Lagislated ways through which we can save our children from Shaytaan – Shaykh Khaalid bin Dhahwee Ad-Dhafeeree

وہ شرعی طریقے جن کے ذریعے ہم اپنے بچوں کی شیطان سے حفاظت کرسکتے ہیں   

فضیلۃ الشیخ خالد بن ضحوی الظفیری حفظہ اللہ

(اہل بدعت سے خبردار کرنے کے تعلق سے مایہ ناز تصنیف "إجماع العلماء على الهجر والتحذير من أهل الأهواء" کے مصنف، کویت)

مترجم: طارق علی بروہی

مصدر: مُستفاد من سلسلة لقاءات نَصائِح في إصلاح البُيوت "اللقاء الثاني" ویب سائٹ میراث الانبیاء

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

1- گھر میں داخل ہوتے وقت ، کھانا یا رات کا کھانا کھاتے وقت اللہ تعالی کا ذکر ۔ یہ بات نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وارد ہے، فرمایا:

’’إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ وَحِينَ يَطْعَمُ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ‘‘([1])

(جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے  اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالی کا نام ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے آج نہ تمہیں (یعنی شیاطین کو) یہاں سونا نصیب ہوگا نہ رات کا کھانا)۔

2- بچے کے پیدا ہونے سے لے کر بڑے ہونے تک اس کی حفاظت کے وسائل میں سے یہ بھی ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس آئے یعنی جب جماع کا ارادہ کرے، تو اس بارے میں ایک سنت ہے جس سے بہت سے لوگ غافل ہیں، بہت سے جوڑے(میاں بیوی) اس سے غافل ہیں اور وہ اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے تو فرمایا کہ یہ کہے:

’’اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، قال: فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا‘‘([2])

(اے اللہ ہمیں  شیطان سے بچا اور جو (اولاد) تو ہمیں عطاء فرمائے اسے بھی شیطان سے بچا، فرمایا: اگر ان کے لیے اس سے اولاد ہونا مقدر ہوا تو اسے کبھی شیطان نقصان نہیں پہنچا سکے گا)۔

3- اپنے گھر میں اللہ کا ذکر کریں۔ تلاوت قرآن  کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے رکھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَثَلُ البَيْتِ الَّذي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، وَالبَيتِ الذي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، مَثَلُ الحَيِّ والمَيِّتِ‘‘([3])

(اس گھر کی مثال جس میں اللہ تعالی کا ذکر کیاجاتا ہے اور اس گھر کی جس میں اللہ تعالی کا ذکر نہيں کیا جاتا، زندہ اور مردے کی سی مثال ہے)۔

زندہ گھر وہ ہے جس میں ذکر الہی ہو جبکہ مردہ گھر جس میں کوئی فائدہ نہیں وہ ہے جس میں ذکر الہی نہ ہو۔ اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی تلاوت قرآن اور ذکر الہی کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھے۔ اس لیے بھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا وَإِنَّ الْبَيْتَ لَيُتْلَى فِيهِ الْقُرْآنُ فَيَتَرَاءَى لأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تَتَرَاءَى النُّجُومُ لأَهْلِ الأَرْضِ‘‘([4])

(اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھو، اپنے گھروں کو اپنے لیے قبرستان نہ بنالو۔ بے شک جس گھر میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے وہ آسمان والوں کو ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے زمین والوں کو آسمان پر تارے نظر آتے ہیں)۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح ([5]کہا ہے۔ یعنی جیسے ہم آسمان پر تاروں کو چمکتا دیکھتے ہیں، اسی طرح سے اہل آسمان کو وہ زندہ گھر کہ جس میں قرآن مجید تلاوت کیا جاتا ہے اور جس میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے نظر آتا ہے۔ جیسا کہ ہم ستاروں کو آسمان پر دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔

4- گھر پر باکثرت نمازیں پڑھنا یعنی نفلی نمازیں۔ کوشش کریں کہ اس کے عادی بن جائیں اپنے نفس کو اس کی عادت ڈالیں کہ نفل نمازیں ہمیشہ گھر پر پڑھیں۔ چاہے وہ فرائض کے ساتھ والے نوافل ہوں (سنتیں) یا وتر۔ فرض نماز مسجد میں ادا کریں پھر گھر لوٹ کر عشاء کے بعد دو سنتیں، مغرب کی سنتیں، ظہر کی سنتیں، عصر کی سنتیں انہیں اپنے گھر پر ادا کریں اور کوشش کریں کہ اپنی نمازوں کاکچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھیں، فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ گھر پر بھی نمازیں پڑھیں تاکہ چھوٹے آپ کو دیکھ کر عادی بنیں، اسی طرح سے دوسرے آپ کو دیکھ کر اللہ تعالی سے مدد مانگیں گے، اس کا ذکر کریں گے اور نماز پڑھیں گے۔

