Store

  • Tawheed First - Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

    توحید سب سے پہلے   

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    ترجمہ وتبویب: طارق بن علی بروہی

    مصدر: التوحيد أولاً.

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ہمارا آج کا موضوع ’’التوحید اولاً‘‘ (توحید سب سے پہلے) ہے۔ (سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) آخر توحید سب سے پہلے کیوں؟ (جواب یہ ہے کہ) کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وہ منہج وطریقۂ کار ہے جو اس نے تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے لئے شریعت بناکر مقرر فرمایا۔ چناچہ کسی رسول نے اپنی امت کو دعوت نہیں دی مگر اس کی ابتداء دعوت توحید سے فرمائی حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی پوری دعوت ہی انسانیت کے لئے ہر قسم کی خیر وبھلائی پر مشتمل تھیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ  کا فرمان ہے:

     (مجھ سے پہلے کوئی نبی بھی نہیں گزرا مگر یہ اس پر واجب تھا کہ وہ اپنی امت کو ہروہ خیر بتلا دے جو وہ ان کے لئے جانتا ہے اور ہر اس شر سے انہیں خبردار کردے جو وہ ان کے لئے جانتا ہے)۔

    پس انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام انسانیت کے لئے ہما قسم کی سعادت لے کر آتے تھے اور ہروہ چیز جو ان کی خوش بختی کا باعث ہو مگر باوجود اس کے انہوں نے اپنی دعوت کی ابتداء ’’سب سے اہم ترین امر پھر جو اس کے بعد اہم ہو‘‘ کے اصول سے کی۔ جو کوئی بھی قرآن کریم میں غوروفکر کرے گا تو وہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوتوں کو بہت سے عظیم ترین اصولوں میں مشترک پائے گا جن میں سے توحید ہے اور اقرارِ نبوت ہے اور انہی میں سے مرکے جی اٹھنے کا عقیدہ (آخرت) اور یوم جزاء کا اقرار ہے، لیکن ان کی دعوتوں کا جو اساسی محور تھا جس کے اردگرد ان کے اور ان کی قوموں کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی وہ توحید تھی، اور توحید کی اقسام میں سے بھی (اس کی بنیادی وجہ)خصوصاً توحید عبادت تھی۔

  • O callers to Islaam! Tawheed First - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    اے داعیان اسلام! توحید سب سے پہلے

    فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ

    ترجمہ: طارق بن علی بروہی


    یہ انتہائی عظیم نفع بخش اور فائدہ مند رسالہ ([1])ہے  جو کہ ایک سوال کا جواب ہے جو اس دور کے علماء میں سے ایک عالمِ دین فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے دیا ہے اور (امت کو) نفع پہنچایا ہے، اس میں ایک ایسے سوال کا جواب دیا گیا ہے جو اس دین کی غیرت رکھنے والوں، اسے اپنے دل میں بسا لینے والوں اور اپنی فکر کو اس کے مطابق ڈھالنے کی شب وروز کوشش کرنے والوں کی زبان زد عام ہے، اور وہ سوال مجمل طور پر مندرجہ ذیل ہے:

    سوال: وہ کیا طریقۂ کار ہے جو مسلمانوں کو عروج کی جانب لے جائے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پر اللہ تعالی انہیں زمین پر غلبہ عطاء کرے گا اور دیگر امتوں کے درمیان جو ان کا شایان شان مقام ہے اس پر فائز کرے گا؟

    پس علامہ البانی (نفع اللہ بہ)نے اس سوال کا نہایت ہی مفصل اور واضح جواب ارشاد فرمایا۔ ہم نے اس جواب کی افادیت کے پیش نظر اسے نشر کرنے کا عزم کیا۔ آخر میں اللہ  تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور مسلمانوں کو اس چیز کی طرف ہدایت دے جس سے وہ محبت کرتا اور راضی ہوتا ہے، بے شک وہ جواد وکریم ہے۔

    [1] اس رسالے کی اصل ایک کیسٹ ہے جسے کتابی صورت میں لکھنے کے بعد مجلۃ السلفیۃ، چوتھے ایڈیشن 1419ھ میں طبع کیا گیا۔

  • Importance of Tawheed - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    توحید کی اہمیت   

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: أهمية التوحيد (محاضرات في العقيدة والدعوة)۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

    یہ ایسا موضوع نہیں کہ جس کا فائدہ (وقت کے ساتھ) کم ہوتا جائے اور ایسا موضوع بھی نہیں کہ جو کچھ مخصوص افراد سے متعلق ہو بلکہ یہ تو ایسا موضوع ہے کہ جس کی معرفت ہر مسلم پر واجب ہے یعنی توحید کی اہمیت اور اسلام میں اس کا مقام۔ یہ ایسا موضوع ہے کہ ہمیں ہمیشہ اس سے متعلق بولنا چاہیے اور اس کی وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ یہی دنیا وآخرت میں سعادت مندی کا مرکز ومحور ہے۔۔۔

  • Explanation of the Conditions of Kalimah - Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

    شروطِ لا الہ الا اللہ کی شرح   

    فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

    (سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: تيسير الإله بشرح أدلة شروط لا إله إلا الله۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

     

    مقدمہ

    الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، قيوم السماوات والأراضين وأشهد أن محمداً عبده ورسوله وصفيه الأمين صلى الله عليه وسلم وعـلى آله وصحبه الطـيـبـيـن الـطـاهــرين. أما بعــد :

