Relating the Wahabis of Najd to the Hadith mentioning Rising of Devil’s Horn? – Shaykh Muhammd Naasir-ud-Deen al-Albany

کیا شیطانی سینگ سے مراد اہل نجد وہابی لوگ ہیں؟

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: سلسلۃ الھدی والنور کیسٹ رقم 291

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سوال: ایک شخص پوچھتا ہے اور کہتا ہے کہ: ہم وہابیوں کے بارے میں بہت سنتے ہیں اور سنا ہے کہ وہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درودوسلام پڑھنے تک کو ناپسند کرتے ہیں، نہ ہی قبر نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زیارت کرتے ہیں۔ اور بعض مشائخ بتاتے ہیں کہ انہی وہابیوں سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے متنبہ فرمایا تھا (جب آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے شام اور یمن کے لیے برکت کی دعاء کی لیکن نجد کے لیے نہ کی اور) فرمایا: ’’هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ‘‘([1]) (وہاں سے زلزلےاورفتنے ہوں گے اور وہاں سے شیطان کا سینگ ابھرے گا)۔ آپ کا اس کلام پر کیا جواب ہے؟

جواب: نہایت ہی افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا اثر بہت سے مسلمانوں میں راسخ کردیا گیا ہے اور قدیم وقت میں اس پروپیگنڈہ کا مقصد سیاسی ہوا کرتا تھا لیکن اس سیاست کا زمانہ بیت چکا ۔ کیونکہ وہ ترکیوں کی حکومتی سیاسی پالیسی میں سے تھا۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تو بس لوگوں کی صرفِ نظر کرنے کی خاطر ترکیوں کی سیاست تھی، اس وقت جب اہل علم واصلاح میں سے ایک شخص بنام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  بعض نجد کےعلاقوں میں ظاہر ہوا جو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں اخلاص اور شرک کو چھوڑ دینے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ ان شرکیات کو چھوڑنے کی دعوت دیتا تھا کہ جن کے آثار انتہائی افسوس کے ساتھ اب بھی بعض اسلامی ممالک میں قائم ہیں برخلاف اس علاقے سعودی عرب کے کہ جہاں سے یہ مصلح محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  ظاہر ہوا تھا یہاں الحمدللہ اس وقت سے اب تک کسی قسم کے شرک کا وجود نہیں ہے، حالانکہ بہت سے اسلامی ممالک میں یہ وباء عام ہے۔ ابھی حال ہی کی خبر ہے کہ خمینی کی وفات ہوئی اور اس کی قبر کو  کعبہ منتخب کرنے کا اعلان کردیا گیا جس کا ایرانی لوگ حج کرتے ہیں اور یہ خبر کوئی زیادہ عرصے پہلے کی بات نہيں۔ یہ شخص محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  جب نکلے اور صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جانب دعوت دی تو حکمت الہی اس بات کی متقاضی ہوئی کہ انہیں امراءِ نجد میں سے ایک امیر (حاکم) مل گیا یعنی سعود جو کہ موجودہ سعودی شاہی حکومتی خاندان کے جد امجد ہیں۔ پس شیخ نے امیر کے ساتھ تعاون کیا، علم اور تلوار کا تعاون رہا۔ اور اسی تعاون کے ساتھ وہ نجد کے علاقوں میں دعوت توحید کو نشر کرتے رہے۔ کبھی لوگوں کو کلام کے ذریعے دعوت دیتے تو کبھی تلوار کے ذریعے۔ جو کوئی کلام کو مان لیتا تو یہی اصل مطلوب ہے ورنہ پھر اس کا علاج قوت سے کیا جاتا ۔ یہ دعوت اسی طرح سے پھیلتی رہی یہاں تک کہ دوسرے ممالک تک پہنچ گئی۔ یہ بات علم میں رہے کہ اس وقت نجد کے علاقے اور اس کے اردگرد تمام اسلامی ممالک جیسے عراق، اردن وغیرہ آخرتک۔۔۔یہ سب کے سب ترکیوں کی موروثی حکومت کے ماتحت تھے۔ پھر اس شیخ کا نام ان کے علم کی وجہ سے اور اس امیر کا نام اس کی انتظامی امور کی وجہ سے مشہور ہونے لگا تو ترکیوں کو خطرہ لاحق ہوا کہ عالم اسلام میں کوئی ایسی مملکت نہ وجود میں آجائے تو ترکی حکومت کے متصادم ہو۔ تو انہوں نے چاہاکہ  اس کا خاتمہ کردیا جائےلیکن الحمدللہ یہ ابھی تک ان کی دہلیز پر قائم ہے۔ لہذا یہ ان کے خلاف باطل پروپیگنڈہ کرنے میں جیسا کہ ابھی سوال میں ذکر ہوا اور جیسی دوسری باتیں پھیلانے میں مصروف ہیں جنہیں ہم بہت سنتے رہتےہیں۔

میں نے ابھی ابھی یہ بتایا کہ اس کا اساسی سبب سیاسی تھا جو ابھی بیان ہوا، لیکن وہ سیاست اب گزر چکی ہے ہم اب اس کی تاریخی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، مگر جو دوسرا سبب ہے وہ لوگوں کی جہالت ہے، لوگوں کی اس دعوت کی حقیقت سے جہالت۔ اور اس جہل نے مجھے ایک قصہ یاد دلادیا جو میں نے ایک مجلہ میں پڑھا تھا۔ دو لوگ راہ میں چلتے جارہے تھے اور شیخ محمدبن عبدالوہاب رحمہ اللہ  کی دعوت کے بارے میں مناقشہ کررہے تھے جسے وہابیت کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر لوگ جو بولتے ہيں اس کے بارے میں ہی تھوڑا سا سوچ لیں تو صرف یہ نسبت ہی ان کی غلطی کو ان پر واضح کردے گی۔ کیونکہ لفظ وہابیت کی طرف اگر ہم دیکھیں تو یہ کہاں سے مشتق ہے تو ہم پائیں گے کہ یہ الوہاب سے مشتق ہے اور الوہاب (بے حساب عطا کرنے والا) کون ہے؟ وہ تو اللہ تبارک وتعالی ہے۔

پس یہ نسبت تو ایک شرف ہوئی ناکہ بدنامی! لیکن اس پر ہی بس نہیں ایک اور سنگین بہتان لگادیتے ہیں وہ یہ کہ وہابی لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ایمان نہیں رکھتےبلکہ اللہ تعالی پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔ مجھے اس مناقشے نے ا ن دونوں مناقشہ کرنے والوں کی یاد دلادی۔ ایک جاہل دعویٰ کرتا ہے کہ یہ لوگ محض اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ان کا ایمان نہیں۔ یہ صرف لاالہ الا اللہ کہتے ہيں بس۔ ہمارے یہاں شام کا بھی ایک قصہ آپ کو سناؤ۔ کہتے ہيں سعودی سفیر کی گاڑی گزری تو اس پر سعودی جھنڈا لہرا رہا تھاجس میں واضح طور پر لکھا ہوا تھا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اےلوگو! اللہ تعالی سے ڈرو تم کیسے کہتے ہو کہ یہ لوگ اللہ کے علاوہ رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ جبکہ پوری دنیا میں انہی کا واحد پرچم ہے کہ جس پر وہ توحید لکھی ہوئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ہی فرمایا:

’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ‘‘([2])

(مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی نہ دیں۔ اگر وہ یہ کہہ دیں تو انہوں نے اپنی جان اور مال مجھ سے محفوظ کرلیا اور ان کا باقی کا حساب اللہ تعالی کےذمے ہے)۔

اس جماعت کے متعلق تم کیسے ایسی باتیں کرتے ہواور ان پر جھوٹ افتراء کرتے ہو۔ جبکہ ان کا جھنڈا لہرا لہرا کر جو کچھ ان کے دلوں میں ایمان ہے اسے ظاہر کررہا ہے؟

