Biography of Shaykh Muhammad Khaleel Hirras

مختصر سوانحِ حیات فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن خلیل ہراس رحمہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبدالفتاح سلامہ حفظہ اللہ

(آپ کے تلمیذ اوررئیس شعبۂ تفسیر دراسات عالیہ مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مكتبة الشيخ محمد خليل هراس – الإصدار الأول۔

 پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف

آپ بہت بڑے امام ناصر ِسنت اور قامعِ بدعت  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد بن خلیل ہراس رحمہ اللہ  ہیں۔

ولادت ،تعلیم ووظائف

آپ سن 1915 ع میں مصر کے ایک مغربی ضلع مرکز قطور کی بستی شین میں پیدا ہوئے۔آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز سن 1929ع میں جامعہ ازہر سے کیا، بعدازیں آپ کلیہِ اصولِ دین سے سن 1940ع میں فارغ  ہوئے، جس میں آپ کے تھیسس رسالے کا موضوع تھا (ابن تيمية السلفي)۔ پھر وہیں کلیہ اصول دین میں استاد مقرر ہوئے۔ اس کے بعد خود سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  نے آپ سے درخواست فرمائی کہ وہ مکہ مکرمہ میں عقیدۂ اسلامی کی تعلیم دیں، چناچہ آپ جامعہ ام القری کی کلیہِ شریعہ کے شعبہ عقیدۂ اسلامی کے بطور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اپنے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ (بلکہ اس عقیدے کے باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ کا آغاز شیخ رحمہ اللہ  ہی کے سبب کیا گیا تھا)۔

عقیدہ، منہج ودعوت

شیخ رحمہ اللہ  سلفی العقیدہ تھے ، جہاں ایک طرف تو شیخ اس سلفی منہج وعقیدہ سے شدت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے والے اور ہر آن  اس کی نصرت کرنے والے تھے، وہاں دوسری جانب اہل بدعت کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔ آپ کے بارے میں شیخ محمد رشاد الشافعی نے فرمایا: (آپ کو اس طرح سے جابروں کے جبر، بدعتیوں کے مکر اور ملحدوں کی زندقیت کا مقابلہ کرنا پڑا جس کی طاقت صرف وہی رکھ سکتا ہے جو بہت صبر کرنے والا اور اللہ تعالی سے بہترین اجر کی امید رکھنے والا ہو) کیونکہ آپ رحمہ اللہ  نے اپنی پوری زندگی  منکرینِ حدیث کے خلاف صحیح احادیث کا دفاع کرتے گزار دی، اور آپ ان اولین شخصیات میں سے تھے جنہوں نے ان کی سازشوں کا  پردہ چاک کیا تھا چناچہ اس وجہ سے متشدد صوفی عقیدے والوں اور منکرین حدیث کی جانب سے آپ کے خلاف کئی بار اقدامِ قتل تک کیا گیا۔ لیکن اللہ تعالی  ان کی سازشوں سے باخبر تھا اور اس نے شیخ کو نجات بخش کر اہلِ بدعت کے حلق میں کانٹا بنائے رکھا۔ شیخ رحمہ اللہ  نے تصنیف کے کام کو کتبِ عقیدہ پر ہی مرکوز رکھا جیسے الصفات الإلهية عند ابن تيمية – شرح العقيدة الواسطية – ابن تيمية السلفي۔   ایک ریسرچر موسی واصل السلمی نے کلیہ الدعوۃ واصولِ دین جامعہ ام القری مکہ مکرمہ  سےجب عقیدہ میں ماسٹرز کیا تو ان کے تھیسس کا موضوع ہی یہ تھا کہ:  ”الشيخ خليل هراس و جهوده في تقرير عقيدة السلف“ (شیخ خلیل ہراس اور عقیدۂ سلف کو تائید میں ان کی جدوجہد) اور جیسا کہ ریسرچر کا کہنا ہے کہ انہوں نے شیخ رحمہ اللہ  ہی کو کیوں منتخب کیا: (کیونکہ شیخ کی مؤلفات بھرپور علم، نہایت واضح اسلوب اور عقیدۂ سلف کے مخالفین کے بارے میں فہمِ دقیق پر مشتمل ہیں، انہی خوبیوں نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں ان کی ان مساعی وجہود کو پیش کروں جن میں خیرِ عظیم اور نفعِ عمیق ہے)۔

