Is Freedom from Hell-fire on the Day of 'Arafah Specific to Pilgrims? – Various 'Ulamaa

یومِ عرفہ میں جہنم سے گلوخلاصی کیا حاجیوں کے ساتھ خاص ہے؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ‘‘([1])

(یوم عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں اللہ تعالی سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے گلو خلاصی عطاء فرماتا ہے۔ اللہ تعالی قریب آتا ہے، پھر فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے پوچھتا ہے : (میرے یہ بندے )مجھ سے کیا چاہتے ہیں)۔

 

حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یوم عرفہ جہنم کی آگ سے گلو خلاصی کا دن ہے۔۔۔اللہ تعالی اس دن انہیں جہنم سے آزاد فرماتا ہے جو عرفہ میں وقوف فرماتے ہیں اور انہیں بھی جو وہاں وقوف والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوتےجیسے دیگر شہرو ں کے مسلمان۔  اسی لیے اس کے بعد والا دن تمام مسلمانوں کی شہروں میں عید ہوتا ہے خواہ وہ الموسم (مناسک حج )میں حاضر تھے یا نہیں کیونکہ عرفہ کے دن جہنم سے گلوخلاصی اور مغفرت کے تعلق سے ان میں اشتراک تھا۔۔۔

 

(لطائف المعارف لابن رجب الحنبلی)

شیخ عبید الجابری حفظہ اللہ سے سوال ہوا:

جزاکم اللہ خیراً  شیخنا، یہ نواں سوال ہے۔ سائلہ یمن سے کہتی ہے کہ: کیا یوم عرفہ کی دعاء کی فضلیت اور کثرت کے ساتھ جہنم سے گلو خلاصی ملنا حاجیوں کے لیے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟

 

جواب: جو بات مجھ پر ظاہر ہوئی ہے وہ عموم ہے یہاں تک کہ جو وہاں وقوف نہیں کررہا وہ بھی اللہ سے دعاء کرے، اس کا ذکر کرے، قرآن مجید پڑھے، نماز پڑھے اگر اس کی طاقت ہواور روزہ رکھے تو وہ بھی خیر پر ہے ان شاء اللہ۔

 

اگرچہ حجاج کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث میں فرمائے گئے خطاب میں زیادہ داخل ہیں، کیونکہ یہ خطاب ان سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘([2])

(بہترین دعاء یوم عرفہ کی دعاء ہے۔ اور وہ سب سے افضل (ذکر  ودعاء) جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام نے کیا  یہ ہے: ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ نہیں ہے کوئی معبود حقیقی مگر صرف اللہ تعالی، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں)۔

 

(میراث الانبیاء ویب سائٹ سے فتوی)

 


[1] صحیح مسلم 1351۔

 

[2] مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزہری 621، صحیح ترمذی  3585 کے الفاظ یہ ہیں: ’’خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘۔