Brief Seerah of Khulafa Rashideen (the rightly guided caliphs) – Various ‘Ulamaa

مختصر سیرت خلفائے راشدین   

مختلف علماء کرام کے کلام سے

ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  فرماتے ہیں :

یہ موضوع بلاشبہ بہت اہم موضوع ہے۔ خصوصاً خلفائے راشدین کے تعلق سے (خلفائے راشدین سمیت صحابہ کرام کے بارے میں) فرمان الہی ہے:

(محمد اللہ کے رسول ہیں، اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تم انہیں اس حال میں دیکھو گے کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کے طالب ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدے کرنے کے آثار ہیں،  یہ ان کا وصف تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے) (الفتح: 29)

(اور مہاجرین اور انصار میں سےسابقین اولین لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے ،اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے) (التوبۃ: 100)

بے شک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے لیے، ان سے تعلیم حاصل کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی تعریف اللہ تعالی نے فرمائی اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 (میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد(پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان میں سے کسی کے مد یا نصف مد تک نہیں پہنچ سکتا)۔ (متفق علیہ)