Can we call the current war in Syria (Shaam) pure Jihaad in the way of Allaah? – Various 'Ulamaa

شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ شامی جہاد اور جبھۃ النصرۃ (النصرۃ فرنٹ) جماعت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

سوال: آپ کا شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے متعلق کیا فتویٰ ہے اور کیا وہ شرعی جہاد شمار ہوگا؟ اور کیا جیش حر کے ساتھ مل کر قتال کرنا (اسلامی ) پرچم کے تحت جہاد کرنا شمار ہوگا؟

جواب: اس پر ہم بہت بات کرچکے ہیں۔ اسی مناسبت سے اہل اہوا اہل سنت پر طعن کرتے ہیں جب انہوں نے شروع شروع میں کہا کہ قتال نہ کرو(کیسٹ میں کچھ انقطاع ہے) تاکہ ان کا خون نہ بہے ان کے محارم کو حلال نہ کردیا جائے جیسا کہ آپ اب دیکھتے اور سنتے ہیں! عزتیں لٹی جارہی ہيں، خون بہا جارہا ہے، لوگ دربدر ہورہے ہیں، کھیتی ونسل ہلاک ہورہےہیں، یہ گروہ یہود ونصاریٰ سے بڑھ کر کافر ہيں۔ یہ بات طے شدہ ہے۔ پس جب ہم نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو تو انہوں نے کہنے والوں کی بات پر کان نہ دھرا۔ کہا: یہ لوگ تو بشار کے ساتھ کھڑے ہیں! بشار کے نظام کے ساتھ ہیں! ان میں سے عاقل کہتا ہے یہ لوگ نصیریوں کے ساتھ کھڑے ہيں؟!! کیا وہ جانتے ہيں نصیریہ کا معنی کیا ہے؟! اس کے ساتھ کھڑے ہیں؟!! ایک کافر کے ساتھ اس طور پر کھڑے ہونا کہ اہل ایمان واسلام کے خلاف اس کی مدد کی جائے  اللہ تعالی کے دین سے ارتداد ہے۔ لیکن اہل باطل کے پاس اگر ہزار مؤذن لے آؤ جو پکار پکار کر یہ صفائی دیں پھر بھی وہ اہل سنت وایمان کے خلاف اپنی ہرزہ سرائی وبہتان بازی سے باز آنے کے نہيں۔

بہرحال جو ہونا تھا وہ ہوا اور درحقیقت میں اس پرچم کو شرعی پرچم تصور نہیں کرتا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب پوچھا گیا ایک شخص حمیت کے لیے لڑتا ہے، ایک شجاعت کے لیے، ایک مال غنیمت کے لیے ان میں سے کونسا فی سبیل اللہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام سے اعراض کرتے ہوئے یہ حکیمانہ جواب مرحمت فرمایا کہ:

’’مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘([1])

(جس نے اس لیے قتال کیا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو صرف وہی فی سبیل اللہ ہے)۔

تو کیا جیش حر اس لیے لڑ رہا ہے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو؟ ہم یہ سوال پوچھتے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس کا جھنڈا بلند کریں۔ لیکن جو کچھ ہم نے سنا اور دیکھا ہے حقیقت اس کے برخلاف ہی ہے۔ لہذا ان تمام اتحادوں اور مجمعوں میں سب ہی قسم کے لوگ شامل ہیں سیکولرز، آزاد خیال، جمہوری، قوم پرست، عوام پرست بلکہ بعض تو ان میں سے اپنے آپ کو علوی بھی کہتے ہیں جو کہ نصیری ہیں، یعنی اسی موجودہ حاکم کی جماعت سے وہ بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اسی طرح سے نصاریٰ تک ان کے ساتھ تہذیب وتمدن پر مبنی  ریاست کے خواہاں ہیں۔ آپ کو معلوم ہے تہذیب وتمدن سے ان کی کیا مراد ہے؟! اس کا مطلب ہے لادینی! جس میں دین کا کوئی مقام نہ ہو! پھر کیا اسے یعنی ایسوں کے ساتھ مل کر قتال کو فی سبیل اللہ کہا جائے گا؟!

