The Cure to the Disease of 'Ishq – Imaam Ibn Taymiyyah

مرض ِعشق کا علاج

شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ المتوفی سن 728ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 32 کتاب النکاح کا پہلا سوال ص 5-6 ط مجمع الملك فهد سن اشاعت: 1416ھ/1995م

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ الاسلام امام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ سے اس شخص کا علاج پوچھا گیا کہ جو شیطان کے مشہور ترین تیروں میں سے ایک تیر "عشق" کا شکار ہوگیا ہو؟

 

آپ نے جواب ارشاد فرمایا:

جو اس زہریلے زخم میں مبتلا ہوگیا ہو تو اسے چاہیے کہ مندرجہ ذیل کام کرے جس سے اس زہر کو کشید کیا جاسکے اور تریاق ومرہم کے ذریعہ زخم مندمل ہوجائے:

 

اول: اسے چاہیے کہ اگر کنوارہ ہے تو نکاح کرے اور اگر شادی شدہ ہے تو اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إذا نظر أحدكم إلى محاسن امرأة فليأت أهله ; فإنما معها مثل ما معها‘‘ ([1])

(جب تم میں سے کوئی کسی عورت کے محاسن دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آئے (اور ضرورت پوری کرے)، کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو دوسری کے پاس ہے)۔

اور یہ بات اس کی شہوت کو توڑ دے گی اور عشق کو کمزور کردے گی۔

 

دوم: پنج وقتہ نماز کی (وقت وجماعت) کے ساتھ پابندی کرے اور رات (تہجد) کے وقت اللہ تعالی سے دعاء والحاء وزاری کرے۔ لازم ہے کہ اس کی نماز حضورِقلب اور خشوع وخضوع کے ساتھ ہو۔ اور کثرت کے ساتھ یہ دعاء پڑھے:

’’يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ يا مصرف القلوب صرف قلبي إلى طاعتك وطاعة رسولك‘‘([2])

(اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔

پھر جب وہ دعاء کا عادی ہوجائے گا اور اللہ تعالی کے لئے تضرع والحاء وزاری کرے گا  تو اللہ تعالی یقینا ًاس کا دل اس سے پھیر دے گا جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

 

﴿كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾ (یوسف: 24)

(اسی طرح سے ہم نے ان سے برائی اور فحاشی کو پھیر دیا کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے)

 

سوم: اس شخص (یعنی معشوق) کے مسکن وگھر سے اور جہاں ان کا جمع ہونا ممکن ہوتا ہے وہاں سے اس طور پر دوری اختیار کرلےکہ اس کی کوئی خیر خبر اس کے کانوں سے نہ ٹکرائے، نہ ہی اس کی نظر کبھی اس  پرپڑے کہ اس کے دل پر کوئی اثر ہو۔ کیونکہ دوری اختیار کرنا جفا ہے ۔ اور جب اس کا ذکر ہی کم ہوجائے گا تو اس کا اثر دل پر کمزور ہوتا جائے گا۔ 

 

تو اسے چاہیے کہ ان امور پر عمل پیرا ہو اور دیکھے کہ پھر اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ واللہ اعلم

 


[1] صحیح ترمذی 1158 کے الفاظ ہیں’’إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا‘‘ (جب عورت آتی ہے تو بصورت شیطان آتی ہے، پس اگر تم میں سے کوئی ایسی عورت دیکھ لے جو اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آئے (اور ضرورت پوری کرے) کیونکہ اس کے پاس بھی وہی چیز موجود ہے جو دوسری عورت کے پاس ہے)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] صحیح ترمذی 3522 کے الفاظ صرف یہ ہیں: ’’ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)