    یہ ایک مختصر شرح ہے جو اس دعوتِ مبارک کے امام شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے ان دلائل کی شرح ہے جو آپ نےشرائطِ لاالہ الا اللہ کے بیان فرمائے ہیں۔ اور میں نے اسے ’’تيسير الإله بشرح أدلة شروط لا إله إلا الله‘‘ کا نام دیا ہے۔

     

    منہجِ تالیف

    اولاً: میں نے لا الہ الا اللہ کی تمام شروط لکھی ہیں، اور ہر شرط کے ساتھ اس کی دلیل بھی، مگر اس بارے میں مصنف کے الفاظ کو ہی استعمال کیا گیا ہے۔

     

    ثانیاً: جن آیات سے مصنف نے استدلال کیا ہے ان کا حوالہ بیان کیا ہے اسی طرح سے احادیث کی تخریج کی ہے۔

     

    ثالثاً: میں نے اپنی اس شرح میں اکثر اہل علم کا کلام ہی نقل کیا ہے جس کے بہت سے اسباب ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

     

    1- اس بات کا صریح اعتراف کہ سابقہ علماء وآئمہ اسلام کو مجھ پر عظیم فضلیت حاصل ہے۔ اور اس اعتراف پر مجھے اس حدیث نے ابھارا کہ:

    ’’لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ‘‘([1])

    (وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرسکتا جو لوگوں کو شکریہ ادا نہیں کرتا)۔

     

    2- ان نوجوانوں کو جو ہدایت واستقامت کی راہ پر گامزن ہوئے ہیں اور اصلاح وخیر کا بھرپور جذبہ رکھتے ہیں انہیں اس جانب دعوت دینا کہ وہ ان علماء اسلام کی کتب میں سے لیا کریں جنہوں نے اپنے فقہ کی بنیاد کتاب وسنت پر رکھی ہے اور اسی پر تربیت کی ہے۔ اور موجودہ فکری کتابوں کی چکا چوند باتوں سے فریب خوردہ نہ ہوں کیونکہ ان کی غالب اکثریت دین کے اصول وفروع سے جہالت پر مبنی ہوتی ہے۔

     

    3- امید ہے کہ میں نے دلیلِ قاطع بیان کردی ہے اس بات پر کہ آئمہ اسلام جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور جو ان سے پہلے تھے امام احمد اور جو ان دونوں کے بعدآئے جیسے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ یا معاصر علماء کرام جیسے شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کی بہترین شرح بیان فرمائی ہے، لوگوں کو اس کی پہچان کروائی اور اس کے تقاضوں پر عمل کا بتایا ہے۔ جبکہ یہ جدید کتب لکھنے والے مفکرین بہت بعید بات کرتے ہیں اور بہت بڑی بہتان طرازی کرتے ہوئے اپنا سمِ قاتل گھولنے کی کوشش کرتے ہیں، ان آئمہِ سلفی دعوت کی شان گرانے کی کوشش کرتے ہیں اور امت کو عموماً جبکہ نوجوانوں کو خصوصاً منہج سلف سے انحراف اور بدعات پر سوار ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام ابو عثمان نیشاپوری رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا کہ: جو کوئی سنت کو اپنے نفس پر قولاً وفعلاً حاکم بناتا ہے تو وہ جب بولتا ہے حکمت کے ساتھ بولتا ہے اور جو اپنی خواہش نفس کو اپنے نفس پر قولاً وفعلا ًحاکم بناتا ہے تو وہ جب بولتا ہے بدعت کے ساتھ بولتا ہے۔

    وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔

     

    کتبہ

    الفقیر الی اللہ

    عبید بن عبداللہ بن سلیمان الجابری

    (سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ، اللہ اس کی ، اس کے مشائخ، علماء، اور اللہ تعالی کی جانب سے نور وبصیرت کے ساتھ دعوت دینے والے داعیان کی حفاظت فرمائے اور برکت دے)

     


    [1] صحیح ابی داود 4811۔

     

  • The status of prayer, its noble effects and some of its manners - Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

    نام کتاب:   اسلام میں نماز کا مقام ،اس کے پاکیزہ اثرات

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی

    ترجمہ :   طارق بن علی بروہی

    مصدر:  مكانة الصلاة في الإسلام وآثارها الطيبة۔

    سن طباعت: 2019ع

    پیشکش: توحید خالص پبلیکیشنز


    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت، فرضیت، نماز باجماعت کی فضیلت اور بعض احکام ذکر فرماکر ایک مومن کی زندگی میں اس کے پاکیزہ اثرات کا ذکر فرمایا ہے، آپ فرماتے ہیں:

    نماز کی اسلام میں عظیم شان ہے اور اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور مومنین کے نزدیک اس کا بہت بلند مقام ہے۔کیونکہ یہ شہادتین کے بعد ارکان اسلام میں سے دوسرا رکن ہے۔

    اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے عقائد، عبادات اور تمام امور حیات میں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی e کی سنت پراور سلف صالحین کے منہج پر چلنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں ان کامیاب وفلاح یاب لوگوں میں سے کردے کہ جن کی نمازیں انہیں فواحش ومنکرات سے روکتی ہے۔ بے شک میرا رب دعائوں کا سننے والا ہے۔

