Store

  • Virtues of following the Sunnah and its benefits - Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

    ⁠⁠⁠سنت کی تعریف
    سنت کی لغوی تعریف
    سنت کی شرعی تعریف
    محدثین کے نزدیک
    سنت قولی
    سنت فعلی
    سنت تقریری
    صفتِ خُلقی
    صفتِ خَلقی
    اصولیوں اور فقہاء کے نزدیک سنت
    سنت کی اقسام وانواع
    صریح سنت
    ضمنی سنت
    اتباع سنت کےفضائل و ثمرات
    پہلا ثمرہ: اتباع سنت میں ایک ایسی عصمت ہے جو مذموم اختلاف اور دین سے دوری کے خلاف بچاؤ ہے
    دوسرا ثمرہ :اتباع سنت کرنے سے اس فرقہ بندی سے نجات ملتی ہے جس میں مبتلا ہونے والے کے لئے جہنم کی وعید ہے
    تیسرا ثمرہ :سنت کو لازم پکڑنے سے ہدایت نصیب ہوتی ہے اور گمراہی سے سلامتی حاصل ہوتی ہے
    چوتھا ثمرہ :سنت پر عمل کرنے سے انسان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت نصیب ہوتی ہے اور اسے ترک کرنے سے اس نسبت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محروم ہوجاتا ہے
    پانچواں ثمرہ :سنت اور اس کی اتباع کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان شیطانی راہوں سے بچا رہتا ہے
    چھٹا ثمرہ :اتباع سنت سے ہی شریعت ودین ہے
    ساتواں ثمرہ :اتباع سنت سے امت پر لگی ذلت ورسوائی کی چھاپ رفع ہوجائے گی
    آٹھواں ثمرہ :اس میں اس بیماری کی تشخیص ہے جس میں امت مبتلا ہے اور ساتھ ہی اس بیماری کے علاج کی بھی نشاندہی ہے
    نواں ثمرہ :آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں اخلاقیات کی تکمیل اور اس کا جمال ومکارم حاصل ہوتے ہیں
    دسواں ثمرہ :سنت کو لازم پکڑنے میں فتنے سے نجات اور دردناک عذاب سے چھٹکارا ہے
    گیارہواں ثمرہ :اتباع سنت اور اسے لازم پکڑنے میں ایمان کی ثابت قدمی، دنیا وآخرت میں سعادت مندی اور جہنم کی آگ سے بچاؤ ہے
    بارہواں ثمرہ :اتباع سنت کرنےاور اس پر عمل پیرا ہونے سے آپ سنت کا احیاء کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے

  • Conditions of appointing a ruler in Islaam - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    اسلام میں امام(حکمران)  کے نصب کرنے کی کیفیت   

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ، عناوین وبعض مفید تعلیقات: طارق علی بروہی

    مصدر: الإعلام بكيفية تنصيب الإمام في الإسلام۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    موضوع کی اہمیت

    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد:

    اس موضوع کی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے لوگوں کی اس بارے میں احتیاج کے پیش نظر خصوصاً اس زمانے میں جس میں آپ پر مخفی نہیں کہ لوگوں کی حالت کیا ہے الا من رحم اللہ۔ اور یہ ملک الحمدللہ اب تک خیر میں ہے، اب تک اللہ تعالی کی نعمت کے سایے میں ہے، اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اسے قائم دائم رکھے اور اس کا ہم پر اور آپ سب پر اتمام فرمائے، اور ہر جگہ مسلمانوں کے احوال کی درستگی فرمادے، اور دشمنان دین اور مسلمانوں کے بارے میں گردش ایام کے منتظر لوگوں کو رسوا فرمائے۔

    دیگر عناوین:

    لزوم جماعت اورامام وحکمران کی تنصیب کی اہمیت

    امام کی تنصیب کی مختلف شرعی صورتیں

    امام کے حقوق

    معروف میں سمع وطاعت کرنا

    حکمران کے مظالم پر صبر کرنا اور اس کی نصیحت وخیرخواہی چاہنا

    جو کام حکمران کی طرف سے سپرد کیا جائے اسے بحسن خوبی انجام دیا جائے

    ولی امر کا احترام واجب ہے اور اس کی اہانت وتذلیل جائز نہیں

    فی زمانہ اس مسئلے کی معرفت حاصل کرنے کی اہمیت

    حکمران کی سمع وطاعت اور اس پر عدم خروج اصول وعقیدۂ اہل سنت والجماعت میں سے ہے

    کوتاہی کے مرتکب حکام کے ساتھ سلف صالحین کا معاملہ

    اس مسئلے کے تعلق سے مسلمانوں کی ذمہ داری

    اور تقریباً 60 سے زائد اہم سوالات

  • The noble status of the prophet 'Essa (Jesus) (alayhis-salam) in Islaam - Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

