The principles and fundamentals of Salafiyyah – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

سلفی منہج کے اصول وقواعد  

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: أصول و قواعد في المنهج السلفي.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبید الجابری حفظہ اللہ سلفیت کے تعلق سے فرماتے ہیں: جان لو ! بارک اللہ فیکم یہ کوئی انسان نہیں تھا جس نے کسی وقت یاکسی جگہ پر سلفیت کی بنیاد رکھی۔نہ تو اس کی بنیاد سلفیت کے تیسرے بڑے مجدد امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ  نے رکھی، جنہوں نے اپنے بھائی امام محمد بن سعود رحمہ اللہ کے ساتھ سلفیہ کا احیاء کیا تھا، نہ ہی اس کی بنیاد ان سے پہلے آنے والے علماء، ائمہ دین، اور خالص دین توحید کی طرف بلانے والے داعیانِ حق جیسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  اور ان کے شاگردوں نے رکھی۔ نہ ہی اس کی بنیاد ان سے پہلے آنے والے ائمہ اربعہ رحمہم اللہ  اور ان ائمہ وغیرہم  نے رکھی تھی۔ نہ ہی اس کی بنیاد تابعین رحمہم اللہ نے رکھی، نہ ہی صحابہ کرام y نے، اور نہ ہی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور نہ ہی اس کی بنیاد رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے آنے والے کسی نبی یا رسول نے رکھی بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے۔ لہٰذا جو تشریع اللہ نے چاہی انبیاء اور رسولوں نے اس کی تبلیغ کی اور ان کے بعد آنے والے داعیان الی اللہ اسی شریعت کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس (سلفیت) کے نزدیک نصوص(کتاب اور سنت) اور اجماع کے علاوہ کوئی دلیل کا معیار نہیں۔ لہٰذا اقوال و اعمال کو، مجموعی طور پر دو چیزوں کے معیار پر پرکھا جاتا ہے: نص اور اجماع ۔ جس شخص کا قول یا عمل نص اور اجماع کے مطابق ہو گا اسے قبول کیا جائے گا اور جس کسی کا قول یا عمل نص یا اجماع کے مخالف ہو گا بغیر یہ لحاظ کئے کہ وہ کون ہےکہاں ہے؟ اسے ردّ کر د یا جائے گا۔