  • Rulings regarding 'Eid prayer - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    شیخ صالح الفوزان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی نمازکتاب وسنت اور اجماع مسلمین سے ثابت ومشروع ہے۔ مشرکین زمانی اور مکانی عیدیں منایا کرتے تھے جنہیں اسلام نے باطل قرار دیا اور اس کے عوض عید الفطر اور عید الاضحیٰ عطاء فرمائی۔ دو عظیم عبادتوں کے اختتام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے یعنی رمضان کے روزے اور بیت اللہ الحرام کا حج۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں کے دو تہوار کے دن ہوا کرتے تھے جس میں وہ خوشی مناتے کھیلتے کودتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    (اللہ تعالی نے تمہارے ان دو دنوں کے بدلے دو بہتر دن عطاء کردیے ہیں، یوم الفطراور یوم النحر)۔

    ان دو عیدوں پر مزید عیدوں کا اضافہ کرنا اور انہیں ایجاد کرنا جائز نہیں جیسے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرہ۔ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ شریعت میں زیادتی ہے، دین میں بدعت ایجاد کرنا ہے، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مخالفت ہے، کافروں سے مشابہت ہے، برابر ہے چاہے انہیں عید کہا جائے یا یادگار یایو م فلاں یا ہفتۂ فلاں یا سال فلاں وغیرہ یہ سب اسلام کی سنت میں سے نہیں۔بلکہ یہ تو جاہلیت کا فعل ہے اور مغربی ممالک وغیرہ میں سے کافر قوموں کی تقلید ہے۔

     
  • Zakah and its rulings - Various 'Ulamaa

    زکوٰۃ اور اس کے احکام

    مصنفین:  مختلف علماء کرام

    ترجمہ و ترتیب:  طارق بن علی بروہی

    مصدر:  مختلف مصادر۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

    یہ بات جاننی چاہیے کہ زکوٰۃ ارکان اسلام میں سے تیسرا رکن ہے۔ اور یہ ان ارکان اسلام میں سے نماز کا ساتھی ہے۔ اور اس کا نماز کے ساتھ ساتھ ہونا کئی قرآنی آیات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے تقریباً تیس کےاوپر کچھ آیات میں ان کا ساتھ ذکر فرمایا ہے جو کہ اس کی اہمیت اورعظیم مرتبےپر دلالت کرتا ہے۔ اس میں بہت سی عظیم مصلحتیں پنہاں ہیں جن میں سے سب سے بڑی اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل میں اس کے دیے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خر چ کرنا ہے، اور خرچ کرنے والوں سے اللہ تعالی کے کیے گئے کرم وفضل والے وعدۂ اجر کا حصول ہے۔ اور اس میں امیروں کا اپنے غریب وفقراء بھائیوں کے ساتھ مواسات وہمدردی کرنا بھی ہے کہ ان کی حاجات کو پورا کیا جاتا ہے اور ان سے فقر وفاقہ کو دور کیا جاتا ہے۔ اس سےزکوٰۃ دینے والے کا تزکیہ اور ہر مذموم اخلاق سے جیسے بخل وخودغرضی وغیرہ سےصفائی بھی ہوتی ہے۔ اور یہ اسے ان محسنین کی صف میں داخل کردیتا ہے جن سے اللہ تعالی اور اس کے بندے سب محبت کرتے ہیں۔

  • Actualising Monotheism (Tawheed) in the worship of Major Pilgrimage (Hajj) - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    حج کی عبادت میں حقِ توحید کی ادائیگی

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ: طارق بن علی بروہی

    مصدر: تحقيق التوحيد في عبادة الحج

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور اس عبادت کو صرف اس کے لیے خالص رکھنا توحید کہلاتا ہے، جبکہ اس میں کسی بھی قسم کی شرک کی آمیزش سے ہر قسم کے اعمال وعبادات ضائع ہوجاتے ہیں اور انسان ابدی جہنم کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

    یہی دعوت تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلاۃ والسلام لے کر آئے، اور یہی کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ کا معنی و تقاضہ ہے۔

    چناچہ تمام شرعی عبادات اسی توحید و اخلاص کا اور شرک سے بیزاری کا مظہر ہیں۔ نماز، ذکر، روزہ وغیرہ اور حج تو بہت سے عبادات کا جامع ہے کہ جس میں قولی، فعلی، مالی اور دلی عبادات  یکجا ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی اس توحید کو اپنانے کے نتیجے میں پرامن موت و بہترین جزاء جنت کی تڑپ کی یاددہانی بھی ہوتی ہے۔

    الغرض اس فرمان باری تعالی کا مظہر کہ:

    ﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ (الانعام: 162)

    (کہو کہ بے شک میری نماز اورمیری قربانی اور میرا جینا اورمیرا مرنا ، اللہ رب العالمین کےلیے ہے)

  • The noble status of the prophet 'Essa (Jesus) (alayhis-salam) in Islaam - Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

    فرمان باری تعالی ہے:

    (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ  ۡ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ  ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ  ۭاِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭاِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ  ۘ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ وَكِيْلًا، لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا) (النساء: 171-172)

    (اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو (حد سے نہ گزرو) اور اللہ پر مت کہو مگر صرف حق بات۔ نہیں ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم مگر اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ، جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور مت کہو کہ تین (خدا) ہیں، باز آجاؤ، تمہارے لیے یہی بہتر ہے۔ اللہ تو صرف ایک ہی معبود برحق ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بطور وکیل کافی ہے، مسیح ہرگز اس سے کبھی عار نہ رکھتے  کہ وہ اللہ کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے ہی، اور جو بھی اس کی بندگی سے عار رکھے اور تکبر کرے تو عنقریب وہ ان سب کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا)