ایک بات تو یہ رہی، دوسری بات جو اس سے بھی بڑی اور اہم ہے وہ یہ کہ اس جھنڈے کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹا ہے یعنی کسی غرض پر مبنی محض نام نہاد دعویٰ ہے وغیرہ۔لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ آج تک پورے امن وامان اور اطمئنان سے ہر سال حج ادا کرتے ہیں۔ یہ امن تو انہیں ترکیوں کے دور میں کبھی نصیب ہی نہیں ہوا کہ جنہوں نے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ برپا کررکھا ہے۔ آپ سب جانتے ہيں ہمارے آباء (باپوں) کے طریقوں میں سے تھا اجداد (دادے) تو دور کی بات رہے کہ حج کے موقع پر لازماً ہر قافلے کے ساتھ ایک لڑنےوالی جماعت کو ساتھ لے جاتے تاکہ حاجیوں کے ان قافلے کو کس سے بچا سکیں؟ راہزنوں لٹیروں سے۔

سبحان اللہ! یہ خطرات اور بدامنی گزرگئی ختم ہوگئی کس سیاست کی وجہ سے؟ اس سیاست کی وجہ سے جسے یہ لوگ آج تک وہابی سیاست کا نام دیتے ہیں۔ اگر ہم فرض کرلیں کہ یہ پرچم جو صحیح ایمان وتوحید ساتھ ہی محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ایمان کے جذبے سے سرشار لہراتا رہتا ہے سب جھوٹ وبہتان ہے، تو کیا آپ یہاں مساجد نہیں پاتے جہاں اللہ تعالی کی عبادت کی جاتی ہےاور اس کے لیے دیگر تمام ممالک کی طرح اذان دی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دیگر ممالک کی بدعات کی طرح اذان کے آگے پیچھے بدعتی الفاظ کا اضافہ نہیں کیا جاتا۔ کیا نہیں کہا جائے گا یہ لوگ سنت کی اتباع میں ایسا کرتے ہیں یا قول رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  جو کہ رسول اسلام اور ہر زمان ومکان میں تمام مخلوقات کے رسول ہیں کی اتباع میں ایسا کرتے ہیں اور یہ سب تو نہیں کیا جاتا مگر سلف کی اتباع میں اور ہر خیر سلف کی اتباع میں ہے اور ہر شر خلف کی ایجاد کردہ بدعتوں میں ہے۔

(بات کی طرف واپس آتے ہیں) آج تک لوگ حج کرتے ہیں اور یہ اذان سنتے ہیں جس میں اللہ تعالی کی وحدانیت اور نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے۔ پھر وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو یاد کرتے ہیں جیسا کہ ہم یاد کرتے ہیں یعنی ان پر درود وسلام بھیجتے ہیں بلکہ شاید ان لوگوں سے زیادہ ہی بھیجتے ہیں جو ان کے خلاف بولتے رہتےہیں کہ یہ وہابی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے محبت نہيں کرتے، اور ان پر درود وسلام نہیں بھیجتے۔ اے بھائیو! اللہ تعالی سے ڈرو اس جھوٹ افتراء کی نفی تو اس جماعت کی حالت اپنے آپ کررہی ہے کہ یہ بہتان باندھا جائے کہ اپنے ملک میں ایسا نہیں کرتے اور بیرون ممالک والوں کی آنکھوں میں محض دھول جھونکتے ہیں۔ نہیں، بلکہ ان کے دل سے امڈ کر یہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پر ایمان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ اور منہج رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر چلنا بنا کسی زیادتی کے لیکن بنا کسی کمی کے میں نہیں کہوں گا کیونکہ نقص ہوجانا تو انسان کی فطرت وطبیعت میں سےہےجس سے چھٹکارا نہیں۔ لیکن جہاں تک عقیدے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی کمی زیادتی نہيں پائی جاتی اسی طرح سے عبادت میں بھی کوئی زیادتی نہيں کرتے ہاں نقص ہوسکتا ہے مثلاً بعض لوگ رات کو لوگوں کے سوتے وقت اٹھ کر تہجد نہيں پڑھتے ہوں، یہ نقص ہے لیکن یہ نقص کسی کے عقیدے کو مخدوش نہیں کرتا، نہ ہی اس کے اسلام کو مخدوش کرتا ہے۔ پس یہ کلمہ ’’وہابیت‘‘ آج تک اس جماعت پر ایک تہمت کے سوا کچھ نہیں جس سے یہ لوگ بری ہیں اسی طرح جیسے ابن یعقوب  (یعنی یوسف علیہ الصلاۃ والسلام) کے خون سے وہ بھیڑیا  بری وپاک تھاجو جھوٹ ان کے بھائیوں نے باندھا تھا۔