لیکن میں ان لوگوں کو کہوں گا جو اس آزمائش میں مبتلا کردیے گئے ہیں کہ خوش ہوجاؤ کیونکہ فرمان الہی ہے:

﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ﴾ (البقرۃ: 190)

(اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں)

اگر آپ سے لڑا جارہا ہے تو آپ بھی اپنی جان، عزت اور مال کو بچانے کے لیے لڑیں اور ان سب سے بڑھ کر اپنے دین کے لیے لڑیں پھر جو ایسی حالت میں مارا جائے تو یہ شہید ہوتا ہے۔

لیکن جس پرچموں کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنے آپ کو اسلامی پرچم وتحریک خیال کرتے ہیں! ہم الحمدللہ اندھے بہرے نہیں ہیں۔ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں ان کی باتیں جیسا کہ یہ باتیں کرنے والے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ جو تنظیمیں شام میں قتال کررہی ہیں اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اسلامی تنظیمیں ہیں ان کے دو ظاہر گروہ ہیں، یہ ہمارے سامنے بالکل ظاہر ہے:

پہلی قسم: اخوانی قسم کے لوگ۔ جہاں تک ان کی بات ہے تو ان میں کوئی خیر ہے ہی نہیں نہ دین میں نہ دنیا میں۔ نہ کبھی اسلام کی نصرت کرپائے ہیں نہ ہی دشمنوں پر کبھی غالب ہوپائے ہیں۔ نہ دین کو کبھی قائم کیا ہے نہ دنیا میں سے کچھ ان کے پاس باقی ہے۔ بلکہ ان میں سے بعض کو سنا جو حکم جبھۃ الانقاذ نے تیونس میں نافذ کیا تھا جسے وہ اسلامی حکم کہتے تھے۔ ابھی  ہفتہ پہلے تیونس میں موجود کارکنان کی ایک کانفرنس تھی ۔ پس اس کانفرنس میں کارکنان اور شخصیات کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اور ان شخصیات میں سے ایک بڑی تعداد نصاریٰ کی بھی تھی اور انہی میں سے ایک ہسپانوی نصرانی خاتون بھی تھی۔ میں نے سنا وہ کہہ رہی تھی جس کا فوری طور پر ترجمہ بھی کیا جارہا تھا کہ: میں جب یہاں داخل ہوئی تو دہشت زدہ تھی (اور ہم یہ حقیقت بیان کرنے کے لیے بیان کررہے ہیں اگرچہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس پر سکوت اس سے بھی بڑھ کر کڑوا ہے۔ تاکہ جو سنے وہ جان لے اور یہ کلام اس تک پہنچ جائے کہ ہم دنیا کے منظر عام پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے باخبر ہیں، ہم بھی ایسے ہی رہتے ہیں جیسے وہ رہتے ہیں، وہی دیکھتے اور سنتے ہیں جو وہ دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اور ہم ان شاء اللہ جو پاتے ہیں سب کچھ ذکر کردیتے ہیں خواہ ان کے حق میں جاتا ہو یا ان کے خلاف جاتا ہو۔ لیکن ان کا یہ وطیرہ ہے کہ صرف وہی بات بیان کرتے ہیں جو ان کے حق میں جاتی ہو اور یہی حال تمام اہل اہوا کا قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے) تو میں کہہ رہا تھا کہ اس عورت نے کہا: جب وہ تیونس میں داخل ہوئی تو ڈری سہمی ہوئی تھی لیکن کہتی ہے:  میں نے جو یہاں دیکھا تو بہت تعجب ہوا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں اسلام پسند لوگ حکومت کررہے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے! پس اس گروہ کے ایک شخص نے اس پر تعلیق کرتے ہوئے کہا : جی ہاں ہم یہاں اسلامی حکم قائم کیے ہوئے ہیں لیکن حکم اور تحکم میں فرق ہے(یعنی اسلامی حکم میں اورزبردستی کسی پر اسے نافذ کرنے میں فرق ہے)، اور ہم حکم کرتے ہيں تحکم نہیں کرتے! اسی لیے اس نے تیونس میں بار کھلے دیکھے بار یعنی شراب خانے مہہ خانے، یہ ہے اسلام جبھۃ الانقاذ کی نظر میں! یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حکم کرتے ہیں تحکم نہیں کرتے! شراب کے اور شراب خانوں کے دروازے کھلے ہوئے ہيں۔ اس ہسپانوی عورت نے تیونس میں وہ دیکھا جو یورپ کے کافر ممالک میں دیکھتی ہے کہ بار کھلے ہوئے ہیں! تو وہ حیرت زدہ ہوگئی، دیکھیں اس عورت کو اپنے کفر کے باوجود ان اسلامیوں سے بڑھ کر اسلام کا پتہ ہے! کیونکہ اسے اس بات کا علم تھا کہ شراب تو شریعت اسلامیہ میں ہی نہيں بلکہ تمام شریعتوں میں حرام ہے۔ لیکن حیران تھی کہ کیسے یہ جبھۃ حکومت کرتی ہے اور اپنے بارے میں گمان  کرتی ہے کہ یہ اسلامی حکومت ہے جبکہ بار یوں کھلے ہوئے ہیں! کہتے ہیں: نہیں، ہم اسلامی حکم کرتے ہیں تحکم یعنی زبردستی نافذ نہیں کرتے! ماشاء ا للہ!