     

  • The methodology in seeking knowledge - Shaykh Saaleh bin Abdul Azeez Aal-Shaykh

    نام کتاب: طلبِ علم کا منہج

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

    ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

    مصدر:   المنهجية في طلب العلم۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

    جس چیز  نے ہمیں  طلب علم کے منہج کے متعلق بات کرنے پر  ابھارا وہ آجکل کے نوجوانوں کا بھرپور جذبہ ہے کہ وہ طلب علم کی جانب خوب رغبت کررہے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جنہیں اس کا طریقۂ کار نہیں معلوم، یعنی طلب علم کیسے کیا جائے؟ ان میں سے بعض طویل عرصہ اور کئی سال حصول علم میں بتا دیتے ہیں لیکن انہیں وہ علم حاصل نہیں ہوپاتا جو ان ہی کے جیسے کسی دوسرے کو حاصل ہوجاتا ہے کہ جس نے اسی کی مانند کچھ برس لگائے تھے۔اس کا سبب یہی ہے کہ اس نے طلب علم کے سلسلے میں صحیح منہج اختیار نہیں کیا، وہ منہج کہ جس کے ذریعہ سے وہ اپنا مطمح نظر یعنی جسے طالب علم کہا جاتا ہے وہ بن پاتا۔اگرچہ اسے اس علم کا کچھ نہ کچھ تھوڑا بہت حصہ مل جاتا ہے جو اسے نفع دیتا ہے، اس علم کے کچھ جوانب جس کی بنیاد بالکل ٹھوس طریقے سے اس نے حاصل کرلی ہوتی ہیں تو وہ اسے بلاشبہ واضح طور پر دوسروں تک منتقل کرسکتا ہے(لیکن جسے حقیقی معنوں میں طالب علم کہتے ہیں وہ نہیں بن سکتا)۔۔۔

    ان سب باتوں کا سبب یہی طلب علم کے بارے میں صحیح منہج کو نہ اپنانا ہے۔ کیونکہ لازم ہے کہ ایک طالب علم اپنے طلب علم کے سلسلے میں ایک واضح اور مخصوص منہج پر چلے۔ اگر وہ اس پر نہیں چلے گا تو طلب علم کی راہ میں پیچھے رہ جائے گا۔

    [چناچہ اسی منہج کو جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا]۔

     
  • Sticking to the Kitaab and Sunnah is the way of salvation for this Ummah - Shaykh Ahmad bin Yahyaa An-Najmee

  • Rules and Regulations of Jihaad in the Light of Sunnah - Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

    میں نے اس تحقیق میں جہاد کےجملہ احکام میں سے کچھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں ان باتوں پر ہی اقتصار کیا ہے جن پر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دلالت کرتی ہے اور میں نے اس کا نام ’’ضوابط الجهاد في السنة النبوية‘‘  رکھا ہے۔

    یہ ایک تقریر تھی جو میں نے منگل وبدھ بمطابق 1،2 ربیع الاول 1425ھ کو بعنوان ’’الجهاد حقيقته وضوابطه‘‘جامعہ کویت کی کلیۃ الدراسات الاسلامیہ قسم تفسیروالحدیث کی زیر انتظام ایک میٹنگ (کانفرنس) میں پیش کی۔

    میں نے اسے تین فصول (حصوں ) میں تقسیم کیا ہے:

    فصل اول: ضوابط جہاد باعتبار حکم۔

    فصل  دوم: ضوابط جہاد باعتبارطریقۂ کار۔

    فصل سوم: ضوابط جہاد باعتبارمال غنیمت۔

    ابتداء میں میں نے ایک مقدمہ پیش کیا ہے جس میں نہایت اختصار کے ساتھ فضائل جہاد اور معصوم جانوں کا خون حلال کرنے کے خطرات پر روشنی ڈالی ہے اور بعض لوگوں کی سوچ میں جو یہ بات سرایت کرچکی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خون بہانے کو جہاد کا نام دیتےہیں سے بھی خبردار کیا ہے،  اور یہ واضح کیا ہے کہ یہ بدعتیانہ جہاد ہے کیونکہ ایسے جہادی لوگ اس جہاد کے معاملہ میں شرعی حدود سے تجاوز کرگئے ہیں۔ چناچہ یہ جہاد اپنی خواہش، ہوائے نفس اور بدعت کی نصرت کے لئے ہے ناکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے، لہذا یہ فی سبیل اللہ نہیں ہوسکتا! آخر میں وہ اہم امور بیان کئے جو اس تحقیق میں زیر بحث آئے اور اسی پر اختتام کیا۔

     اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتا اور اس سے راضی ہوتا ہے اور اس کانفرنس کے منتظمین کو جزائے خیر سے نوازے، اور اس سلسلے میں ان کی جدوجہد وتگ ودو کو ان کے موازین حسنات میں جگہ دے، اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر کرے، بیشک وہی تو بہت سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

    کتبہ

    د. محمد بن عمر بن سالم بازمول

  • Virtues of following the Sunnah and its benefits - Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

