Ruling regarding narrating speech accusing Imaam Abu Haneefah (rahimaullaah) with Kufr – Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق کفر کی تہمت پر مبنی اقوال نقل کرنے کا حکم

فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

(وزیر وزارت مذہبی امورواوقاف ورکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح عقیدۃ الطحاویۃ درس 9 س 4، إتحاف السائل بما في الطحاوية من مسائل ج 1 ص 675۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: آپ کی عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کی کتاب میں وارد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اتہام اور ان کے بارے میں خلقِ قرآن کے (کفریہ) عقیدے کی نسبت اور آخر تک جو ان کے بارے میں لکھا ہے کے بارےکیا رائے ہے؟

جواب: یہ ایک اچھا سوال ہے، اور واقعی یہ عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کی  کتاب ’’کتاب السنۃ‘‘ میں موجود ہے۔ بات یہ ہے کہ عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کے دور میں فتنۂ خلق قرآن بہت بڑھ چکا تھا، اور لوگ اکثر خلق قرآن سے متعلق باتوں پراستدلال امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منسوب چیزں کے ذریعے کرتے، حالانکہ درحقیقت آپ ان سے بری تھے۔اس کے علاوہ بھی اور چیزیں تھیں جیسے معتزلہ تاویلِ صفات وغیرہ کے بارے میں آپ سے ہی ایسی باتیں نقل کیا کرتے تھے، جن سے درحقیقت آپ بری تھے۔انہی میں سے بعض باتیں عوام میں اتنی زبان زد عام ہوگئی کہ یہی باتیں بعض علماء کرام کے سامنے پیش ہوئی اور انہوں نے لوگوں کے ظاہر قول پر ہی حکم فرمادیا۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے باقاعدہ مذہب اور مکتبۂ فکر بننے سے پہلے کی بات ہے۔چونکہ وہ امام صاحب کی وفات سے قریب کا ہی زمانہ تھااور اقوال نقل کیے جاتے تھے جیسے امام سفیان الثوری، سفیان بن عیینہ، وکیع اور فلاں فلاں جیسے بڑے علماء کرام سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اقوال نقل کرتے۔  لہذا اس زمانے میں امام عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کے اجتہاد کے مطابق اس بات کی حاجت پائی جاتی تھی کہ امام صاحب کے بارے میں علماء کرام کے اقوال نقل فرمائیں۔

 لیکن اس زمانے کے بعد جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ علماء کرام کا اب اس بات پر اجماع ہوگیا ہے کہ اسے مزید روایت نہ کیا جائے، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اب ہمیشہ صرف ذکرِ خیروذکر ِجمیل ہی کیا جائے۔ یہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے زمانے کے بھی بعد کی بات ہے، یعنی امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب کے دور میں ہوسکتا ہے انہو ں نے کلام کیا اور امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے دور میں انہی لوگوں  سے منقول باتيں اپنی مشہور ومعروف تاریخ میں روایات نقل فرمائی ہیں۔جن پر اس کے بعد بھی رد ہوتا رہا یہاں تک کہ چھٹی اور ساتویں ہجری میں منہج ِسلف کو استقراء حاصل ہوا (یعنی مکمل اصولوں پر کتابیں مدون ہوئیں وغیرہ)، اور اسی سلسلے میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنا مشہور ومعروف رسالہ’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ (مشہورآئمہ کرام پر کی جانے والی  ملامتوں کا ازالہ )تصنیف فرمایا ۔ اسی طرح اپنی باقی تمام کتابوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر خیر وذکر جمیل ہی فرمایا، ان کے ساتھ رحمدلانہ سلوک فرمایا اور رحمت کی دعاء کی، اور سوائے ایک بات کے اور کوئی چیز آپ کے جانب منسوب نہ فرمائی اور وہ یہ ارجاء کا قول، ارجاء الفقہاء (نہ کہ غالیوں کی الارجاء)([1])، اس کے سوا ان تمام تہمات کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا اسے نقل نہیں فرمایا۔ کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب بنام ’’فقہ الاکبر‘‘ اور دوسرے رسائل موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ بالجملہ سلف صالحین کے ہی عقیدے ومنہج کے تابع تھے سوائے اس مسئلے ارجاء یعنی ایمان کے نام میں عمل کو داخل نہ سمجھنا کے۔

