Advice to those who make Takfeer of Muslim police and kill them – Shaykh Abdullaah bin Abdur Raheem Al-Bukharee

مسلمان پولیس کی تکفیر اور انہیں قتل کرنے والوں کو نصیحت   

فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحیم البخاری حفظہ اللہ

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ السنۃ ومصادرھا، کلیہ الحدیث الشریف و الدسارات الاسلامیہ، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ضوابط في الرد على المخالف سے ماخوذ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: شیخ ہم آپ سے نصیحت چاہتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو مسلم ممالک کی پولیس (قانون نافذ کرنے والے اداروں) کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں قتل کرتے ہیں؟

جواب: اعوذ باللہ۔ بارک اللہ فیکم اس فعل میں تو دو عظیم جرائم کو جمع کردیا گیا ہے:

پہلا جرم: اس کی تکفیر جس کا اسلام یقینی طور پر ثابت ہے۔ جس کا اسلام یقینی طور پر ثابت ہو تو وہ اس سے بنایقین کے زائل نہیں ہوسکتا۔ یہ جرم ہے۔ خوارج کے ہاتھوں جتنا بھی خون بہانا حلال کیا گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہو یا ان کے بعد آئمہ سنت رحمہم اللہ کا سب اسی تکفیر کی بنیاد پر ہوا۔  بارک اللہ فیکم۔

دوسری غلطی یا دوسری بات یہ ہے کہ: اس تکفیر کے نتیجے میں جو مرتب ہوتا ہے وہ کیاہے؟  وہ ان کے خون کو مباح (اور حلال) جاننا ہے یعنی قتلِ عام کرنا یا ٹارگٹ کلنک کرنا، تو یہ نہایت گھٹیا ونیچ حرکت ہے۔

پس جو لوگ اس قسم کے افعال کرتے ہیں ان پر واجب ہے:

اولاً: اپنے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں اور اپنے افعال کے تعلق سے اللہ تعالی کی پکڑ کو یاد کریں۔

ثانیاً: اس قسم کے افکار، اقوال اور فاسد آراء سے اللہ تعالی کے حضور توبہ کریں جو کہ سنت، علم اور ایمان کے مخالف ہیں۔

ثالثاً: ان پر واجب ہے کہ وہ شریعت الہی کا علم حاصل کریں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔

police_takfeer_qatal_naseeha