5- بچوں کو شیطان کے مقابلے میں اللہ تعالی کی پناہ میں دینا اور اللہ تعالی سے دعاء کرنا کہ وہ شیطان مردود سے ان کی حفاظت فرمائے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیا کرتے تھے اور فرماتے ہیں:

’’أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التّآمَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ‘‘

(میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر قسم کے شیطان سے)۔

یعنی اپنا ہاتھ بچے پر رکھ کر یہ کہیں:

’’أُعِيذُكَ بِكَلِماتِ اللهِ التّآمَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهآمَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لآمَّةٍ‘‘

(میں تمہیں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان سے، ہر زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سیدنا ابراہیم  علیہ الصلاۃ والسلام:

’’كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ‘‘([6])

(ان کلمات کے ذریعے سیدنا اسماعیل واسحاق علیہما الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیاکرتے تھے)۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔

6- نماز مغرب کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت بچوں کو گھروں میں بند کرنا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ سیدنا  جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ:

’’ كُفُّوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ فَحْمَةِ الْعِشَاءِ فَإِنُّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَبُثُّ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ، فَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ‘‘

(اپنے بچوں کو عشاء کے وقت (یعنی جب رات شروع ہوجائے) گھروں میں بند کردو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالی  اپنی مخلوقات میں سے (رات کو) کیا کیا پھیلادیتا ہے،  پس اپنے دروازے بند کرلیا کرو، چراغوں کو بجھا دیا کرو، برتنوں کو ڈھانک لیا کرو، اور مشکیزوں کو کس لیا کرو)۔

یعنی جب رات شروع ہو روشنیاں بجھا دیا کرو، اور کھانے کو یونہی کھلا نہ چھوڑو بلکہ ڈھانپ لیا کرو۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آیا ہے کہ اگر تمہیں کوئی چیز یا برتن نہ ملے ڈھانپنے کے لیے تو کوئی بھی چیز اس پر رکھ لیا کرو اور اللہ تعالی کا نام ذکر کرلیا کرو۔ مثلاً اس پر کوئی ٹکڑا رکھ دو یا چمچہ رکھ دو اور کہو بسم اللہ۔ اس طرح سے اللہ تعالی اس کھانے سے شیاطین کو دور رکھے گا۔

7- سورۃ البقرۃ کی تلاوت کرنا: گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کرنا شیطان کو بھاگا دیتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ‘‘

(شیطان اس گھر سےبھاگ جاتا ہے جہاں سورۃالبقرۃ پڑھی جاتی ہے)۔

اور فرمایا:

’’لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ    إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ‘‘([7])

(اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ شیطان اس گھر سےبھاگ جاتا ہے جہاں سورۃالبقرۃ پڑھی جاتی ہے)۔

دیکھیں سورۃ البقرۃ کی قوت کہ اللہ تعالی نے اسے شیاطین کے بھاگنے کا سبب بنایا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’اِقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ‘‘([8])

(سورۃ البقرۃ پڑھا کرو کیونکہ اسے پانا برکت ہے، جبکہ ترک کرنا حسرت ہے، اور جادوگر لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے یا اس کی تاب نہیں لا سکتے)۔

یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک مسلمان کو کوشش کرکے یہ تلاوت ضرور کرنی چاہیے۔ اگر وہ سورۃ البقرۃ اپنے گھر میں پڑھے گا تو شیطان اس سے ، اس کے اہل وعیال سے اور اس کے گھر سے دور بھاگے گا جو کہ اس کے گھر کی اصلاح اور خیریت کا سبب بنے گا۔