﴿اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (الحج: 41)

(وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے)

آخر شراب خانے کھولنے سے بڑھ کر اور کیا منکر ہوسکتا ہے جو کہ ام الخبائث ہے! جاہلیت تک کے عقل مند لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے۔

وَاهْجُرِ الخَمْرَة إن كُنتَ فتى           كيفَ يسْعَى في جُنونٍ من عَقل!

عقل مند کس طرح جنون (پاگل پنے) کی طرف جاکر اپنے ہاتھوں اپنی عقل زائل کرسکتا ہے؟! ہر جگہ ان لوگوں کا یہی حال ہے۔

اور شام میں ان کے سرکاری ترجمان نے ان کے نام سے کہا کہ ان کے نزدیک کوئی مانع نہیں کہ ان پر نصرانی یا عورت حکومت کرے! یہ آج سے سال یا ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے جب جنگ شروع ہوئی تھی، ان کے نزدیک کوئی مانع نہيں کہ کوئی نصرانی یا عورت ان پر حکمرانی کرے! یہ کونسا اسلام ہے؟!

دوسری قسم کے لوگ تنظیم القاعدہ والے خوارج ہیں جو کل تک چھپے ہوئے تھی لیکن اب انہوں نے بھی اپنی بیعت ایمن الظواہری کے ہاتھوں کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ابھی کل، کل ہی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایمن الظواہری کی بیعت کی ہے، پھر ان سے کیا امید ہوسکتی ہے؟!

میرے بھائیوں: شام کے باسی اس وقت ابتلاء میں ہیں۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ان کی مدد کرے، نرمی فرمائے، اور ان کے خون اور عزتوں کی حفاظت کرے اور ان کے دشمن کی ہلاکت جلد فرماکرانہیں اپنے وطن میں لوٹنے کی توفیق دے۔ ان کے امور میں رشد وہدایت کے اسباب پیدا فرمادے اور ان پر ان کے بہترین لوگوں کو حکومت دے اور ان کے برے لوگوں سے اے اللہ تو انہیں کافی ہوجا۔

شام کی موجودہ صورتحال کے تعلق سے یہ چیخنا چلانا کہیں آپ کو کسی سنسنی خیزی وفریب میں مبتلا نہ کردے۔

اللہ کی قسم ہم تو کل صبح سے پہلے آج رات ہی اس ظالم کے زوال کی تمنا کرتے ہیں  لیکن ساتھ ہی اللہ سے یہ دعاء بھی کرتے ہيں کہ اللہ تعالی اس کی جگہ اس سے بہتر کو لے آئے یہ بات زیادہ اہم ہے، کہ ہم اللہ سے دعاء کریں کہ اس سے بہتر کو لے آئے اور ان پر ایسے کو حکومت دے جو ان پر اللہ کا دین قائم کرے، بے شک وہ بڑا جواد وکریم ہے۔

میں اسی کلام پر اکتفاء کرتا ہوں کیونکہ اس بارے میں بہت زیادہ کلا م کیا جاچکا ہے، اور سلفی مشایخ پر افتراء پردازی کی بھی بہتات ہے، اور اصل وعدے کا وقت تو اللہ کے یہاں مقرر ہے۔ شاید کہ اسی قدر کافی ہے، واللہ اعلم۔

(صوتی مصدر: التصفیۃ والتربیۃ فارمز، تفریغی مصدر: ویب سائٹ الآجری، 05 شعبان، 1434ھ)

 

اسی طرح سے اپنے بیان 07 ربیع الثانی، 1435ھ میں شیخ محمد بن ہادی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کیا یہ اسے جہاد کہتے ہیں، یہ تو فتنہ ہے۔۔۔‘‘۔

یہ ہے تلبیس ودھوکہ دہی ہمارے نوجوانوں وفرزندوں کے ساتھ۔ ماؤں کے جگر گوشے نوچ کر لے جاتے ہیں اور (جہاد کے نام پر بنی) دکانوں میں دے آتے ہیں! اندھا دھند چکی میں پستے ہوئے معرکوں میں جھونک دیتے ہیں! اللہ ہی جانتا ہے وہاں کیا کچھ ہورہا ہے!