    ⁠⁠⁠سنت کی تعریف
    سنت کی لغوی تعریف
    سنت کی شرعی تعریف
    محدثین کے نزدیک
    سنت قولی
    سنت فعلی
    سنت تقریری
    صفتِ خُلقی
    صفتِ خَلقی
    اصولیوں اور فقہاء کے نزدیک سنت
    سنت کی اقسام وانواع
    صریح سنت
    ضمنی سنت
    اتباع سنت کےفضائل و ثمرات
    پہلا ثمرہ: اتباع سنت میں ایک ایسی عصمت ہے جو مذموم اختلاف اور دین سے دوری کے خلاف بچاؤ ہے
    دوسرا ثمرہ :اتباع سنت کرنے سے اس فرقہ بندی سے نجات ملتی ہے جس میں مبتلا ہونے والے کے لئے جہنم کی وعید ہے
    تیسرا ثمرہ :سنت کو لازم پکڑنے سے ہدایت نصیب ہوتی ہے اور گمراہی سے سلامتی حاصل ہوتی ہے
    چوتھا ثمرہ :سنت پر عمل کرنے سے انسان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت نصیب ہوتی ہے اور اسے ترک کرنے سے اس نسبت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محروم ہوجاتا ہے
    پانچواں ثمرہ :سنت اور اس کی اتباع کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان شیطانی راہوں سے بچا رہتا ہے
    چھٹا ثمرہ :اتباع سنت سے ہی شریعت ودین ہے
    ساتواں ثمرہ :اتباع سنت سے امت پر لگی ذلت ورسوائی کی چھاپ رفع ہوجائے گی
    آٹھواں ثمرہ :اس میں اس بیماری کی تشخیص ہے جس میں امت مبتلا ہے اور ساتھ ہی اس بیماری کے علاج کی بھی نشاندہی ہے
    نواں ثمرہ :آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں اخلاقیات کی تکمیل اور اس کا جمال ومکارم حاصل ہوتے ہیں
    دسواں ثمرہ :سنت کو لازم پکڑنے میں فتنے سے نجات اور دردناک عذاب سے چھٹکارا ہے
    گیارہواں ثمرہ :اتباع سنت اور اسے لازم پکڑنے میں ایمان کی ثابت قدمی، دنیا وآخرت میں سعادت مندی اور جہنم کی آگ سے بچاؤ ہے
    بارہواں ثمرہ :اتباع سنت کرنےاور اس پر عمل پیرا ہونے سے آپ سنت کا احیاء کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے

  • Sunnah and Bid'ah and their effects upon Ummah - Shaykh Abdus Salaam bin Burjus

    سنت کی تعریف
    سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت
    اتباعِ سنت کا وجوب اور بدعات کی مذمت
    تفرقہ بازی، فتنہ وفساد سنت سے اعراض اور بدعتوں کی پیروی کا نتیجہ ہیں
    کون سے اعمال شرفِ قبولیت حاصل کریں گے؟
    صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روش اور طرز عمل
    دین اسلام قرآن وسنت کی صورت میں مکمل ہوچکا ہے
    سوال وجواب
    کیا دعوت کے وسائل وذرائع توقیفی ہیں؟
    اسلامی نظمیں اور ڈرامے
    کیا نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادات ِمبارکہ بھی سنت ہیں
    جمعہ نماز کے لئے دوڑ کر آنا
    کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادات ِمبارکہ پر عمل کرنا واجب ہے یا مستحب
    کیا دعوتی مصلحت وعظیم تر مفاسد کو دور کرنے کے لئے کسی سنت کو ترک یا مؤخر کیا جاسکتا ہے
    کیا ابتدائی طالبعلم کو اہل بدعت کے ردود پر لکھی گئی کتب پڑھنے میں منہمک ہونا چاہیے؟

  • A Glimpse at the Deviant Sects – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    نام کتاب:  گمراہ فرقو ں کا مختصر تعارف

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

    مصدر:     لمحة عن الفرق الضالة۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

    فرقوں کے بارے میں بیان کرنا محض تاریخ نویسی نہیں کہ جس کا مقصد فرقوں کے بارے میں صرف معلومات حاصل کرنا ہو۔جیسا کہ تاریخی واقعات کے بارے میں پڑھا جاتا ہے۔ بلکہ فرقوں کے بارےمیں جاننا اس سے بڑھ کر اہمیت اور اس سے اعلی مقصد کا حامل ہےاور وہ یہ کہ ان فرقوں کے شر اور ان کی بدعات سے بچا جائے اور فرقہ اہل سنت والجماعت کو لازم پکڑنے پر ابھارا جائے۔

    مخالف وگمران فرقوں کو بدعات وگمراہیوں کو ترک کرنا محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو ان کے بارے میں جاننے اور فرقۂناجیہ (نجات پانے والے فرقے) کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

    یہ جانا جائے کہ اہل سنت والجماعت کہ جن کے ساتھ ہونا ہر مسلمان پر واجب ہے کون ہیں ان کے کیا اوصاف ہیں؟ اور ان کے مخالف فرقے کونسے ہیں؟

    ان کے کیا مذاہب اور کیا شبہات ہیں ؟    تاکہ ان سے خبردار رہ کر بچا جاسکے۔

    کیونکہ ’’من لا یعرف الشر یوشک ان یقع فیہ‘‘ (جو شر کو نہیں جانتا قریب ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے)۔ 

  • Holding on firmly to the Kitaab and Sunnah - Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

    کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنا   

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    مصدر: الأعتصام بالكتاب والسنة۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

  • Moderation in Islaam and prohibition of extremism - Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

     

    دین میں اعتدال پسندی اپنانا اور غلووشدت پسندی کی مذمت   

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: وسطـيــة الإســلام

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    مقدمہ

    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه أما بعد :

    اے سلفیوں! ہم اللہ تعالی کے لیے جس دین کا اعتقاد رکھتے ہيں وہ توسط (میانہ روی) اور اعتدال کو اپنانا ہے ہر چیز میں خواہ عقائد ہوں، یا عبادات، اخلاق ومناہج سب میں۔ ہم نے غلو کی مختلف شکلوں کے خلاف جنگ کی اور اب تک کررہے ہیں  خواہ وہ عقائد میں ہو یا عبادات یا اشخاص سے متعلق ہو۔ مگر یہ ستم ظریفی اور جھوٹ کی انتہاء ہے کہ ہم پر ہی اس کی تہمت لگادی جائے ایسے لوگوں کی طرف سے جن کا اس جنگ میں کوئی کردار ہی نہيں۔

    اسی طرح سے ہم کوتاہی وتقصیر اور تمییع (بے جا نرمی) سے بھی لڑتے رہے ہيں اس کی ہر شکل میں خواہ وہ عقائد میں ہو یا عبادات واخلاق، یا اشخاص وجماعتوں کے متعلق، اور اب تک لڑ رہے ہيں۔  اور یہاں بھی وہی ستم ظریفی اور جھوٹ کی انتہاء ہے کہ ہم پر ہی اس کی بھی تہمت لگادی جاتی ہے۔

    ہم ان تمام باتوں کو بروئے کار لاتے ہیں یعنی میانہ روی اور اعتدال کو اپنانا اور اس کی جو متضاد باتیں ہیں ان سے لڑنا۔ اور اس سب میں ہم کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور منہج سلف صالحین کی روشنی میں چلتے ہیں، ہمیشہ اسی کی طرف دعوت دیتے ہيں اور اسی پر تربیت کرتے ہیں۔

    جس کسی نے اس منہج کے علاوہ کسی منہج کو ہماری طرف منسوب کیا تو یقیناً اس نے ہم پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے۔

    البتہ وسطیت ، میانہ روی واعتدال اسی طرح سے غلو یا تقصیر وبےجا نرمی کا میزان ومعیار کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور منہج سلف صالحین ہے۔ ناکہ اہل اہوا اور ان کے وہ فاسد مناہج جو دنیاوی مصلحتوں سے مربوط ہوتے ہیں۔

    ان دنوں ہمیں جن لوگوں کا سامنا ہے وہ سچے سلفیوں کو ہی جرح وتعدیل اور اس کے علاوہ باتوں میں غلو وتشدد کرنے والا باور کرواتے ہیں، اور انہی سلفیوں سے یہ شدید ترین جنگ کرتے ہیں اور دوسری طرف اہل بدعت واہوا سے صلح کرکے ان کی مدح وتعریف کیے جاتے ہیں۔ ایسوں نے ان دونوں باتوں کو جمع کردیا ہے ایک طرف تو اہل بدعت کے لیے ناجائز نرمی اور دوسری طرف اہل سنت وحق کے خلاف جنگ میں مہلک غلو اپنانا۔

    ایسے لوگوں کو ہم کہتے ہیں کہ : تمہاری محبتیں ودوستیاں تمہیں ہی مبارک ہو!  آپ تو وہ لوگ ہیں جو نہ منہج سلف کو جانتے ہیں نہ وہ آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک کبھی رہا ہے۔ آپ تو محض دنیا اور اس کی آلائشوں کے حریص اور اہل دنیا کو راضی رکھنے والوں میں سے ہیں کہ جنہيں اللہ کی رضا اور اس کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں! نہ ہی سلف اور ان کے فہم کی مخالفت کی کوئی پرواہ ہے!

    بلکہ ان کی رضا اور ناراضگی کی بنیاد تو ان کی اپنی خواہشات اور اہل دنیا ومال کی خواہشات ہیں!

    ان کے بارے میں یہ بات تو اتنی جانی پہچانی ہے کہ جسے چھو کر بھی دیکھ سکتے ہيں اگرچہ یہ کتنے ہی پس پردہ رہنے کی، مغالطہ دینے کی اور اپنے اوپر حسین وچکا چوند عبارات کی چادر ڈالنے کی کوشش کریں۔

    ساتھ ہی میں سچے سلفیوں کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ حق پر ثابت قدم رہیں اور اہل اہوا کی جانب سے دی جانے والی اذیتوں پر صبر کریں۔ اور میں انہيں حکمت اور پیارے اندازِ نصیحت میں دعوت الی اللہ کرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔

    غلو اور میانہ روی کے جو مواقع ہیں ان کی تفصیل میں نے اس کتابچے میں بیان کی ہے جس کے لیے میں نے یہ مقدمہ تیار کیا۔

    اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔

    وصلَّى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلَّم .

    میں نے یہ مقدمہ مکہ مکرمہ میں 23 محرم الحرام 1430ھ میں تحریر کیا۔

  • The correct Islaamic creed - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    صحیح اسلامی عقیدہ   

    فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

    (محدث دیارِ شام)

    مصدر: اسی عنوان پر شیخ رحمہ اللہ کی تقریر۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    پیش لفظ

    علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تقریرکا متن

    ابتدائی خطبہ

    توحید سے متعلق دعوت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    مسلمانوں کی اکثریت کلمے کے صحیح مفہوم سے ناآشنا ہیں

    عبادت کے صحیح مفہوم سے جہالت

    کلمہ گو مشرکین اور قدیم مشرکین میں فرق

    مشرکین کا شرک آخر کیا تھا؟

    شرک میں ملوث کلمہ گو لوگوں کو کیسے دعوت دی جائے

    مسلم معاشروں میں رائج بعض مشہور شرکیہ امور

    توحید کی تین اقسام

    1- توحید ربوبیت

    2- توحید العبادۃ

    3-  توحید الاسماء والصفات

     

  • Correct Salafee stance regarding Ahl-ul-Bida’ah – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

    اہلِ بدعت کے بارے میں صحیح سلفی مؤقف   

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: المؤقف الصحيح من أهل البدع۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    فضيلة شيخنا العلامة / الشيخ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله .

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته …………. وبعد

    شیخ صاحب اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے، یہ بات یقیناً آپ پر مخفی نہیں ہے کہ کسی کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے صحبت اختیار کرنے والے پر خواہ اچھے ہوں یا برےکیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    آجکل ہمارے بعض سلفی بھائی  بعض ایسے لوگوں سے میل جول رکھنے میں واقع ہوگئے ہیں جو سلفی منہج کی مخالفت کرتے ہیں بطورِ صحبت یا موافقتِ طبع کی بنیاد پر؛ چناچہ کم از کم بھی جو چیز آپ اس قسم کے میل ملاپ رکھنے والے بھائی میں پائیں گے وہ یہ کہ وہ سلفی عقیدے کے مخالف افکار سے نابلد ہوگا، اور منہجی مسائل پر بات کرنے سے بھاگے گا۔

    پس ہم آپ حفظہ اللہ سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کوئی سلفی تربیتی باتیں ہمیں نصیحت فرمائیں؛ اور ایسوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے خطرے سے آگاہ فرمائیں، اور آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ اور آثارِ سلفیہ اس کی خطرناکی واضح کرنے کے سلسلے میں بیان فرمائیں، اور تاریخ میں سے ایسی مثالیں بیان فرمائیں کہ محض اہلِ اہوا کے ساتھ چلنے پھرنے کی وجہ سےکس طرح سے اہلسنت میں سے بعض بدعت کی طرف مائل ہوگئے ۔

    اللہ تعالی آپ کی عمر وعلم میں برکت عطاء فرمائے، اور جزائے خیر سے نوازے۔

    جواب کے لیے مکمل کتاب کا مطالعہ کیجئے۔

  • What is Fiqh-ul-Akbar? - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    فقہِ اکبر کیا ہے؟   

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، درس نمبر 28 "الفقه الأكبر"۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    فہرست مضامین

     

    مقدمہ

    فقہ فی الدین کی اہمیت

    فقہ کی انواع

    الفقہ فی العقیدۃ

    توحید کے ساتھ شرک کی معرفت بھی ضروری ہے

    طاغوت کی تعریف

    طاغوت کی تعریف سے مستثنی لوگ

    اللہ تعالی کی عبادت اس وقت تک صحیح نہیں جب تک غیراللہ کی عبادت کا انکار نہ کیا جائے

    کیا توحید تفرقے کا سبب ہے؟ کیا توحید کے بغیر امت میں اتحاد ممکن ہے

    الفقہ فی المسائل

    مسائل کا فقہ عقیدے  کے فقہ کے بغیر بیکار ہے

    دونوں اقسام کی فقہ کی تحصیل کے وسائل

    1- علم حاصل کرنا

    طلبِ علم کی راہ میں اعلی نمونہ (پہلی مثال – جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام )

    قیامت کے وقوع کا علم سوائے اللہ تعالی کے کسی کو نہیں

    دوسری مثال (سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام)

    2- تدبرِ قرآن

    قرآن وحدیث کے فہم کا طریقۂ کار کیا ہو

    3- اہل علم سے سوال کرنا

    4- خطباتِ جمعہ ودروس سننا

    5-  ریڈیو (انٹرنیٹ وغیرہ) پر دینی پروگرام سماعت کرنا

    آخری نصیحت

     
  • The Salafee Methodology: It's Definition, Characteristics and It's Rectifying Call - Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

  • What is the Salafi Da'wah? - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    نام کتاب: سلفی دعوت کیا ہے؟

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین الالبانی :

    ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

    مصدر:   سلسلة مفهوم السلفية للشيخ الألباني رحمه الله۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    (جو شخص باوجود راہ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد بھی رسول اللہ کی خلاف ورزی کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کرچلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور اسےجہنم میں ڈال دیں گے،وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے) (النساء: 115)

    شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    اللہ تعالی نے کیوں اس آیت میں ﴿مومنوں کی راہ چھوڑ کرچلے﴾ کو ذکر کیا حالانکہ جو معنی مقصود تھا وہ اس سےبھی تو پورا ہوسکتا تھا کہ : ’’جو کوئی رسول اللہ e کی مخالفت کرے ہدایت واضح ہوجانے کے بعد،تو اسے ہم وہیں پھیر دیں گے جہاں وہ پھرا ۔۔۔‘‘، کیا معنی مقصود اس سے حاصل ہوجاتا؟ ہم کہیں گےہاں، لیکن یہاں ایک اور غرض وغایت بھی تھی ، اللہ عزوجل کی طرف سے ایک اور مقصد بتانے کے لیےمزید دقیق تعبیر کی گئی  ، جس سے مقصود اس جانب توجہ دلانا تھا کہ جو مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف کا سبب ہے کہ وہ سلف صالحین کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ وہ سلف صالحین کہ جنہوں نے قرآن مجید کو نبی کریم e کے منہ سے براہ راست تروتازہ حاصل کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا امت میں تہتر فرقے بن جائے گے جو سب کے سب آگ میں جائيں گے سوائے ایک کے، اور اس کی صفت بتائی:

    (وہ اس چیز پر ہوں گے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں)۔الحدیث

  • The principles and fundamentals of Salafiyyah – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

    سلفی منہج کے اصول وقواعد   

    فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

    (سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: أصول و قواعد في المنهج السلفي.

