Accepting invitations and gifts from those whose income is Haraam (Unlawful)? – Various 'Ulamaa

جن کی کمائی حرام کی ہو ان کی دعوت اور تحائف قبول کرنے کا حکم؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

۔۔۔اس وجہ سے ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ آپ کے بھائی جب تک سودخوری میں معاونت کرتے ہیں، اسے لکھتے اور اس کے گواہ بنتے ہیں تو وہ گنہگار ہیں اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس سے جان چھڑائيں۔ لیکن اگر وہ اصرار کرتے ہیں اور اسی پر باقی رہتے ہیں اور آپ اس کے پاس جاتے ہیں اور اس کے کھانے میں سے کھاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ آپ کے سر کوئی گناہ نہیں۔ اگرچہ آپ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ کیونکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے یہودیوں کا کھانا کھایا اور یہود جیسا کہ آپ جانتے ہیں سودخور تھے۔ ربا لیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ان سے یہ تفتیش نہیں فرمائی کہ: کیا تم سود کا معاملہ کرتے ہو یا نہیں؟ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کا ایسے کی دعوت کھانا جس کی کمائی حرام ہو جائز ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔

لیکن اپنے بھائی کو بار بار نصیحت کرنے سے مایوس نہ ہوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی اسے ہدایت دے دے۔ اسے خوشخبری بھی سنائیں کہ اگر وہ توبہ کرلے گا تو جو ہوگزرا وہ اس کا ہے۔۔۔

(دیگر تفصیلی احکام  پر مزید علماء کرام جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن باز، ابن عثیمین، فتوی کمیٹی سعودی عرب، صالح الفوزان و صالح آل الشیخ کے کلام کو جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں)