The reality of Salafiyyah and its characteristics – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

سلفیت کی حقیقت اور اس کی صفات وامتیازات     

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: السلفية حقيقتها وسماتها

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اللہ تعالی کا فرمان ہے:

(جن لوگوں نے سبقت کی(یعنی سب سے پہلے) ایمان لائے مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی ،اور جنہوں نے بطورِ احسن ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اوروہ  ہمیشہ ان میں رہیں گے ، یہی بڑی کامیابی ہے)       [التوبۃ : 100]

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے ضمانت دی ہے ان کے لیے جو مہاجرین وانصار کی اتباع کرتے ہیں اس شرط کے ساتھ  کہ  (احسن طور پر) یعنی مکمل طور پر بحسن خوبی، ناکہ بغیر اس کا حق ادا کیے ہوئےمحض دعویٰ اور انتساب ہو  یا جہالت کی وجہ سے یا خواہش نفس کی پیروی میں۔ ہر کوئی جو سلف کی طرف منسوب ہوتا ہے ضروری نہیں کہ وہ حق بجانب ہو یہاں تک کہ  واقعی اس کی اتباع وپیروی بطور احسن ہو، یہ شرط ہے جو اللہ تعالی نے لگائی ہے۔ اور یہ بات اتباع کرنے والوں سے یہ طلب کرتی ہے کہ وہ منہج سلف کو پڑھیں، اسے جانیں اور اس سے تمسک اختیار کریں۔ لیکن یہ کہ بس ان کی طرف انتساب ہو اور نہ ان کے منہج کو جانتے ہوں نہ مذہب  کو تو اس کا کوئی فائدہ نہيں، بے کار ہے۔ ان کا  سلف سے واسطہ نہیں اور نہ ہی وہ سلفی ہیں۔ کیونکہ وہ سلف کی اتباع بطور احسن کرتے ہی نہيں جیسا کہ اللہ تعالی نے شرط لگائی ہے۔