Ruling regarding availing the black Friday’s sale – Shaykh Hasan bin Abdul Wahhab Al-Banna

بلیک فرائیڈے کے نام سے ہونے والی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم   

فضیلۃ الشیخ حسن بن عبدالوہاب البنا حفظہ اللہ

(مصر کے سلفی عالم دین)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: موحدین پبلی کیشنز کے بھائیوں کا شیخ سے بروز بدھ، 23 صفر 1438ھ بمطابق 23 نومبر 2016ع کو کیا گیا سوال۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: میں ایک تاجر ہوں اور (نصاریٰ کے تہوار) thanksgiving کے بعد والا دن سال کا سب سے مصروف ترین کاروباری دن ہوتا ہے، جسے بلیک فرائیڈے (نسأل الله العافية)کہتے ہيں۔(شیخ مسکرائے!)  تو کیا اس روز میں اپنی اشیاء پر  خصوصی رعایت وپیشکش دے سکتا ہوں؟ یا پھر یہ کافروں سے مشابہت کہلائے گی؟

جواب: میرے خیال سے شاید جس وجہ سے یہ لوگ اسے بلیک فرائیڈے (سیاہ جمعہ) کہتے ہوں گے یہ ہوگا کہ  تلمود میں جو کہ توراۃ کی تشریح ہے جو کہ احبار کی لکھی ہوئی ہے، اس میں لکھاہے کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جو کہ منحوس  اور بری ہے۔ جبکہ اس کے برعکس رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا اس یوم جمعہ کےتعلق سے کہ اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس میں جو دعاء کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔

چناچہ ہمارے پاس دو ممکنات ہیں:

1- بطور تاجر آپ اپنی فروخت کریں دوسری نیت سے اس صورت میں آپ اپنے اردگرد کے تاجروں سے مقابلہ کررہے ہوں گے۔ لیکن اس میں مجھے خدشہ ہے کہ بطور تاجر آپ کو کچھ اعلان لکھ کر اپنے دکان کے قریب رکھنا ہوگا جس میں  کچھ یوں لکھا ہوگا کہ یہ بلیک فرائیڈے کسی بھی انسان کی فطرت کے ہی خلا ف ہے! لیکن یہ آپ کو آپ کے گاہکوں یا پڑوسیوں کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنسا سکتا ہے۔ اسی لیے آپ اپنی سیل کو کسی دوسری نیت سے کریں  تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آپ بلیک فرائیڈے میں شرکت نہیں کررہے۔

2- بہرحال جو بات آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے وہ یہ ہے کہ آپ مکمل طور پر اس دن اپنی دکان ہی بند رکھیں، تاکہ لوگوں کو یہ دکھا سکیں یا جو بعد میں دریافت کریں کہ آپ اس اصطلاح بلیک فرائیڈے کا اقرار نہيں کرتے، اور یہ کہ یہ بذات خود ایک غلط بات ہے۔ وہ اس لیے کہ یہ ایک طریقے سے اسلام اور پیغمبر اسلام پر طعن ہوگا کہ جمعہ کے (مبارک) دن کو بلیک فرائیڈے کہا جائے۔

لہذا اگر آپ اپنی دکان کو اس دن بند کرتے ہيں تو یہ آپ کے لیے بہترین ہوگا، پھر اس کے بعد آپ کسی بھی اور دن اپنی سیل رکھ سکتے ہیں خواہ  وہ اس دن سے پہلے ہو یا بعد میں، یہی آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔

سائل نے کہا: یا شیخ! ہمارا ایسا کرنا کہيں یہود کے عمل کے مشابہ تو نہيں ہوجائے گا کہ جب اللہ نے انہيں ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا تو انہوں نے اپنے جال جمعہ کو پھینک کر اتوار کو اٹھا لیے (بطور حیلہ)؟

شیخ: نہيں، اللہ تعالی نے یہود کو حکم دیا تھا کہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں، اسی لیے انہوں نے یہ حیلہ سازی کی پس انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ لیکن ہمارے معاملے میں تو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے دین اور اپنے پیغمبراسلام کے لیے  کھڑے ہوں۔

خرید وفروخت، تجارت یا کاروبار  کا مسئلہ یہاں یکساں نہيں ہے۔ حتیٰ کہ یہاں مصر میں بعض دکانیں جب اپنا موسم گرما کا مال نکالنا چاہتی ہيں  تو سیل لگا دیتی ہيں تاکہ وہ آنے والے موسم (سرما) کی تیاری کرسکیں۔

اللہ اعلم۔