8- ان مسائل میں سے جو شیاطین کے بھاگنے کا سبب ہیں یا اس کے برعکس انہیں لانے کا سبب ہیں یہ بھی ہیں کہ تصاویر لٹکانا، کسی بھی ذی روح کی تصاویر جیسے حیوانات کی یا انسانوں اور شخصیات کی، ان تصاویر کو گھر پر لٹکانے سے شیاطین کی آمد ہوتی ہے اور فرشتے دور چلے جاتے ہیں۔ پس جس گھر میں فرشتہ نہ ہو، اور اس میں فرشتے داخل نہ ہوسکتے ہوں تو وہ شیاطین کے آماجگاہ بن جاتے ہیں۔

9- کتے کو پالنا بھی گھر میں فرشتوں کو داخل ہونے سے روکنے کا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام آئے اور فرمایا:

’’إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ‘‘([9])

(ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو)۔

یعنی ایسا گھر جس میں کتا پایا جاتا ہو۔ بعض لوگ کتوں کو پالتے ہیں ایسے شخص کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوجاتا ہے، ایک قیراط کے برابر نیکیاں جو کہ پہاڑوں کے برابر احد پہاڑ کے برابر ہوتی ہیں۔ ہر روز اس کے نیکیوں کے میزان سے ایک احد پہاڑ کے برابر نیکیاں کم کردی جاتی ہیں۔ کیونکہ  اس نے اپنے گھر میں بلاحاجت کتاپال رکھا ہے۔ ظاہر ہے اس میں سے شکاری کتے اور چوکیداری کے لیے کتے مستثنی ہیں، یہ تو ایک جائز بات ہے۔ لیکن بعض لوگ مغربی لوگوں کی عادت کی طرح، اہل مغرب کی تقلید میں کتے پالنے کا شوق رکھتے ہیں تو یہ شیاطین کو لانے کا سبب ہے۔

10- اسی طرح سے بچوں کی اور کسی بھی مسلمان کی حفاظت کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ انہیں اس ذکر کی عادت ڈالے اور یاد کروائے جو گھر سے نکلتے وقت پڑھنا چاہیے جو کہ آسان سا ذکر ہے۔ اگر آپ اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی میں نکلتے ہیں یا کسی بھی جگہ جاتے ہیں تو انہیں یہ دعاء یاد کروائیں، اور وہ یہ قول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ:

’’إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‘‘

(جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلے تو یوں کہے: اللہ تعالی کے نام سے، میں نے اللہ تعالی پر توکل کیا، نہیں ہے نیکی کرنے کی اور برائی سے بچنے کی طاقت مگر صرف اللہ تعالی کی مدد سے)۔

بہت آسان سی چھوٹی سی دعاء ہے زیادہ طویل بھی نہیں، تین ہی کلمات ہیں:

’’بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‘‘

لیکن اس دعاء کی قوت اور اثر تو دیکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’قَالَ: يُقَالُ حِينَئِذٍ: هُدِيتَ، وَكُفِيتَ، وَوُقِيتَ‘‘

(جب وہ یہ دعاء پڑھ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے: تو نے ہدایت پالی، تجھے کفایت کردی گئی او رتو بچالیا گیا)۔

یعنی تجھے ہدایت مل گئی، اللہ تعالی تجھے ہر شر کے خلاف کافی ہوگیا، اور تجھے شیاطین سے بچا لیا۔  صرف تین کلمات ہیں جن سے یہ اجر حاصل ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد فرماتے ہیں:

’’فَتَتَنَحَّى لَهُ الشَّيَاطِينُ، فَيَقُولُ لَهُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ‘‘([10])

(پس اس سے شیاطین دور ہٹ جاتے ہیں، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تم اس شخص پر کیونکر قابو پاسکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، کفایت کی گئی اور بچا لیاگیا)۔

یعنی اس شخص تک پہنچنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس شخص تک پہنچے کی طاقت نہیں رکھتے کہ جس نے یہ دعاء پڑھی ہو کیونکہ وہ کفایت کیا گیا، بچالیا گیا اور ہدایت پاگیا۔

 


[1] صحیح مسلم 2020 اور یہ الفاظ مسند احمد 14435 کے ہیں۔

[2] صحیح بخاری 6388، صحیح مسلم 1436۔

[3] صحیح مسلم 782۔

[4] مسند احمد 37844۔

[5] سلسلہ احادیث صحیحہ 3112۔

[6] صحیح بخاری 3371۔

[7] صحیح مسلم 782۔

[8] صحیح مسلم 807۔

[9] صحیح بخاری 3227۔

[10] صحیح ابی داود 5095۔