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شیخ عبید الجابری حفظہ اللہ سلفیت کے تعلق سے فرماتے ہیں: جان لو ! بارک اللہ فیکم یہ کوئی انسان نہیں تھا جس نے کسی وقت یاکسی جگہ پر سلفیت کی بنیاد رکھی۔نہ تو اس کی بنیاد سلفیت کے تیسرے بڑے مجدد امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ  نے رکھی، جنہوں نے اپنے بھائی امام محمد بن سعود رحمہ اللہ کے ساتھ سلفیہ کا احیاء کیا تھا، نہ ہی اس کی بنیاد ان سے پہلے آنے والے علماء، ائمہ دین، اور خالص دین توحید کی طرف بلانے والے داعیانِ حق جیسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  اور ان کے شاگردوں نے رکھی۔ نہ ہی اس کی بنیاد ان سے پہلے آنے والے ائمہ اربعہ رحمہم اللہ  اور ان ائمہ وغیرہم  نے رکھی تھی۔ نہ ہی اس کی بنیاد تابعین رحمہم اللہ نے رکھی، نہ ہی صحابہ کرام y نے، اور نہ ہی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور نہ ہی اس کی بنیاد رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے آنے والے کسی نبی یا رسول نے رکھی بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے۔ لہٰذا جو تشریع اللہ نے چاہی انبیاء اور رسولوں نے اس کی تبلیغ کی اور ان کے بعد آنے والے داعیان الی اللہ اسی شریعت کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس (سلفیت) کے نزدیک نصوص(کتاب اور سنت) اور اجماع کے علاوہ کوئی دلیل کا معیار نہیں۔ لہٰذا اقوال و اعمال کو، مجموعی طور پر دو چیزوں کے معیار پر پرکھا جاتا ہے: نص اور اجماع ۔ جس شخص کا قول یا عمل نص اور اجماع کے مطابق ہو گا اسے قبول کیا جائے گا اور جس کسی کا قول یا عمل نص یا اجماع کے مخالف ہو گا بغیر یہ لحاظ کئے کہ وہ کون ہےکہاں ہے؟ اسے ردّ کر د یا جائے گا۔

  • Brief Seerah of Khulafa Rashideen (the rightly guided caliphs) - Various 'Ulamaa

    مختصر سیرت خلفائے راشدین   

    مختلف علماء کرام کے کلام سے

    ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

    مصدر: مختلف مصادر

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  فرماتے ہیں :

    یہ موضوع بلاشبہ بہت اہم موضوع ہے۔ خصوصاً خلفائے راشدین کے تعلق سے (خلفائے راشدین سمیت صحابہ کرام کے بارے میں) فرمان الہی ہے:

    (محمد اللہ کے رسول ہیں، اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تم انہیں اس حال میں دیکھو گے کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کے طالب ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدے کرنے کے آثار ہیں،  یہ ان کا وصف تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے) (الفتح: 29)

    (اور مہاجرین اور انصار میں سےسابقین اولین لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے ،اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے) (التوبۃ: 100)

    بے شک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے لیے، ان سے تعلیم حاصل کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی تعریف اللہ تعالی نے فرمائی اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

     (میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد(پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان میں سے کسی کے مد یا نصف مد تک نہیں پہنچ سکتا)۔ (متفق علیہ)

  • The Reality of Hizb-ut-Tahreer - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

  • The reality of Sufism and their position regarding Deen and the principles of 'Ibaadah - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    تصوف کی حقیقت اور اصولِ عبادت ودین کے متعلق ان کا مؤقف   

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: حقیقۃ التصوف ومؤقف الصوفیۃ من اصول العبادۃ والدین۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مقدمہ: عبادت کے متعلق صحیح شرعی ضوابط

    تصوف کی حقیقت

    عبادت اور دین کے تعلق سے صوفیہ کا مؤقف

    1- عبادت کو صرف محبت تک محصور کردینا:

    2- دین اور عبادت میں کتاب وسنت کی جانب رجوع نہ کرنا:

    3- پیر طریقت کا مخصوص اذکار ووظائف کرنےکی اپنے مریدوں کو اجازت دینا:

    4- اولیاء کرام کے بارے میں غلو:

    اور اولیاء اللہ کون ہیں:

    5- گانے بجانے اور رقص کے ذریعہ تقرب الہی:

    6- صوفی حال شریف اور شریعت سے بے نیازی:

    خاتمہ

     

     

  • The Fitnah of Takfeer - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    التحذير من فتنة التكفير

    فتنۂ تکفیر   

    فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

    (محدث دیارِ شام)

    تقریظات از شیخ ابن باز وابن عثیمین رحمہما اللہ

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    ’’أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ‘‘([1])

    (جو کوئی بھی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو وہ حکم ان میں سے کسی ایک پر لوٹ آتا ہے، اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا تو خیر، ورنہ وہ تکفیر خود کہنے والے پر لوٹ آتی ہے)۔


    [1] أخرجه البخارى (6104)، ومسلم (60) عن ابن عمر -رضى الله عنهما-.

Articles

Scholars