چناچہ اسی نہج پر علماء کرام گامزن رہے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا سوائے (جیسا کہ میں نے بیان کیا) جانبین (یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں غلو کرنے والوں اور دوسری جانب ان کی شان میں تنقیص کرنے والوں) کی طرف سے کچھ باتیں ہوتی رہیں:

 ایک جانب وہ اہل نظر جو اہلحدیثوں کو حشویہ اور جاہل پکارتے تھے۔

 اور دوسری جانب ان کی طرف سے بھی جو اہلحدیث اور اثر کی جانب منسوب تھے انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کلام کیا یا پھر حنفیہ پر بطور ایک فقہی مکتبۂ فکر  یا ان کے علماء پر کلام کیا۔

جبکہ اعتدال ووسط پر مبنی نکتۂ نظر وہ ہے جو امام طحاوی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا اور اسی پر آئمہ سلف قائم تھے۔

پھر جب امام شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ تشریف لائے تو اسی منہج کو لوگوں میں مزید پختہ فرمایا، اور یہ کہ کسی امام کا ذکرنہ کیا جائے مگر خیر وبھلائی کے ساتھ، اور یہ کہ  تمام آئمہ کرام کے اقوال کو دیکھاجائےاو ر جو دلیل کے موافق راجح ہو  اسے لے لیا جائے،اور کسی عالم کی غلطی یا لغزش میں اس کی پیروی نہ کی جائے؛ بلکہ ہم اس طرح کہیں کہ یہ ایک عالم کا کلام ہے اور اس کا اجتہاد ہے لیکن جو دوسرا قول ہے وہ راجح ہے۔

اسی لئے اس دعوت سلفیہ کے مکتبۂ مفکر میں آپ باکثرت دیکھیں گے کہ : یہ قول راجح  ہے اور یہ مرجوح ہے، اور اسی اصل اصول کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اہل علم تربیت پاتے رہے۔

 یہاں تک ہم ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور کی ابتداء میں آتے ہیں جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئےتو علماء کرام نے کتاب السنۃ از عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ  شائع کرنے کا ارادہ فرمایا ، اس وقت اس کی طباعت کی نگرانی اور مراجع پر جلیل القدر شیخ علامہ عبداللہ بن حسن آل الشیخ رحمہ اللہ مامور تھے جو اس وقت مکہ مکرمہ کے رئیس القضاۃ (چیف جسٹس) تھے۔پس آپ نے وہ پوری فصل ہی طباعت سے نکلوا دی (جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  پر کلام تھا)، تو اسے طبع ہی نہيں کیا گیا کیونکہ شرعی حکمت کے تحت اس قسم کی باتوں کا اپنا وقت تھا جو گزر چکا۔ اس کے علاوہ یہی اجتہاد، شرعی سیاست اور لوگوں کے مصالح کی رعایت کرنے کا تقاضہ تھا کے اسے حذف کرلیا جائے اور باقی نہ رکھا جائے، لہذا یہ امانت میں خیانت نہیں تھی،  بلکہ امانت تو یہ ہے کہ لوگ ان نقول  کی وجہ سے جو اس کتاب میں(امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے خلاف) منقول تھے عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ نے جو اپنی کتاب میں سنت وصحیح عقیدہ بیان فرمایا ہے  اس کے پڑھنے سے رک جاتے۔

 پس یہ کتاب اس پوری فصل کے بغیر شائع ہوئی جو لوگوں میں اور علماء کرام میں عام ہوئی اور یہی عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کی کتاب السنۃ سمجھی جاتی رہی۔

یہاں تک کہ اب آخر میں یہ کتاب ایک علمی رسالہ یا علمی ریسرچ میں شائع ہوئی اور اس میں وہ فصل داخل کردی گئی ہے، اور یہ مخطوطات میں موجود ہے معروف ہے، چناچہ اس فصل کو نئی سرے سے داخل کیا گیایعنی اس میں واپس لوٹا دی گئی اس دعوے کے ساتھ کے امانت کا یہی تقاضہ ہے۔

حالانکہ بلاشبہ یہ بات صحیح نہیں، کیونکہ علماء کرام نے شرعی سیاست کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسی طرح کتابوں کی تالیف سے جو علماء کرام کا اصل مقصد ہوتا ہے اسے جانتے ہوئے، زمان ومکان وحال کے اختلاف کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسا کیا تھا۔ ساتھ ہی جو آخر میں عقیدہ مقرر ہوچکا ہے اور اہل علم کا اس بارے میں جو کلام ہے سے وہ علماء کرام واقف تھے۔