پھر ریسرچر نے شیخ رحمہ اللہ  کی ان نمایاں خصوصیات کے ساتھ اپنے کلام کا خلاصہ کیا:

*  کتاب وسنت سے استدلال کی قوت میں متمیز تھے جو کہ ان کی علمی رسوخ اور تمکنِ علمی کی دلیل ہے۔

* شیخ ہراس رحمہ اللہ  کا کتاب وسنت سے شدید تمسک اختیار کرنااور اپنے تمام معاملات کے فیصلےمیں  انہی کی جانب رجوع کرنا ۔

* شیخ ہراس رحمہ اللہ  کا ان اصول کا اہتمام کرنا جس پر متکلمین نے اپنے مذاہب کی بنیاد رکھی ہے، جو کہ معرفت ِحق کا مفید طریقہ ہے  (تاکہ ان پر رد کیا جاسکے)۔

آپ کی مکانت علمی

آپ رحمہ اللہ  کو سلفی عقیدہ کا بھرپور تمیز حاصل تھا اور ساتھ ہی مختلف گمراہ فرقوں  کی دقیق معلومات بھی تھیں(جو کہ ان کی رد کے لئے نہایت ضروری ہیں)۔ آپ رحمہ اللہ  کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ عقیدے کے موضوعات میں سے کسی بھی موضوع پر بات کررہے ہوں اگرچہ وہ پہلی ہی بار ہو تو آپ اس بارے میں وارد پیچیدہ ترین امور کو بھی کھول کھول کر بیان کردیتے تھے۔ آپ کے جاننے والوں اور قدرشناسہ لوگوں میں کبار علماء کی پوری ایک جماعت تھی جیسا کہ سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  جنہوں نے خود سے درخواست کی تھی کہ شیخ مکہ مکرمہ میں تدریس کے فرائض انجام دیں حالانکہ جامعہ ازہر نے اسے مسترد کردیا تھا مگر ملک فیصل رحمہ اللہ  کی طلب پر وہ اس منصب پر تاحیات فائز رہے ۔ ان کے علاوہ انہیں بخوبی جاننے والوں (اور عالم ماننے والوں) میں سے شیخ علامہ عبدالرزاق عفیفی ، فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن الوکیل (رئیس شعبۂ عقیدہ ، جامعہ ام القری) اور فضیلۃ الامام محمد حامد الفقی وغیرہم رحمہم اللہ  اور ان کے علاوہ بہت سے تھے ۔

آپ کی وفات

آپ رحمہ اللہ  نے ایک علم دینے سے لبریز زندگی پاکر ستمبر سن 1975ع میں وفات پائی، کیونکہ جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال (مصر میں) طنطا، محلۃ الکبری اور انصار السنۃ کے مرکز میں خصوصی طور پربہت سے دروس ارشاد فرمائے، اور (سبحان اللہ! ساری زندگی توحید کی خدمت کرنے کے بعد) آپ کا آخری خطبہ بھی ’’التوحيد و أهمية العودة إليه‘‘ (توحید اور اس کے جانب لوٹنے  کی اہمیت)تھا۔

آپ رحمہ اللہ  کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے ہوئے اس درس کے فوراً بعد وفات پاگئے، سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ:

’’إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ‘‘([1])

(بے شک اللہ تعالی اس علم کو ایسے قبض نہیں فرمائے گا کہ اسے لوگوں (کے دلوں) سے محو کرلے بلکہ اس علم کو علماء کرام کےقبض کرنے (وفات) کے سبب اٹھا لے گا)۔

[1] صحیح بخاری 100، صحیح مسلم 2674۔

biography_shaykh_khaleel_hirras