Is it allowed to replace weak narrations in Mutoon with authentic ones? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

متون میں سے ضعیف احادیث کو حذف کرکے ان کی جگہ صحیح احادیث ڈالنے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری  حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ الآجری (يوجد في بعض المتون أحاديث ضعيفة هل يجوز حذفها ووضع أحاديث صحيحة مكانها أم أن هذا مخالف للأمانة العلمية ؟وما رأيكم في من يفعل ذلك؟)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: بسا اوقات بعض متون میں ضعیف احادیث ہوتی ہیں، کیا انہیں حذف کرنا اور ان کی جگہ صحیح احادیث لکھ دینا جائز ہے؟یا پھر یہ علمی امانت کے خلاف ہے؟ آپ کی ا س شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو ایسا کرتا ہے؟

جواب: متن کی اصل عبارت کی محافظت کرنا واجب ہے۔ پھر حاشیے (فٹ نوٹس) میں اس حدیث کا ضعف بیان کیجئے۔ اس پر تعلیق لگا کر حاشیے میں اس ضعیف حدیث کی جگہ صحیح احادیث بیان کیجئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حدیث ضعیف ہو لیکن اس کی تائید صحابہ کرام کے فتاوی سے ہوتی ہو یا پھر آئمہ تابعین میں اس پر فتاوی مشہور ہوں، تو اس دلیل کی بھی تعلیق ڈال دیں ۔ جیسا کہ الجبیرہ والی حدیث ہے وہ ضعیف حدیث ہے لیکن تابعین اور ان کے بعد والوں میں سے ایک خلق کثیر وکبیر نے اس پر فتوی دیا ہے۔ اور یہ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

سوال: جو ایسا کرے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ایسا شخص غلطی پر ہے۔ اسے حذف نہيں کیا جائے گا یہ خیانتِ علمی ہے۔ صاحب متن کی جانب وہ بات منسوب نہ کی جائے جو اس نے کہی نہيں۔ لیکن ایک طریقہ اختصار کا بھی ہوتا ہے۔ جیسے ایک متن بہت بڑا ہو جس میں صحیح اور ضعیف احادیث موجود ہوں تو وہ اسے ضعیف احادیث سے الگ کرکے مختصر کردے۔ او راس کے مقدمے میں لکھ دے کہ اس میں سے ضعیف احادیث حذف کردی گئی ہیں۔ جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’العلو‘‘  کتاب میں کیا کہ ضعیف احادیث کو نکال کر اسے مختصر فرمادیا۔ اسی طرح سے شمائل ترمذی ہےشیخ البانی  رحمہ اللہ کی اگر میرا حافظہ دھوکہ نہيں دے رہا تو آپ نے اسے مختصر کیا ہے اور محض صحیح احادیث پر اکتفاء فرمایا ہے۔ اسی طرح سے سنن اربعہ جو ہیں ان میں سے ہر کتاب کی صحیح احادیث الگ کرکے ایک الگ مستقل کتاب بنادی ہے اور ضعیف کو بھی الگ کرکے ایک مستقل کتاب بنالی ہے۔ مثال کے طور پر صحیح ترمذی اور ضعیف ترمذی، صحیح ابی داود اور ضعیف ابی داود، اسی طرح سے صحیح  نسائی اور ضعیف نسائی، صحیح ابن ماجہ اور ضعیف ابن ماجہ۔ تو ایسا کرنے میں کوئی مانع نہیں، لیکن بالکلیہ ہی (ضعیف احادیث) حذف کردی جائیں اور باقی کا متن جوں کا توں رہے تو یہ علمی خیانت ہے([1])۔

 


[1] شیخ علامہ محمد امان الجامی رحمہ اللہ سے جب سوال ہوا کہ کتاب التوحید، فتح المجید اور تیسیر العزیز الحمید  میں ضعیف احادیث ہیں تو آپ نے فرمایا:

استدلال کی دو اقسام ہیں:

’’استدلال للتأسيس‘‘ (تاسیس وبنیاد کے لیے استدلال)  اور ’’استدلال للتأييد‘‘ (تائید کے لیے استدلال) جتنی بھی ضعیف احادیث اس کتاب میں ہیں وہ محض تائید کے باب میں سے ہیں ناکہ تاسیس وبنیاد کے باب میں سے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ مؤلف نے ہر باب کے عنوان کا آغاز یا آیت سے فرمایا یا پھر صحیح احادیث سے، پھر اس کے بعد بسا اوقات کوئی ضعیف حدیث یا اثر لے آتے ہیں۔ اور یہ کوئی پہلی شخصیت نہیں کہ جنہوں نے ایسا کیا ہوبلکہ علماء اہل سنت اس قسم کے معاملات میں تساہل(نرمی) کرتے ہیں۔یعنی تائید کے باب میں جو دلائل محض بطور تائید کے بیان ہوتے ہیں تو اس میں صحت کی شرط نہيں لگاتے کیونکہ ان کا معنی صحیح ہوتا ہے، اس دلیل کے مطابق جو اس سے پہلے اساسی طور پر کتاب وسنت کی انہوں نے بیان فرمائی۔

جب تک آپ کے قائم کردہ باب سے متعلقہ کوئی آیت ہے یا صحیح حدیث ہے یعنی وہ حدیث جسے ’’حدیث الباب‘‘  کہا جاتا ہے اس باب کی جو اصل حدیث ہے وہ صحیح ہے، تو پھر اس کے بعد کسی ضعیف حدیث  یا ضعیف اثر کا آجانا جس کا معنی سابقہ پیش کردہ آیات وصحیح احادیث کی تائید کرتا ہو کوئی عیب نہیں۔ اور یہ بات اہل سنت والجماعت کی مؤلفات میں بہت زیادہ ہے او رمنتشر ہے ۔

جو بات جائز نہیں ہے وہ صرف یہ ہے کہ کسی عقیدے کو یا کسی حکم کو کسی ضعیف حدیث پر اعتماد کرکے ثابت کیا جائے،یہ بات جائز نہیں، پس اس بات کو آپ اچھی طرح سے سمجھ لیں۔۔۔

(شرح کتاب التوحید کیسٹ 23)