نہیں، بلکہ اکثر یہ جماعتیں خود یعنی جو اپنے آپ کو جہادی جماعتیں کہلاتی ہیں یہ خود آپس میں دست وگربیاں ہوتی ہیں! داعش داعج سے لڑ رہا ہے! اور داعج قاعد سے لڑ رہا ہے! اور قاعد پتہ نہیں کس سے مصروف جنگ ہے! اور قتل وقتال کا بازار گرم ہے! یہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یعنی ہم جو کچھ اس وقت دنیا کے منظر عام پر ہورہا ہے اس سے کہیں غائب نہیں ہیں۔

تو کہاں ہے وہ اسلام جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے؟! کہاں ہے وہ جہاد جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے؟!

جہاد تو ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی نے اس امت کو امت جہاد وامت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرف بخشا ہے۔ لیکن جہاد کے اپنے ضوابط ہيں، اپنی شروط وقواعد ہیں۔ اور اس کے اپنے اہل مخصوص ہيں جو شرعی طور پر اس سے متعلق کلام کرتے ہیں، اور وہ اہل بھی مخصوص ہیں جو قیادت کے طور پر اس کی زمام کار سنبھالتے ہیں جن کی سماع واطاعت کی جاتی ہے۔

جبکہ یہ لوگ تو محض داعیان فتنہ ہیں۔ اسے یہ جہاد کہتے ہیں! یہ تو سراسر فتنہ ہے! وہ چاہیں نہ چاہیں ہم تو منہ بھر کے بولتے رہیں گے یہ فتنہ ہے یہ فتنہ ہے۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمارے فرزندوں کواس سے بچائے۔ اس اللہ کی حمد ہے کہ جس نے ہمارے وطن کے حکام کو توفیق دی کہ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی اور بیان کیا، اور وہ پہلے دن سے کہتے آرہے ہیں کہ جہاد اور دہشتگردی میں کیا فرق ہے۔

اسی وجہ سے امت پر مصائب ٹوٹ پڑے ہیں افغانستان سے لے کر تیونس اور ترکی کی حدود تک جتنا عالم عرب ہے جسے یہ جہاد کا نام دیتے ہیں! حالانکہ درحقیقت یہ جہاد نہیں ہے بلکہ یہ فتنہ وفساد ہے۔ اللہ تعالی ہی سے عافیت وسلامتی کا سوال ہے۔

یا اللہ سلامتی میں رکھنا، یا اللہ سلامتی میں رکھنا، اے اللہ ہمارے اور مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ گمراہ مسلمانوں کو اپنی طرف بہترین طور پر لوٹنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں ہرخیر کی توفیق دے، اور ہمارے اور جتنے بھی اسلام ومسلمانوں کے ممالک ہیں انہیں ہر شر سے دور رکھ۔ اور اہل اسلام سے مختلف انواع کی جتنے بھی شر ہیں پھیر دے، بے شک وہ جواد وکریم ہے۔

(شیخ محمد بن ہادی حفظہ اللہ کی تقریر بعنوان ’’دورُ عُلَماء وأمراء الدّولة السّعوديّة في حماية العقيدة السّلفيّة‘‘ بروز 7 ربیع الثانی، 1435ھ بمقام مکتبہ الدعوۃ والارشاد، محافظہ رماح، اسے ویب سائٹ میراث الانبیاء نے ریکارڈ کیا۔تفریغی مصدر: سحاب السلفیۃ)

مزید علماء کرام جیسے الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ صالح بن محمد اللحيدان, الشيخ عبيد الجابري, الشيخ محمد بن عمر بازمول, الشیخ صالح آل الشیخ, الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, الشیخ عبدالمحسن العباد کے کلام جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں ۔ ۔ ۔ 


[1] أخرجه البخاري في كتاب التوحيد، باب قوله تعالى: }ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا{، حديث رقم (7458)، ومسلم في كتاب الأمارة، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا، حديث رقم (1904).