Defending the honor of a Muslim brother or sister – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

مسلمان بھائی بہن کی عزت کا دفاع کرنا

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختصر مفہوم فتوی نور علی الدرب 11376۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابو الدرداءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ، رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘([1])

 (جس کسی نے اپنے(مسلمان) بھائی کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالی بروز قیامت جہنم کی آگ  کو اس کے چہرے سےپھیر دے گا)۔

اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’مَنْ ذَبَّ عَن ْعِرْضِ أَخِيهِ بِالغِيبةِ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِن النَّارِ ‘‘([2])

 (جس کسی نے اپنے(مسلمان) بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ وہ اسے (جہنم کی) آگ سے نجات دے گا)۔

شیخ عبدالعزیز بن باز  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 جو مسلمان مرد اپنے مسلمان بھائی یا بہن کا، اسی طرح سے مسلمان عورت اپنے مسلمان بھائی یا بہن کا دفاع کرتے ہیں کہ جب ان کے متعلق کوئی غلط بات کی جائے تو وہ کہتے ہيں کہ اللہ تعالی سے ڈرو ہم اس کے بارے میں یہ نہيں جانتے اور صرف خیر ہی جانتے ہيں، نصیحت کرتے ہيں کہ یہ غیبت کبیرہ گناہ ہے نہ کرو وغیرہ ،تو ان کی یہ فضیلت ہےجو اس حدیث میں بیان ہوئی۔


[1] اسے امام الترمذی نے اپنی سنن 1931 میں روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے صحیح الترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[2] صحیح الجامع 6240۔

muslim_bhai_behan_ezzat_difa