جب یہ طبع ہوا تو ہم فضیلۃ الشیخ جلیل القدر شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے گھر پر دعوت میں شریک تھے، آپ نے سماحۃ الشیخ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی دعوت فرمائی تھی، پس ان کے سامنے حال میں طبع ہوئی کتاب السنۃ کی  اول نسخے پیش کیے گئے جو دو جلدوں میں شائع ہوئی ہے اور اس میں یہ فصل شامل کی گئی ہے جس میں کتاب میں جو کچھ اما م ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے متعلق تھا داخل کردیا گیا ہے، جبکہ پہلی طباعتیں اس سے خالی ہوا کرتی تھیں مشایخ کے اس عمل کی بنا پر۔

پس شیخ  اللہ ان پر رحم کرے مجھ سے شیخ فوزان حفظہ اللہ کی مجلس میں فرمایا کہ:

’’جو کام (فصل کو حذف کرنے کا) مشایخ کرام نے کیا تھا وہی متعین بات تھی اوراسے حذف کرنا شرعی سیاست کے عین مطابق تھا، جبکہ اسے واپس سے داخل کردینا مناسب نہیں، یہی وہ بات ہے جس پر علماء کرام کا منہج ہے‘‘۔

تو اب معاملہ اور بڑھ گیا اور ایسی تالیفات ہونے لگیں جن میں امام ابو حنیفہرحمہ اللہ پر طعن کیا گیا ہے یہاں تک انہیں ابو جیفہ تک کہا جانے لگا اور اس جیسی دوسری باتیں، جو بلاشبہ ہمارے منہج میں سے ہے نہ ہی علماء دعوت اور علماء سلف کا یہ طریقہ تھا۔ کیونکہ ہم تو علماء کرام کا ذکر نہیں کرتے مگر خیر وبھلائی ہی کے ساتھ البتہ اگر وہ غلطی کرجائیں تو ان کی غلطی میں ان کی پیروی نہیں کرتے، خصوصاً آئمہ اربعہ کا کیونکہ ان کی ایسی شان اور مقام ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا  ۔

ہم اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں میں اللہ تعالی سے آپ کے لیے توفیق اور راست بازی کا سوا ل کرتا ہوں، وصلى الله وسلم على نبينا محمد۔

 


[1] ارجاء کا عقیدہ رکھنے والوں کو مرجئہ کہا جاتا ہے، جن کے نزدیک ایمان کم زیادہ نہیں ہوتا اور نہ ہی عمل ایمان میں شامل ہیں۔ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرجئہ کی چاراقسام ہیں: 1- جہمیہ: جو یہ کہتے ہیں کہ ایمان صرف معرفت کا نام ہے اگرچہ دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار نہ بھی کیا جائے۔ اور یہ سب سے بدترین قول ہے۔ اس صورت میں فرعون وابلیس بھی مومن ہوں گے۔ 2- اشاعرہ: جو یہ کہتے ہیں کہ ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام ہے۔ پھر تو ابوطالب بھی مسلمان شمار ہوگا حالانکہ اس نے زبان سے اقرار نہ کیا۔ 3- کرامیہ: ان کے نزدیک ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام ہے اگرچہ دلی تصدیق نہ ہو۔ پھر تو ان کے نزدیک منافق بھی مومن شمار ہوں گے۔ 4- مرجئۃ الفقھاء: اور یہ مرجئہ کے گروہوں میں سے سب سے خفیف ترین ارجاء میں مبتلا ہیں مگر بہرحال یہ بھی باطل وگمراہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایمان دلی اعتقاد اور زبان سے اقرار کا نام ہے، عمل اس میں داخل نہیں اور نہ ہی اس میں نیک عمل سے اضافہ اور بدعملی سے کمی ہوتی ہے۔ جبکہ ایمان کے متعلق اہل سنت والجماعت کا جو قول حق ہے وہ یہ ہے کہ: ایمان دل کی تصدیق، زبان سے اقرار، اعضاء وجوارح سے عمل کا نام ہے جو نیکی کرنے سے بڑھتا ہے اور نافرمانی کرنے سے گھٹتا ہے۔ (کتاب: ’’ایمان وکفر سے متعلق اہم سوال وجواب‘‘) (توحید خالص ڈاٹ کام)