سے پہلے ہر بار ’’بادشاہ کے نام سے‘‘ کہہ کر تیر چلاتے تھے۔ چناچہ جب لوگ جمع ہوئے اور تیر چلایا گیا تو وہ مرگیا۔ پھر کیا ہونا تھا تمام لوگ یہی پکارنے لگے ’’اس غلام کا رب ہی رب ہے‘‘ اور اس بادشاہ کی ربوبیت کا انکار کردیا کیونکہ وہ ہر حربہ آزما کربھی اس غلام کو قتل نہ کرسکا اس کے رب کے نام کا ایک کلمہ پڑھنے سے ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ چناچہ پوری قوم ایمان لے آئی کہ کائنات کی تدبیر کرنے والا اللہ ہی ہے([2])۔

شیخ الاسلام اسے بیان کرکے فرماتے ہیں کہ بیشک وہ غلام اپنی موت کا آپ ہی سبب بنا لیکن اس کے نتیجے میں پوری قوم ایمان لے آئی اگر اس قسم کا عظیم نفع متوقع ہو تو انسان کو اپنے دین پر اپنی جان فدا کر دینی چاہیے(یہاں بھی وہ سبب بنا لیکن اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کیا)۔ ماسوا اس کے محض دس بیس لوگوں کو بنا کسی فائدہ یا بڑی تبدیلی کے مار دینا تو اس سلسلہ میں کچھ ملاحظات ہیں بلکہ یہ حرام ہے، مزیدبرآں اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ یہود اس کے بدلے میں سینکڑوں مسلمانوں کو ملیا میٹ کردیں۔

خلاصہ یہ کہ اس قسم کے کاموں میں کمال تدبر اور معاملہ فہمی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور اس کے دوررس نتائج پر غور کرکے اعلی ترین مصلحت کو ترجیح اور عظیم ترین مفاسد کو دفع کرنا چاہیے پھر کہیں جاکرہردر پیش حالت میں اس کے مناسب حال فیصلہ کرنا چاہیے۔

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم جہادی کاروائی خودکش حملے کی صورت میں کرتے ہیں مثلاً اپنی گاڑی میں دھماکہ خیز مواد رکھ کردشمنوں میں گھس کر پھٹ جانا، جبکہ اس حملہ آور کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اس کی موت یہاں بلکل یقینی ہے؟

جواب: میری اس بارے میں یہی رائے ہے کہ ایسا شخص خودکشی کرنے والا ہے اور وہ عنقریب جہنم میں اسی آلۂ قتل سے عذاب دیا جائے گا جس سے اس نے آپنے آپ کو قتل کیا ہے۔

لیکن جو شخص جاہل ہے وہ معذور ہے وہ تو اسے اللہ کی رضا کی خاطر کررہا تھا۔ امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی اس سے درگزر فرمائے، کیونکہ اس نے غلط اجتہاد کے نتیجے میں ایسا کیا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس کے لئے کوئی عذر نہ تھا کیونکہ یہ خودکش حملوں کا معاملہ بہت مشہور ہوگیا تھا اور ایک انسان کو چاہیے تھا کہ وہ علماء کرام سے اس بارے میں سوال کرتا  تاکہ ہدایت اس کے لئے گمراہی سے الگ اور واضح ہوجاتی۔ اور انتہائی تعجب کی بات ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بے دریغ قتل کردیتے ہیں جبکہ اللہ تعالی کا واضح فرمان ہے:

﴿وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا﴾ (النساء :29)

(اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالی تو تم پر بڑا ہی مہربان ہے)

مگرحقیقت یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگوں کی نظر میں محض دشمن سے انتقام لینا مقصود ہوتا ہے چاہے جس طرح بھی ہو، چاہے حلال ہو یا حرام۔ انہیں تو بس اپنے غم وغصہ کی تشفی مطلوب ہوتی ہے۔ اللہ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں بصیرت عنایت فرمائے اوراس عمل کی توفیق دے جس سے وہ راضی ہو، اور وہ تو ہر شئ پر قادر ہے۔

(حوار مع الشیخ محمد بن صالح العثیمین –رحمہ اللہ– شائع کردہ مجلہ الدعوۃ، شمارہ نمبر 1598 بتاریخ 1998/7/3)

سماحۃ الشیخ عبدالعزیزآل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم سعودی عرب)

