Ruling regarding Keeping Long Hair for Men – Various ‘Ulamaa

مردوں کے لیے لمبے بال رکھنے کا حکم؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


شیخ شمس الحق عظیم آبادی  رحمہ اللہ  عون المعبود شرح سنن ابی داود میں فرماتے ہيں کہ:

جاننا چاہیے کہ انسان کے بالوں کے تین نام ہیں:

الْجُمَّةُ (یہ کاندھوں تک ہوتے ہیں)

الْوَفْرَةُ (یہ کانوں کی لو تک ہوتے ہیں)

اللِّمَّةُ  (کانوں سے نیچے لیکن کاندھوں سے اوپر تک)

بالوں کے متعلق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

” مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ، فَلْيُكْرِمْهُ“([1])

 (جس کے بال ہوں تو وہ انہيں اچھی طرح بنا سنوار کر رکھے)۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بال مبارک کانوں کے لَو تک یا کانوں اور کاندھے کے درمیان تک ہوا کرتے اور جب بہت لمبے ہوجاتے تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اس کی چار چوٹیاں بھی بنالیا کرتے تھے۔

انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:

” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ“([2])

(نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بال مبارک کاندھوں تک پہنچتے تھے)۔

اور ایک دوسری روایت میں فرمایا:

” كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلَا الْجَعْدِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ“([3])

(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بال درمیانہ تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے، اور وہ کانوں اورکاندھوں کے درمیان تک تھے)۔

اورایک روایت میں ہے:

” إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ “([4])

(کانوں کے درمیان تک تھے)۔

اور عائشہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ:

” كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ “([5])

(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بال الوفرۃ سے بڑے اور الجمہ ([6]) سے چھوٹے تھے)۔

اور ام ہانی  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ :

”قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ ضَفَائِرَ “([7])

(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  جب مکہ تشریف لائے تو آپ کی چار چوٹیاں تھیں)۔

البتہ بہت سے علماء کرام اسے عادات میں سے شمار کرتے ہيں ناکہ سنت و عبادات میں سے اس تعلق سے امام ابن عبدالبر  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

ہمارے اس دور میں لمبے بال کوئی نہيں چھوڑتا سوائے فوجیوں کے جن کے کانوں اور گردنوں تک بال ہوتے ہيں جبکہ اہل صلاح و باحیاء و علم والے لوگ ایسا نہیں کرتے یہاں تک کہ ان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بن گئی ہے۔ اور یہ لمبے بال رکھنا  ہمارے یہاں قریب ہے کہ بس بیوقوفوں کی علامت بن کر رہ گئی ہے! اور نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے روایت ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ انہی میں سے ہے یا ان کے ساتھ اٹھایاجائے گا۔ اس بارے میں کہا گیا کہ: جو ان کے افعال میں  مشابہت کرے گا، اور یہ بھی کہا گیا: جو ان  کی شکل و صورت میں مشابہت کرے گا۔ آپ کے لیے یہی مجمل بات کافی ہے کہ صالحین کے طریقے پر چلو خواہ وہ جس حال میں ہوں۔

چنانچہ یہ بال لمبے رکھنا یا انہيں کٹوانا  کسی کو بروز قیامت کوئی فائدہ نہيں دے گا، بدلہ تو بس نیتوں اور اعمال کا ہی ملے گا۔ ہوسکتا ہے کوئی سر منڈا بالو  ں والے سے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کوئی بالوں والا بھی نیک صالح شخص ہو([8])۔

سوال: (مردوں کے لیے) بالوں کو لمبا رکھنے سے متعلق فرمائيں؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ :

اصل میں تو یہ جائز ہے۔ عرب اپنے بال لمبے رکھا کرتے تھے۔ اور نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بھی اپنے بالوں کو لمبا چھوڑ دیتے تھے۔ کبھی وہ آپ کے کاندھوں تک پہنچ جاتے اور کبھی وہ حج و عمرہ میں کاٹے جانے کے اعتبار سے  کم بھی ہوجاتے۔ حج پر پورا سر منڈا دیتے جبکہ عمرے پر بال چھوٹے کروالیتے۔

پس اگر انسان لمبے بال چھوڑتا ہے کسی برے مقصد کے لیے  نہيں جیسے عورتوں کے لیے یا فتنے کے لیےتو اس میں کوئی حرج نہيں۔ لیکن اگر اس کا لمبے بال رکھنا کسی ایسی جگہ یا ملک یا بستی میں ہو  جہاں اس وجہ سے اس پر بری تہمت لگتی ہو یا  اس کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہو تو اسے چاہیے پھر ایسا نہ کرے تاکہ اس پر کسی بری چیز کی تہمت نہ لگے۔ اور اگر وہ عورتوں کے لیے فتنے اور عشق بازی  کے چکر چلاکر لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے ایسا کرتا ہے تو یہ منکر ہوگا۔

اللہ تعالی سے عافیت کا سوال ہے([9])۔

سوال: بہت سے لوگوں نے لمبے بال رکھنا شروع کردیے ہيں یہاں تک کہ مرد و عورت میں لڑکے اور لڑکی میں فرق ہی نہیں  ہوپاتا،  اور دوسری طرف عورتوں نے اپنے بال چھوٹے کرنا شروع کردیے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ مردوں کے لیے لمبے بال رکھنا حرام ہے تو کہتے ہيں کہ بے شک رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اپنے بال چھوٹے نہيں کرتے تھے یہاں تک کہ ان کی چوٹی بنالیتے، کیایہ بات صحیح ہے؟ اور کیا (مردوں کا) لمبے بال رکھنا حرام ہے؟ اور عورتوں کا بال چھوٹے کرنا حرام ہے؟ أفيدونا وفقكم الله.

