Some characteristics of a Hizbee? – Shaykh Zayd bin Muhammad bin Hadee Al-Madkhalee

حزبی کی بعض علامات

شیخ زید بن محمد بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ المتوفی سن 1435ھ

(سعودی عرب  کے علاقے صامطہ، جازان کے مشہور سلفی عالم دین)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: العقد المنضد الجديد في الإجابة على مسائل في الفقه والمناهج والتوحيد (ص 43-44)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مندرجہ ذیل علامات سے کسی حزبی (فرقہ وتنظیم و شخصیت پرست) کو جانا جاتا ہے چاہے وہ ان کے قائدین ہوں یا بھیڑ چال چلنے والے پیروکار:

 

کسی ایسی معین جماعت میں شمولیت اختیار کرنا جس کا اپنا ایک خاص منہج ہو جو منہج سلف اہل حدیث واثر کے خلاف ہو جیسا کہ جماعت اخوان المسلمین اور اس کی مختلف شاخیں اور تبلیغی جماعت ، اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنا، ان کے حزب یا جماعت کی حق ہو یا باطل نصرت وتائید کرنا۔

 

اس کا سابقہ ذکر کردہ جماعتوں یا ان کے علاوہ بھی ان جیسی عقیدے وعمل میں منحرف جماعتوں کے ساتھ بیٹھنا چلنا، خواہ وہ جماعت ہو یا فرد ہو تابع (پیروکار) ہو یا متبوع(پیشوا) ہو۔

 

اس کا اہل سنت پر تنقید کرنا اورایسے ردود سن کر چہرے کی رنگت بدل جاناجو علماء کرام موجودہ حزبیوں خفیہ تنظیموں وجتھوں کا رد کرتے ہیں۔

 

ان داعیان کی عزت کے درپے ہونا جو اس چیز سے تمسک اختیار کرتے ہیں جس پر اہل اثر تھے یعنی سلف صالحین کے منہج پر چلتے ہوئے اللہ تعالی کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی اطاعت۔

 

اس کا مسلمانوں کے حکمرانوں کی عزت کے درپے ہونا اور ان لوگوں سے محبت کرنا جو اپنی کتابوں، کیسٹوں اور مجالس میں اس کی تشہیر کرتے پھرتے ہیں۔

 

ان کا ایسے علماء کرام پر چڑھائی کرنا کہ جو حکام کی غلطیوں کی وجہ سے ان کے خلاف خروج وانقلاب نہیں کرتے، اور ان علماء کو مداہنت وغیرہ جیسی بری صفات سے متصف کرتے ہیں حالانکہ علماء ربانی کو اس قسم کی صفات سے سوائے دل کے مریضوں اور بیوقوں کے کوئی متصف نہیں کرتا۔

 

ان کا اناشید (دینی نظموں ترانوں) اور (دینی) ڈراموں کو پسند کرنا، اور گرمجوشی سے ان کا اور ان کے کرتا دھرتا لوگوں کا دفاع کرنا۔ اور یہ چیزیں کس قدر کثرت کے ساتھ اخوان المسلمین کی صفوں میں پائی جاتی ہیں  بلکہ  یہ تو ان کے قائدین اور کارکنوں  یعنی فریب خوردہ بیچارے نوجوان لڑکوں اور بیچاری لڑکیوں کا سامانِ تفریح ہے۔ اللہ تعالی ان تمام کو حق کی جانب لوٹا دے۔