سوال: بعض اسلامی ممالک جنہیں دشمن ممالک کی جانب سے جنگ کا سامنا ہے یا ان کے علاقوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے، وہاں کے بعض افراد قابض ملک کے لوگوں پر خودکش حملے کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے سمیت دشمنوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اور بسااوقات اس کے اثرات خود ان کے اپنے ہم وطنوں اور کچھ دیگر پرامن لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے خیال میں یہ جہاد ہی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور وہ خودکشی کرنے والا شخص شہید ہے، تو فضیلۃ الشیخ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: شیخ نے جہاد سے متعلق بہت سے فضائل، احکام، فوائد اور فرضیت کے دلائل وغیرہ بیان کئے جن سے اکثر مسلمان واقف ہیں ان شاء اللہ(جنہیں طوالت کے پیش نظر شامل نہیں کیا جارہا)۔ آخر میں جہاد کو خالص اللہ کی رضا کے لئے کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی موافق ہونے پر زور دیتے ہوئےجہاد کے بعض شرعی ضوابط بیان فرما‏ئے:

1- جہاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے جھنڈے تلے ہو جس کی قیادت مسلمانوں کے امام(حکمران)  کررہے ہوں۔

2- مسلمانوں کے پاس مادی وسائل جیسے جنگی ہتھیار اور فوج موجود ہو۔

3- مادی وسائل کے ساتھ خصوصاً معنوی و روحانی وسائل یعنی ان کے عقائد وعبادات کی اصلاح اور اس کے علاوہ شرعی جہاد سے متعلق دیگر امور کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

 جبکہ جو طریقۂ کار سوال میں بیان کیا گیا یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا یا جسے خودکش حملہ کہا جاتا ہےتومیں شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں پاتا، اور نہ ہی اسے جہاد فی سبیل اللہ میں شمار کیا جاسکتا ہے بلکہ مجھے ڈر ہے کہ مبادا یہ خودکشی میں شمار نہ ہو۔ مانا کہ دشمن کا زیادہ سے زیادہ خون بہانا اور انہیں قتل کرنا مطلوب ہے بلکہ کبھی کبھار تو یہ فرض عین ہوتا ہے مگر اسے بھی اس طور پر بروئے کار لایا جائے جو شریعت کے خلاف نہ ہو۔

(جریدہ الشرق الاوسط ،شمارہ نمبر: 8180 بروز ہفتہ 2001/4/21)

الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ

(رکن کبارعلماء کمیٹی، سعودی عرب)

سوال: کیا خودکش حملے جائز ہیں یا اس عمل کے صحیح ہونے کی کچھ شرائط ہیں؟

جواب: اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا، وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا  فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا  ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا﴾ (النساء: 29-30)

(اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالی تو تم پر بڑا ہی مہربان ہے۔ اور جو شخص یہ(نافرمانی) سرکشی اورظلم سے کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے)

اس میں دونوں باتیں شامل ہیں کہ چاہے وہ اپنے آپ کو خود مار ڈالے یا کسی دوسرے کو مارنے کی خاطر اپنے آپ کو ناحق مارے، بلکہ اسے اپنی جان کی غایت درجہ حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ اس بات کو مانع نہیں کہ انسان جہاد وقتال فی سبیل اللہ میں شریک ہو اور اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش کردے لیکن رہی بات خودکش حملے کی تو یہ ناجائز ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں وقوع پذیر ہوا جب کسی معارکہ میں ایک شخص انتہائی بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا تو صحابہ کرام نے اس کی خوب تعریف کی کہ اس جیسی بےجگری سے کوئی بھی نہیں لڑا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں یہ فرماچکے تھے کہ وہ جہنمی ہے تو صحابہ پر یہ امر تھوڑا شاق گزرا۔ چناچہ ایک صحابی اس کا تعقب کرتا رہا اور اس کی ہرحرکات وسکنات پر نظر رکھی یہاں تک کہ جب وہ زخمی ہوگیا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس نے اپنی تلوار زمین میں نصب کرکے خود اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا جس سے تلوار اس کے سینے میں پوست ہوکر پشت کی جانب سے نکل آئی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ وہ صحابی بےساختہ کہہ اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں جو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ وحئ الہی سے بات کرتے ہیں([3])۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ شخص کیوں جہنم واصل ہوا؟ کیونکہ وہ تکلیف پر صبر نہ کرسکا اور اپنے آپ کو قتل کردیا، اسی لئے یہ بلکل ناجائز ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنے تئیں قتل کرے۔

(فتاوی العلماء في التفجیرات والمظاھرات والاغتیالات)

الشیخ عبدالعزیز الراجحی حفظہ اللہ

(سینئر پروفیسر جامعۃ الامام، ریاض)

سوال: دورحاضر میں معرکہ آرائی کے سلسلے میں خودکش حملوں کے استعمال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: میں دورۂ شیخ الاسلام ابن تیمیہ میں بھی اس سوال کا جواب دے چکا ہوں جب بذریعۂ انٹرنیٹ مجھ سے یہ سوال کیا گیا۔ دلائل کی روشنی میں میری یہ رائے ہے کہ ایسے حملے غیرشرعی ہیں اور یہ دوبدو دشمن سے صف آرا ہونے اور مڈبھیڑ ہونے کی قبیل سے نہیں کیونکہ:

