Tafseer of Ayat-ul-Kursee – Shaykh Ibn-ul-Uthaimeen and Shaykh Rabee Al-Madkhalee

تفسیر آیۃ الکرسی   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آیۃ الکرسی کا ترجمہ:

(اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبودحقیقی نہیں، زندہ ہے، خود قائم ہے اور ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر وسیع ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے عظیم ہے)

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 یہ آیت کتاب اللہ کی سب سے عظیم ترین آیت ہےجیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ:

 (کونسی آیت کتاب اللہ میں سب سے عظیم وبڑی ہے؟ فرمایا:آیۃ الکرسی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان  کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابا المنذر تجھے علم مبارک ہو)۔ [ صحیح مسلم 805]

اسی لیے جو شخص اسے رات کو پڑھے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس پر بدستور ایک محافظ قائم رہتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔ اور یہ دس جملوں پر مشتمل ہے۔ اور ہر ایک جملہ کا بہت عظیم معنی ہے۔