A reply to those who justify the Paris attacks with the story of killing the Jew Ka'ab bin Al-Ashraf – Shaykh Abdullaah bin Abdur Raheem Al-Bukhaaree

کعب بن الاشرف یہودی کے قتل کے قصے کو پیرس میں کیے گئےحملےکی دلیل بنانے والوں کو جواب

فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحیم البخاری حفظہ اللہ

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ السنۃ ومصادرھا، کلیہ الحدیث الشریف و الدسارات الاسلامیہ، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: الرد على من يستشهد بقصة مقتل كعب على الاغتيال والقتل الذي حصل في باريس،  تاريخ الفتوى: 08/02/2015۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: یہ سائل کہتا ہے: شیخنا اللہ تعالی آپ کو برکت دے، مغرب میں بعض خوارج کے پیروکار کعب (بن الاشرف یہودی) کے قتل کے قصے کو  جو کچھ پیرس میں قتل وغارت ہوا کی دلیل بناتے ہیں؟

 

جواب: کہاں یہ اور کہاں وہ؟! یہ تو جیساکہ ہم نےآپ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ولایت (حکومت) میں حکم دیا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں اہل ایمان اور یہود کے درمیان معاہدہ کروایا تھا۔ اور اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کو ایذاء دے کر اس معاہدے کو توڑ دیا  تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کے لیے پکارا(کہ کون اسے قتل کرے گا جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دی ہے)۔ جبکہ یہ لوگ تو اس ملک (فرانس)میں اجنبی (غیرملکی) تھے، اور انہیں یہاں رہنے  کے لیے امان دیا گیا تھا پھر ان سے یہ حرکت سرزد ہوئی۔

 

اولاً: وہ لوگ جنہوں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی وہ قتل ہونے کے لائق ہی ہیں او ریہ حق ہے، اللہ تعالی کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہيں، حق تو واقعی ان کا قتل کردینے کا ہے، لیکن کیا یہ طریقہ صحیح طریقہ ہے؟

ہم کہیں گے: نہیں، نہيں، یہ بالکل بھی صحیح طریقہ نہيں ہے، بلکہ یہ تو شر اور فتنہ ہے جس کا وبال الٹا ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر لوٹتا ہے، انہیں ایذاء رسانی کی جاتی ہے اس کے بدلے میں، یعنی مسلمانوں پر فرانس میں، اور خصوصاً یورپی مغربی ممالک میں ، اور عام طور پر مغربی ممالک میں خواہ یورپ کے ہوں یا امریکہ وغیرہ کے۔  اس کے بالکل برعکس نتائج مرتب ہوتے ہیں جو ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، یہ تو ایک بات رہی۔

 

پھر دوسری بات: یہ اہل اسلام کی کردار کشی کا سبب بنتا ہے، بلکہ خود اسلام کی  تصویر کو داغدار کرتا ہے کہ اس کے اہل یعنی مسلمانوں کو اس بدترین صورت میں پیش کرتا ہے جو اس ملک کے کفار چاہتے ہيں، وہ تو ان اسباب کے بغیر بھی اسلام کے خلاف تعصب رکھتے ہیں تو پھر اندازہ کریں کہ اس قسم کے اسباب ان کے ہاتھ لگ جائیں تو کیا کچھ نہیں کریں گے۔

 

چناچہ یہ حرکت اس طرح سے کرنا جائز نہیں کیونکہ بے شک اس میں اسلام اور مسلمانوں پر برائی ومصیبت آتی ہے، یہ فعل جائز نہيں۔ اور میں یہ صراحتاً  کہہ رہاہوں کہ یہ جائز نہیں، کیونکہ بلاشبہ اس کی وجہ سے دنیا کے مختلف کونوں میں رہنے والے مسلمانوں پر برائی اور مصیبت آن پڑتی ہے۔