Prohibition of intentionally or accidentally killing foreign ambassadors, tourists, Dhimmī etc – Shaykh Abdul Muhsin bin Hamd al-Abbaad Al-Badr

معاہد ومستأمن (غیر ملکی سفیر وسیاح وغیرہ) کو عمداً یا خطاً قتل کرنے کی حرمت   

فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ

(محدثِ مدینہ و سابق رئیس، جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ لا للارھاب سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ذمی(وہ غیر مسلم جو مسلم ملک میں جزیہ دے کر رہتے ہیں)، معاہد (جو اسلامی ملک میں معاہدے کے تحت آیا ہو) اور مستأمن(جسے مسلمانوں نے امان دی ہو) کو قتل کرنا حرام ہے۔ اس بارے میں شدید وعید وارد ہوئی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح 3166 میں حدیث روایت فرمائی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی رحمۃ للعالمینصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نےفرمایا:

’’مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘

(جس کسی نے معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

امام بخاری رحمہ اللہ اسے کتاب الجزیۃ میں لے کر آئے ہیں باب ’’إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ‘‘ (جو کسی معاہدکو بلاجرم کے قتل کرے اس کا گناہ) اسی طرح سے اسے کتاب الدیات میں بھی لائے ہيں باب ’’إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ‘‘ (جو کسی ذمی کو بلاجرم کے قتل کرے اس کا گناہ)اور وہاں یہ الفاظ ہیں:

’’مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں فرماتےہیں: (اسی طرح سے ذمی بھی ترجمہ فرمایا اور معاہد کے تعلق سے بھی خبر لائے، اور جزیہ کے تحت بھی جو ترجمہ فرمایا کہ جس کسی نے کسی معاہد کو قتل کیا،جیسا کہ اس خبر (حدیث) کا ظاہر ہے۔ اس سے مراد ہر وہ شخص جس کا مسلمانوں سے عہد ہو چاہے جزیہ کے ذریعے ہو یا حکمران کی جانب سے کسی معاہدے کے تحت ہو یا کسی بھی مسلمان نے اسے امان دی ہو)۔

اور امام نسائی رحمہ اللہ اپنی سنن 4750 میں ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں:

’’مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘

(جس کسی نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

اسی طرح سے حدیث 4749 میں بھی صحیح سند کے ساتھ صحابہ کرام میں سے کسی شخص سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا‘‘

(جس کسی نے اہل ذمہ میں سے کسی شخص کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ‘‘

(جس کسی نے معاہد کو بے وقت قتل کیا اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام فرمادی)۔

اسےامام  ابو داود نے 2760 اور امام نسائی رحمہما اللہ نے 4747 میں صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے 4748 میں ان الفاظ کا اضافہ نقل فرمایا:

’’أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا‘‘

(اللہ تعالی نے اس پر حرام کردیا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی سونگھ پائے)۔

امام المنذری نے الترغیب والترہیب 2/635 میں فرمایا( ’’فِي غَيْرِ كُنْهِهِ‘‘ کا معنی ہے بے وقت یعنی ایسے وقت میں قتل نہيں کیا جب اس کا قتل جائز تھا یعنی اس کا کوئی عہد ومعاہدہ نہیں تھا)۔  اور فرمایا: (اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت فرمایا اور اس کے الفاظ ہیں:

’’مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا، لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَ إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ‘‘

(جس کسی نے ناحق کسی معاہد جان کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو سو سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے)۔

شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔

جہاں تک معاملہ ہے کسی معاہد کو خطاً قتل کرنا تو اللہ تعالی نے اس بارے میں دیت اور کفارہ واجب قرار دیا ہے، فرمان الہی ہے:

﴿وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَھْلِهٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ۡ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا﴾ (النساء: 92)

(اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیمان ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا بھی ضروری ہے، پس جو نہ پائے اس کے ذمے لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں اللہ  تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے ، اور اللہ  تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے)

آخر میں میں کہوں گا کہ اے نوجوانوں اپنے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو، اور شیطان کا شکار نہ بنو، جو تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی ذلت ورسوائی کو جمع کردے گا۔ اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے بوڑھوں، ناتوانوں اور نوجوانوں کے بارے میں بھی اللہ تعالی سے ڈرو۔ اسی طرح سے مسلمان عورتوں کے بارے میں ان کی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو۔ عمر رسیدہ بزرگوں سے لے کر شیرخوار بچوں تک کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو۔ معصوم جانوں کے ضائع ہونے اور قابل احترام مال کے تلف ہونے کے بارے میں ہی کچھ اللہ کا ڈر پیدا کرو۔

﴿فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ (البقرۃ: 24)

(اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں)

﴿وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ، ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ﴾ (البقرۃ: 281)

(اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ  تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا)

﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا، وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ  تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗٓ اَمَدًۢا بَعِيْدًا﴾ (آل عمران: 30)

(جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت سی دوری ہوتی)

﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ، وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ، لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ﴾ (عبس: 34-37)

(اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے،  اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے، ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی)

اپنی نیند سے بیدار ہوجاؤ اور خواب غفلت سے ہوش میں آؤ۔ زمین میں فساد پھیلانے کی خاطر شیطان کی سواری نہ بنو۔

اللہ عزوجل سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین کا صحیح فہم عطاء فرمائے۔ اور انہيں فتنوں کی گمراہیوں سے محفوظ فرمائے، خواہ ظاہر ہوں یا باطن۔ اور اللہ تعالی درود وسلام اور اپنی برکت اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ان کی آل اور تمام اصحاب پر نازل فرمائے۔