Principles of Salafee Da’awah – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

نام کتاب: سلفی دعوت کے اصول

مصنف:  فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین الالبانی رحمہ اللہ

ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

مصدر:   سلسلة مفهوم السلفية للشيخ الألباني رحمه الله۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 (اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ابدالآباد۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے) (التوبۃ: 100)

شیخ البانی : فرماتے ہیں:

اس آیت کریمہ میں سے ہر مسلمان وہ صحیح منہج اخذ کرسکتا ہے جس پر وہ دعوت گامزن ہے جسے بعض قدیم وجدید علماء نے سلفی دعوت کا نام دیا ہے، اور بعض نے اسے  انصار السنۃ  المحمدیہ کا  نام دیا ، جبکہ بعض نے دعوت اہلحدیث کا نام دیا۔ اور یہ تمام اسماء ایک معنی کی طرف دلالت کرتے ہیں اور یہ وہ معنی ہے جس سے قدیم وجدید مسلمانوں کی جماعتوں کی جماعتیں غافل ہیں اس پر متنبہ نہیں ہوئی یا ہوئی تو ہیں مگر اس کی کماحقہ رعایت نہیں کی وہ اس لیے کیونکہ لوگوں پر ایک زمانہ بیت چکا ہے اور ان کے دلوں پر مذہبی اندھی تقلید کا زنگ چڑھ چکا ہے۔ ان اہل سنت پر بھی جو اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں ان سب کے دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے ۔ ان بعد کے زمانوں میں جو تین خیر القرون کے بعد آئے وہ تین زمانے کے جن کے خیر پر ہونے کی گواہی احادیث میں دی گئی ہے ۔ اور وہ اہل سنت کہلانے والے تقلید کو بطور دین اپناتے ہیں باقی تو دور کی بات رہے جو سنت وجماعت کی طرف منسوب نہیں  ہوتے۔نبی ﷺ نے فرمایا امت میں تہتر فرقے بن جائیں گے جو سب کے سب آگ میں جائيں گے سوائے ایک کے، اور اس کی صفت بتائی:

(وہ اس چیز پر ہوں گے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں)۔الحدیث

یہ سب فرقے کتاب و سنت کا ہی نام لیتے ہیں لیکن فہم و منہج سلف ان میں اصل امتیاز کرتا ہے۔