    اسلام میں عیسی علیہ الصلاۃ والسلام  کا مقام ومرتبہ

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    ترجمہ: طارق بن علی بروہی

    مصدر: مكانة عيسى عليه السلام في الإسلام

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    فرمان باری تعالی ہے:

    (تو اس (مریم) نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کر دیا، انہوں نے کہا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گہوارے میں بچہ ہے، اس نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے، اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی، جب تک میں زندہ رہوں، اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا، اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جاؤں گا، یہ ہے عیسیٰ ابن مریم۔(ان کے بارے میں یہی) حق کی بات ہے، جس میں یہ شک کرتے ہیں، کبھی اللہ کے لائق نہ تھا کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے، اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے، پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا، ایک بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے، کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے، لیکن ظالم لوگ آج کھلی گمراہی میں ہیں) [مریم: 29-38]

  • The status of prayer, its noble effects and some of its manners - Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

    نام کتاب:   اسلام میں نماز کا مقام ،اس کے پاکیزہ اثرات

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی

    ترجمہ :   طارق بن علی بروہی

    مصدر:  مكانة الصلاة في الإسلام وآثارها الطيبة۔

    سن طباعت: 2019ع

    پیشکش: توحید خالص پبلیکیشنز


    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت، فرضیت، نماز باجماعت کی فضیلت اور بعض احکام ذکر فرماکر ایک مومن کی زندگی میں اس کے پاکیزہ اثرات کا ذکر فرمایا ہے، آپ فرماتے ہیں:

    نماز کی اسلام میں عظیم شان ہے اور اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور مومنین کے نزدیک اس کا بہت بلند مقام ہے۔کیونکہ یہ شہادتین کے بعد ارکان اسلام میں سے دوسرا رکن ہے۔

    اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے عقائد، عبادات اور تمام امور حیات میں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی e کی سنت پراور سلف صالحین کے منہج پر چلنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں ان کامیاب وفلاح یاب لوگوں میں سے کردے کہ جن کی نمازیں انہیں فواحش ومنکرات سے روکتی ہے۔ بے شک میرا رب دعائوں کا سننے والا ہے۔

  • Principles of Tafseer - Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

    اصولِ تفسیر   

    فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

    (سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: أصول في التفسير

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مقدمہ

    الحمد لله ، نحمده ونستعينه ، ونستغفره ونتوب إليه ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا ، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله ؛ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وأصحابه ، ومن تبعهم بإحسان وسلم تسليماً ، أما بعد :

    ہر قسم کے فن سے متعلق یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ کوئی بھی شخص اس کے اصولوں کو جانتا ہو۔ جو اس کے فہم اور ان اصولوں کے ذریعہ تخریجِ مسائل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اور تاکہ اس کا علم قوی اساس اور مضبوط ستونوں پر قائم ہو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: ’’من حُرِم الأصول حرم الوصول‘‘ (جو اصول کی معرفت سے محروم رہا وہ منزلِ مقصود تک پہنچے سے محروم رہا)۔

    اور تمام فنونِ علم میں سب سے بہترین واشرف علم علمِ تفسیر ہے۔ جو کلام اللہ کے معانی کی وضاحت کرتا ہے۔ اہل علم نے اس کے لیے بھی اصول وضع فرمائے ہیں جیسا کہ انہوں نے اصولِ حدیث یا اصول ِفقہ وغیرہ کے لیے اصول وضع فرمائے ہیں۔

    میں نے معھد العلمیہ،جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ (ریاض) کے طالبعلموں کے لیے اس علم کے تعلق سےجتنا مجھ سے ہوسکا کچھ ضروری باتیں لکھی تھیں۔ پس کچھ لوگوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اسے علیحدہ طور پر ایک رسالے کی شکل دے دوں، تاکہ یہ آسان تر اور یکجا ہوجائے۔ لہذا میں نے ان کی اس طلب پر لبیک کہا۔

    اور اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس کے ذریعہ نفع پہنچائے۔

    اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

    القرآن الکریم:

    1- قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کب نازل ہوا  اور فرشتوں میں سے کون اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کرنازل ہوئے ۔

    2- قرآن میں سے سب سے پہلے کیا نازل ہوا۔

    3- قرآن کریم کا نزول دو طرح کا ہے: سببی اور ابتدائی۔

    4- قرآن مجید کا مکی اور مدنی ہونا، اور اسے وقتا ًفوقتاً نازل ہونے کی حکمت، اور ترتیبِ قرآن۔