1- یہ حملے جنہیں فدائی کہا جاتا ہے باقاعدہ جنگ میں بندھی صفوں میں نہیں ہوتے بلکہ (گوریلا کارروائی قسم کے ہوتے ہیں اس طرح کہ) جنگی حالت کے علاوہ ایک شخص کچھ غیرچوکس لوگوں کے پاس آتا ہے اور اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیتا ہے جبکہ وہ باقاعدہ جنگ میں برسرپیکار نہیں اور جو دلائل بیان کئے جاتے ہیں وہ مقابلہ کے لئے صف آرا فوج کے لئے ہیں۔ یعنی مسلمان ایک صف ہوں اور کفار ایک صف پھر ان کی لڑائی کے نتیجے میں مجاہد کفار کی صف میں مقابلے کے لئے پل پڑے۔

2- جو کفار کی صف میں مقابلے کے لئے کود پڑا اسے خودکش نہیں کہا جائے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ بچ بھی جائے برخلاف اس کے کہ جس نے اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیا، ایسا شخص خودکشی کا مرتکب ہے۔

3- جنگ خیبر کے موقع پر مشہور صحابئ رسول سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا عامر بن الاکوع رضی اللہ عنہ کا جب ایک یہودی سے سامنا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ کی اپنی ہی تلوار کی نوک اتفاقاً آپ کے پیر میں پیوست ہوگئی جس سے آپ کی موت واقع ہوگئی تب صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے چہ مگوئیاں کیں کے عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کیا گیا جہاد ضائع کردیا۔ جس پر ان کے بھائی سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ بہت کبیدہ خاطر ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استفسار پر فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر نے اپنا جہاد ضائع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

’’كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ‘‘

(جو یہ کہتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں انہوں نے اللہ کی راہ میں مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا کہ عرب  میں ایسے سپوت بہت شاذونادر گزرے ہیں جنہوں نے ان جیسی مثال قائم کی ہو)۔

 ایک روایت میں ہے کہ :

’’إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ‘‘([4])

(ان کے لئے دوھرا اجر ہے)۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب صحابہ ان کے بارے میں ایسا کہنے لگے حالانکہ ان کی تلوار بلاارادہ انہیں لگ گئی تھی، تو اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جو اپنے ہاتھوں سے اورمکمل ارادہ کے ساتھ اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیتا ہے۔ 

(کیسٹ  فتاوی العلماء في التفجیرات والمظاھرات والاغتیالات)

سوال: فلسطین وغیرہ میں ہونے والے فدائی حملوں سے متعلق کثرت سے سوالات کئے جاتے ہیں، ان کے بارے میں صحیح اسلامی حکم کیا ہے، جزاک اللہ خیراً؟

 جواب: ان کاروائیوں کے بارے میں میں نے اپنے شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کو خودکشی کو فتوی دیتے ہوئے سنا۔ اپنے آپ پر بمب باندھ کر پھاڑ دینا ناجائز اور خودکشی ہے۔ بعض لوگوں نے اس موضوع پر کتابیں لکھ کر اسے مستحسن قرار دینےکی کوشش کی ہے اور اسے بعض ان احادیث سے مشابہت دی ہے جن میں کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بےخوف وخطر دشمنوں کی صفوں میں کود پڑے، یا تن تنہا قلعے فتح کئے، لیکن یہ دلیل واضح نہیں بلکہ قیاس مع الفارق ہے۔ ان کے درمیان فرق پہلے فتوی میں بیان ہوچکا ہے۔ الغرض میں نے بعض کتابیں پڑھیں جن میں اس عمل کو جائز باور کرایا گیا ہے۔ دلیل میں بعض صحابہ کا رومی افواج میں کود پڑنا یا اپنے آپ کو (منجنیق) کے ذریعے قلعہ کا دروازہ کھولنے اور اسے فتح کرنے کے لئے پھینکنا وغیرہ بیان کئے ہیں،حالانکہ یہ تمام دلائل قیاس مع الفارق ہیں۔

(ابن بطہ  کی کتاب الابانۃ الصغری پر آپ کی شرح سے لیا گیا)


[1] بخاری: 6048، مسلم: 176 عن ثابت بن ضحاک-رضی اللہ عنہ

[2] صحیح ترمذ ی 3340۔

[3] صحیح بخاری 6607۔

[4] صحیح بخاری 4196، صحیح مسلم 1804۔

khudkash_fidai_hamlay_haram_hain