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمہ اللہ :

اس سوال میں دومسائل ہیں:

1- مردوں کا لمبے بال رکھنا۔

2- عورتوں کا اپنے بال چھوٹے کرنا۔

جہاں تک پہلا مسئلہ ہے تو بے شک سر کے بال لمبے رکھنے میں کوئی حرج نہيں۔ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بال اتنے تھے کہ کبھی کبھار کاندھوں تک پہنچ جاتے۔ چنانچہ اصل یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہيں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ (اس علاقے کی) عادات اور عرف کے ماتحت ہونا چاہیے۔ اگر عرف عام میں یہی عادت  رائج ہوچکی ہے کہ اس طرح سوائے مخصوص گروہ  کے لوگوں کے کوئی نہيں کرتا جو لوگوں کے عرف عام اور عادات میں گھٹیا قسم کےبدمعاش  لوگ ہوں تو پھر اہل مروت کے لیے جائز نہيں کہ اسے اپنائيں یعنی لمبے بال رکھنے کو، کیونکہ لوگوں کے ہاں اور ان کے عادات و عرف عام میں ایسا نہيں کرتے مگر گھٹیا قسم کے بدمعاش لوگ ہی۔

چنانچہ مردوں کے لمبے بال رکھنے کا یہ مسئلہ  ان مباح باتوں میں سے ہے کہ جو لوگوں کے عرف عام اور عادات کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اگر عرف عام میں اس طرح چلتا ہے اور وہاں تمام لوگ شریف و بدمعاش سب ہی میں یہ عام عادت ہو تو پھر کوئی حرج نہيں۔ لیکن اگر نیک بھلے لوگوں میں ایسا نہيں کیا جاتا تو پھر شریف  اور صاحب جاہ معزز لوگوں  کو ایسا نہيں کرنا چاہیے([10])۔

اس کا رد اس طور پر نہيں کیا جاسکتا کہ کوئی کہے بے شک نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  تمام لوگوں سے بڑھ کر عظمت والے اور اشرف ترین تھے اور سب سے بڑھ کر جاہ و مرتبہ رکھتے تھے پھر بھی آپ لمبے بال رکھتے تھے، کیونکہ ہمارے نزدیک لمبے بال رکھنا سنت اور تعبد کے باب میں سے نہيں ہے ، بلکہ یہ تو صرف عرف عام اور عادات کی پیروی کرنے کے باب میں سے ہے(اور اس وقت عرب میں یہ عام رواج تھا)۔ یہ تو رہا پہلے سوال کا جواب۔

جہاں  تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے یعنی عورت کا اپنے سر کے بال چھوٹے کروانا تو بے شک یہ اس صورت میں جائز نہيں ہے اگر  اس میں مردوں کی مشابہت ہو، یا کافر  اور بدمعاش عورتوں  یا ایسوں کی مشابہت ہو جن کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہيں۔

اس میں جو اختلاف ہے اس بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں:

بعض ان میں سے عورت کے بال چھوٹے کرنے کو مطلقاً حرام کہتے ہیں سوائے حج و عمرے کے۔

ان میں سے بعض اسے مکروہ کہتے ہيں اور یہ امام احمد بن حنبل  رحمہ اللہ  کے مذہب میں مشہور ہے۔

جبکہ بعض اسے مباح قرار دیتے ہيں اس شرط کے ساتھ کہ اس میں ان لوگوں سے مشابہت نہیں ہونی چاہیے جن کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا([11])۔


[1] سنن ابی داود 4163 صحیح ابی داود (حسن صحیح)۔

[2] صحیح بخاری 5903، صحیح مسلم 2340۔

[3] صحیح بخاری 5905، صحیح مسلم 2339۔

[4] صحیح مسلم 2340۔

[5] سنن ابی داود 4187، صحیح ابی داود (حسن صحیح)۔

[6] ان الفاظ کی تشریح اوپر گزر چکی ہے۔

[7] سنن الترمذی 1781، صحیح الترمذی (صحیح)۔

[8] التمہید 6/80۔

[9] فتاوى الجامع الكبير حكم إطالة شعر الرأس۔

[10] شیخ  رحمہ اللہ  یہاں مختلف زمانوں اور علاقوں کا اعتبار بیان فرمارہے ہيں جیسا کہ حدیث میں گمراہ فرقے خوارج کی نشانی سر منڈانا بتائی گئی ہے لیکن فی زمانہ تو اسی خارجی تکفیری سوچ رکھنے والے جہادی باغی گروہوں میں اس کے برعکس لمبے بال رکھنا عام بات اور نشانی سا بن گیا ہے، اسی طرح مختلف علاقوں میں اس طرح ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جیسے بہت سے ملنگ صوفی درویش، اسی طرح نشے کے عادی لوگ، یا مختلف کھلاڑی و فنکاروں وگلوکاروں میں یہ عام ہوتا ہے، اور بہت سے علاقوں میں سنت پر چلنے والے بھی اس طرح کے لمبے بال یا زلفیں رکھتے ہيں۔ لہذا ہر عقلمند شخص ان چیزوں کا اندازہ کرسکتا ہے ان شاء اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[11] فتاوی نور علی الدرب کیسٹ رقم 3۔

mardo_lambay_baal_hukm