    5- عہدِ نبوی میں قرآن حکیم کی کتابت وحفاظت۔

    6- عہدِ ابو بکر وعثمان رضی اللہ عنہما میں قرآن شریف کا جمع کیا جانا۔

    تفسیر:

    1- تفسیر کا لغوی واصطلاحی معنی، اس کا حکم اور اس کی غرض وغایت۔

    2- تفسیر قرآن کے سلسلے میں ایک مسلمان پر کیا واجب ہے۔

    3- تفسیر قرآن کے مراجع یہ ہیں:

                1- خود کلام اللہ یعنی قرآن کی تفسیر قرآن سے ہونا۔

                2- سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیونکہ آپ ہی اللہ تعالی کی طرف سے اس کو پہنچانے والے ہیں، اور تمام

                    لوگوں میں سب سے زیادہ کتاب اللہ میں اللہ تعالی کی حقیقی مراد کو جاننے والے ہیں۔

                3- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصا ًوہ صحابہ جنہوں نے قرآن کی تفسیرکا خاص اہتمام فرمایا، کیونکہ

        قرآن مجید ان کی زبان میں اور ان کے زمانے میں نازل ہوا۔

                4- کبار تابعین کرام رحمہم اللہ جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تفسیر حاصل کرنے کا اہتمام فرمایا۔

                5- سیاق وسباق کے اعتبار سے قرآنی کلمات کے شرعی یا لغوی معنی کا جو تقاضہ ہو اسے لینا، اور اگر

                   شرعی اور لغوی معنی میں کہیں اختلاف ہو تو وہاں شرعی معنی کو ترجیح دینا الا یہ کہ کوئی خاص

      دلیل موجود ہے جس کی وجہ سے کبھی لغوی معنی کو شرعی معنی پر ترجیح حاصل ہوجائے۔

    4- تفسیرِ ماثور میں وارد ہونے والے اختلاف کی انواع واقسام۔

    5- ترجمہِ قرآن: اس کی تعریف، انواع اور ان تمام انواع کا حکم۔

    ٭ پانچ مشہور مفسرین کی سیرت کا بیان۔ تین صحابہ میں سے اور دو تابعین میں سے۔

    ٭محکم ومتشابہ کے اعتبار سے قرآن کریم کی اقسام:

                = متشابہ آیات سے متعلق راسخین فی العلم اور کجروؤں کا مؤقف۔

                = حقیقی اور نسبی متشابہات۔

                = قرآن مجید کے محکم ومتشبہ میں تقسیم ہونے کی حکمت۔

    ٭ قرآن کریم کی آیات میں تعارض پائے جانے کا وہم اور اس کا جواب مثالوں کے ساتھ۔

    ٭ قرآن کریم میں قَسَم کا بیان: اس کی تعریف، صیغے اور فوائد۔

    ٭ قرآن کریم میں قصص: ان کی تعریف، غرض وغایت، ان کی تکرار اور طوالت ، اختصار واسلوب کے فرق میں حکمت-

    ٭ اسرائیلیات: یعنی وہ بنی اسرائیل سے مروی روایات جنہیں تفسیر میں شامل کردیا گیا اور ان کے تعلق سے علماء کرام کا مؤقف۔

    ٭ ضمیر: اس کی تعریف، مرجع، جہاں ضمیر استعمال ہونا چاہیے وہاں اسم کا اظہار کرنا اور اس کا فائدہ،ایک ضمیر سے دوسرے ضمیر کی جانب التفات کرنا اور اس کا فائدہ، ضمیر منفصل کا استعمال اور اس کا فائدہ۔

  • The only way of success for the Muslim 'Ummah is to following the "Salafee Manhaj" - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    نام کتاب: امت کی فلاح کا واحد راستہ سلفی منہج

    مصنف:  فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ

    ترجمہ  :  طارق بن علی بروہی

    مصدر:   محاضرۃ واقع المسلمين اليوم. أسباب الوهن وسبيل النهوض ۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    یہ مضمون دراصل ایک ٹیلی فونک خطاب ہے جو شیخ البانی (رحمۃ اللہ علیہ) کی نصیحت پر مشتمل ہے، جس میں آپ نےامت مسلمہ کے لئے اپنا کھویا ہوا وقار اور عروج حاصل کرنے کی صحیح سمت متعین کی جو کہ آپ کی علمی بصیرت اور امت کے لئے پرخلوص خیرخواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان قیمتی نصیحتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین یارب العالمین

  • Correct Salafee stance regarding Ahl-ul-Bida’ah – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

    اہلِ بدعت کے بارے میں صحیح سلفی مؤقف   

    فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

    (سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

    ترجمہ: طارق علی بروہی

    مصدر: المؤقف الصحيح من أهل البدع۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    فضيلة شيخنا العلامة / الشيخ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله .

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته …………. وبعد

    شیخ صاحب اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے، یہ بات یقیناً آپ پر مخفی نہیں ہے کہ کسی کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے صحبت اختیار کرنے والے پر خواہ اچھے ہوں یا برےکیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    آجکل ہمارے بعض سلفی بھائی  بعض ایسے لوگوں سے میل جول رکھنے میں واقع ہوگئے ہیں جو سلفی منہج کی مخالفت کرتے ہیں بطورِ صحبت یا موافقتِ طبع کی بنیاد پر؛ چناچہ کم از کم بھی جو چیز آپ اس قسم کے میل ملاپ رکھنے والے بھائی میں پائیں گے وہ یہ کہ وہ سلفی عقیدے کے مخالف افکار سے نابلد ہوگا، اور منہجی مسائل پر بات کرنے سے بھاگے گا۔

    پس ہم آپ حفظہ اللہ سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کوئی سلفی تربیتی باتیں ہمیں نصیحت فرمائیں؛ اور ایسوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے خطرے سے آگاہ فرمائیں، اور آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ اور آثارِ سلفیہ اس کی خطرناکی واضح کرنے کے سلسلے میں بیان فرمائیں، اور تاریخ میں سے ایسی مثالیں بیان فرمائیں کہ محض اہلِ اہوا کے ساتھ چلنے پھرنے کی وجہ سےکس طرح سے اہلسنت میں سے بعض بدعت کی طرف مائل ہوگئے ۔

    اللہ تعالی آپ کی عمر وعلم میں برکت عطاء فرمائے، اور جزائے خیر سے نوازے۔

    جواب کے لیے مکمل کتاب کا مطالعہ کیجئے۔

  • O callers to Islaam! Tawheed First - Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

    اے داعیان اسلام! توحید سب سے پہلے

    فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ

    ترجمہ: طارق بن علی بروہی


    یہ انتہائی عظیم نفع بخش اور فائدہ مند رسالہ ([1])ہے  جو کہ ایک سوال کا جواب ہے جو اس دور کے علماء میں سے ایک عالمِ دین فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے دیا ہے اور (امت کو) نفع پہنچایا ہے، اس میں ایک ایسے سوال کا جواب دیا گیا ہے جو اس دین کی غیرت رکھنے والوں، اسے اپنے دل میں بسا لینے والوں اور اپنی فکر کو اس کے مطابق ڈھالنے کی شب وروز کوشش کرنے والوں کی زبان زد عام ہے، اور وہ سوال مجمل طور پر مندرجہ ذیل ہے:

    سوال: وہ کیا طریقۂ کار ہے جو مسلمانوں کو عروج کی جانب لے جائے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پر اللہ تعالی انہیں زمین پر غلبہ عطاء کرے گا اور دیگر امتوں کے درمیان جو ان کا شایان شان مقام ہے اس پر فائز کرے گا؟

    پس علامہ البانی (نفع اللہ بہ)نے اس سوال کا نہایت ہی مفصل اور واضح جواب ارشاد فرمایا۔ ہم نے اس جواب کی افادیت کے پیش نظر اسے نشر کرنے کا عزم کیا۔ آخر میں اللہ  تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور مسلمانوں کو اس چیز کی طرف ہدایت دے جس سے وہ محبت کرتا اور راضی ہوتا ہے، بے شک وہ جواد وکریم ہے۔

    [1] اس رسالے کی اصل ایک کیسٹ ہے جسے کتابی صورت میں لکھنے کے بعد مجلۃ السلفیۃ، چوتھے ایڈیشن 1419ھ میں طبع کیا گیا۔

  • O prophet!Truly, We will suffice you against the scoffers - Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

    اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بےشک ہم آپ کو مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں کافی ہیں   

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفطہ اللہ

    (سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

    ترجمہ وعناوین: طارق علی بروہی

    مصدر: درس بعنوان: ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ۔

    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    موضوع کی اہمیت

    گستاخئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہر صرف آج کی بات نہيں

    مشرکین کی طرف سے گستاخی

    اہل کتاب کی طرف سے گستاخی

    منافقین کی طرف سے گستاخی

    شہوات وخواہشات پرست لوگوں کی طرف سے گستاخی

    یہ سب مل کر بھی نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کچھ بھی نہيں بگاڑ سکتے

    پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام محمود

    اللہ تعالی نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہمیشہ کے لیے بلند فرمادیا

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہی ذلیل ورسوا رہیں گے

    گستاخوں اور مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالی ہی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی ہے

    یہود و نصاریٰ کی تاریخ ہی اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے ساتھ گستاخیوں اور نافرمانیوں سے عبارت ہے

    یہودیوں کی انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و