[1] رواہ البخاری فی الاستسقاء 1037، وفی الفتن 7094، والترمذی فی المناقب 3953، واحمد 2/118۔ شیخ البانی  رحمہ اللہ  السلسلۃ الصحیحۃ 5/305 میں فرماتے ہیں: (مجھے اس حدیث کی تخریج اور اس کے بعض طرق اور الفاظ کے ذکر کرتے ہوئے یہ استفادہ ہوا کہ بعض بدعتی لوگ جو سنت کے خلاف جنگ کرتے ہيں اور توحید سے منحرف ہیں اس حدیث کو لے کر امام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  جو کہ جزیرۂ عرب میں دعوت توحید کے مجدد تھے پر طعن کرتے ہیں۔ اور اس حدیث کا مصداق انہیں ٹھہراتے ہیں کیونکہ فی زمانہ جو نجد معروف ہے ان کا تعلق اسی ملک سے ہے۔ لیکن وہ اس بات سے جاہل ہیں یا تجاہل عارفانہ برتتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ نجد مراد نہیں بلکہ اس سے مراد عراق ہے جیسا کہ اس حدیث کے اکثر طرق اس پر دلالت کرتے ہیں۔ یہی قول قدیم آئمہ جیسے امام خطابی اور ابن حجر العسقلانی وغیرہ کا ہے۔ اور اس بات سے بھی جاہل ہيں کہ کسی شخص کا کسی مذموم ملک میں ہونا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ وہ شخص خود بھی مذموم ہی ہےاگر وہ شخص بذات خود نیک صالح ہے۔ اور اس کے برعکس کسی شخص کا کسی اچھے ملک میں ہونا اسے نیک نہيں بنادیتا اگر وہ خود برا ہو۔ کتنے ہی فاسق وفاجر قسم کے لوگ مکہ، مدینہ اور شام میں رہتے ہيں۔ اور دوسری طرف بہت سے نیک صالح اور بڑے عالم عراق میں ہوئے ہیں۔اور یہ لوگ  سلمان الفارسی  رضی اللہ عنہ  کے اس قول کے بارے میں کیا حکم لگائیں گے جو انہوں نے  ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ  کو کہا جب انہوں نے ان کو عراق سے شام ہجرت کرجانے کو کہا تو فرمایا: ’’إِنَّ الْأَرْضَ لَا تُقَدِّسُ أَحَدًا، وَإِنَّمَا يُقَدِّسُ الْإِنْسَانَ عَمَلُهُ‘‘ (مؤطا امام مالک بروایۃ یحیی اللیثی 1438) (کوئی زمین کسی انسان کو مقدس نہیں بنادیتی، بلکہ انسان کااپنا عمل اسے مقدس بناتا ہے)۔

[2] رواہ البخاری فی الایمان 25، ومسلم فی الایمان 20/32، وابوداود فی الزکاۃ 1556، وفی الجھاد 2640، والترمذی فی الایمان 2606، 2607، والنسائی فی ا لزکاۃ 2443، وابن ماجہ فی المقدمۃ 71، واحمد 1/19۔

shaytan_sengh_najdi_wahabi