Tawheed First – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

توحید سب سے پہلے   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ وتبویب: طارق بن علی بروہی

مصدر: التوحيد أولاً.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہمارا آج کا موضوع ’’التوحید اولاً‘‘ (توحید سب سے پہلے) ہے۔ (سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) آخر توحید سب سے پہلے کیوں؟ (جواب یہ ہے کہ) کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وہ منہج وطریقۂ کار ہے جو اس نے تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے لئے شریعت بناکر مقرر فرمایا۔ چناچہ کسی رسول نے اپنی امت کو دعوت نہیں دی مگر اس کی ابتداء دعوت توحید سے فرمائی حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی پوری دعوت ہی انسانیت کے لئے ہر قسم کی خیر وبھلائی پر مشتمل تھیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ  کا فرمان ہے:

 (مجھ سے پہلے کوئی نبی بھی نہیں گزرا مگر یہ اس پر واجب تھا کہ وہ اپنی امت کو ہروہ خیر بتلا دے جو وہ ان کے لئے جانتا ہے اور ہر اس شر سے انہیں خبردار کردے جو وہ ان کے لئے جانتا ہے)۔

پس انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام انسانیت کے لئے ہما قسم کی سعادت لے کر آتے تھے اور ہروہ چیز جو ان کی خوش بختی کا باعث ہو مگر باوجود اس کے انہوں نے اپنی دعوت کی ابتداء ’’سب سے اہم ترین امر پھر جو اس کے بعد اہم ہو‘‘ کے اصول سے کی۔ جو کوئی بھی قرآن کریم میں غوروفکر کرے گا تو وہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوتوں کو بہت سے عظیم ترین اصولوں میں مشترک پائے گا جن میں سے توحید ہے اور اقرارِ نبوت ہے اور انہی میں سے مرکے جی اٹھنے کا عقیدہ (آخرت) اور یوم جزاء کا اقرار ہے، لیکن ان کی دعوتوں کا جو اساسی محور تھا جس کے اردگرد ان کے اور ان کی قوموں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی وہ توحید تھی، اور توحید کی اقسام میں سے بھی (اس کی بنیادی وجہ)خصوصاً توحید عبادت تھی۔